Thursday , August 17 2017
Home / شہر کی خبریں / اقلیتی پوسٹ میٹرک ہاسٹلس کی زبوں حالی کا حکام کو اعتراف

اقلیتی پوسٹ میٹرک ہاسٹلس کی زبوں حالی کا حکام کو اعتراف

اعظم پورہ اور ملے پلی میں واقع ہاسٹلس کا معائنہ کرنے عہدیداروں کو ہدایت
حیدرآباد ۔ 13۔ جون (سیاست نیوز) حیدرآباد کے 2 اقلیتی پوسٹ میٹرک ہاسٹلس کی زبوں حالی کے بارے میں روزنامہ سیاست نے رپورٹ کی اشاعت پر فوری کارروائی کرتے ہوئے سکریٹری اقلیتی بہبود نے اعظم پورہ اور ملے پلی میں واقع ہاسٹلس کے معائنہ کیلئے عہدیداروں کو روانہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ صحت و صفائی کے انتظامات اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی کو یقینی بنایا جاسکے ۔ انہوں نے ہاسٹلس کی ابتر صورتحال کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے حکومت کو تجویز پیش کی گئی ہے کہ اقلیتی پوسٹ میٹرک اور پری میٹرک ہاسٹلس کو اقامتی اسکولس کا درجہ دیا جائے تاکہ وہاں بہتر سہولتیں حاصل ہوسکے۔ عمر جلیل نے بتایا کہ ریاست میں 20 پری میٹرک اور پوسٹ میٹرک ہاسٹلس ہیں جن میں 15 کارکرد ہیں۔ ان ہاسٹلس میں طلبہ کی تعداد انتہائی کم ہے اور حکومت نے ہاسٹلس کیلئے اسٹاف بھی الاٹ نہیں کیا ہے ۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ بعض ہاسٹلس میں وارڈن تک موجود نہیں۔ طلبہ اپنے میس چارجس کے ذریعہ ضروریات کی تکمیل کر رہے ہیں ۔ ان ہاسٹلس کو اقامتی ہاسٹلس میں تبدیل کرنے کی حکومت کو تجویز پیش کی گئی اور توقع ہے کہ جاریہ سال یا پھر آئندہ سال منظوری حاصل ہوجائے گی جس کے بعد ان ہاسٹلوں میں طلبہ کو تمام تر سہولتیں دستیاب رہیں گی ا ور نگرانی کیلئے اسٹاف بھی موجود رہے گا۔ انہوں نے بتاکہ محکمہ اقلیتی بہبود کے کسی عہدیدار کو روانہ کرتے ہوئے وہ صفائی ، برقی و پانی کی سربراہی کو یقینی بنائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح اقامتی اسکول سوسائٹی کے تحت چلنے والے اسکولوں میں طلبہ کو عصری سہولتیں دستیاب ہیں ، اسی طرح کی سہولتیں ہاسٹلس کے اقلیتی طلبہ کو فراہم کرنا ان کی اولین ترجیح ہے۔

TOPPOPULARRECENT