Sunday , October 22 2017
Home / شہر کی خبریں / اقلیتی کارپوریشن میں ریٹائرڈ عہدیدار کی خدمات کو فوری علحدہ کریں : ڈپٹی چیف منسٹر کی ہدایت

اقلیتی کارپوریشن میں ریٹائرڈ عہدیدار کی خدمات کو فوری علحدہ کریں : ڈپٹی چیف منسٹر کی ہدایت

نام کی تختی کا استعمال بھی غلطی، کارپوریشن میں ڈسپلن شکنی کا سخت نوٹ، صرف او ایس ڈی اقلیتی اسکولس تک محدود
حیدرآباد۔/23اپریل، ( سیاست نیوز) ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے سکریٹری اقلیتی بہبود اور منیجنگ ڈائرکٹر اقلیتی فینانس کارپوریشن کو ہدایت دی کہ وہ کارپوریشن کے ریٹائرڈ عہدیدار کو خدمات سے فوری علحدہ کریں اور انہیں صرف اسکول سوسائٹی کے کام تک محدود رکھیں جس کی انہیں ذمہ داری دی گئی ہے۔ حج ہاوز میں اقامتی اسکولس کی تقریب کے بعد ڈپٹی چیف منسٹر نے کارپوریشن کے ریٹائرڈ جنرل منیجر کی نیم پلیٹ کی برقراری اور انہیں بدستور فائیلوں کے جائزہ کی اجازت کو ڈسپلن شکنی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ وظیفہ پر سبکدوشی کے بعد اسی عہدہ کی طرح  کام نہیں کیا جاسکتا اور اگر ایسا ہورہا ہے تو اسے فوری روکنا چاہیئے۔ انہوں نے ہدایت دی کہ  ریٹائرڈ عہدیدار کی نیم پلیٹ فوری تبدیل کردی جائے کیونکہ چیف منسٹر نے ان کی باز ماموری کی تجویزکو مسترد کردیا ہے۔ سکریٹری اقلیتی بہبود عمر جلیل نے وضاحت کی کہ چیف منسٹر کی جانب سے تجویز مسترد کئے جانے کے بعد ریٹائرڈ عہدیدار کو اسکولس سوسائٹی میں او ایس ڈی مقرر کیا گیا اور اگر وہ پرانے عہدہ کی نیم پلیٹ اور اختیارات کے ساتھ کام کررہے ہیں تو یہ  غلط ہے اس کی اصلاح ہونی چاہیئے۔ ایک مرحلہ پر منیجنگ ڈائرکٹر کارپوریشن شفیع اللہ نے کہا کہ کارپوریشن کمپنیز ایکٹ کے تحت ہے اور اسے ہر فیصلہ کیلئے حکومت کی اجازت کی ضرورت نہیں۔ پھر بھی کارپوریشن نے اپنے فیصلہ سے حکومت کو واقف کرایا۔ اس مرحلہ پر ڈپٹی چیف منسٹر اور سکریٹری اقلیتی بہبود نے منیجنگ ڈائرکٹر کی رائے سے اختلاف کیا اور کہا کہ ہر ادارہ سے بالاتر حکومت ہوتی ہے اور کوئی بھی ادارہ خود کو خودمختار تصور نہ کرے۔ عمر جلیل نے اس بات کی وضاحت بھی کردی کہ ریٹائرڈ عہدیدار کا اب کارپوریشن سے تعلق باقی نہیں رہا۔ انہیں صرف سوسائٹی میں کام کرنا ہوگا۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے ان کے پرانے شہر میں واقع دفتر کی مثال پیش کی جہاں انہوں نے تلنگانہ تحریک کے دوران کے سی آر کی نیم پلیٹ کے ساتھ چیمبر قائم کیا تھا لیکن چیف منسٹر بنتے ہی نیم پلیٹ کو نکال دیا گیا کیونکہ چیف منسٹر کا آفس سکریٹریٹ یا کیمپ آفس میں ہوتا ہے ہر جگہ نہیں۔ اس موقع پر ڈائرکٹر جنرل اینٹی کرپشن بیورو اے کے خاں بھی موجود تھے جو اسکولس سوسائٹی کے صدر بھی ہیں۔ انہوں نے بھی کارپوریشن میں جاری اس ڈسپلن شکنی کا نوٹ لیا۔ قبل ازیں تقریب میں مقامی جماعت کے رکن اسمبلی نے تقریر میں یہ اعتراف کیا کہ ڈائرکٹر اقلیتی بہبود جلال الدین اکبر کے تبادلہ کیلئے ان کی پارٹی ذمہ دار ہے اور ان کی پارٹی نے ہی کارپوریشن کے ریٹائرڈ عہدیدار کی باز ماموری کی سفارش کی تھی۔ رکن اسمبلی نے یہ بھی اعتراف کیا کہ چیف منسٹر نے دوبارہ اسی عہدہ پر بازماموری کے بجائے اسکولس سوسائٹی میں ملازمت فراہم کی ہے۔ وہ یہ تاثر دینا چاہتے تھے کہ ان کی پارٹی جس عہدیدار کو چاہے رکھ سکتی ہے اور جسے چاہے نکال سکتی ہے۔ اسٹیج پر موجود افراد اور سامعین  یہ سوچ کر حیرت میں تھے کہ ایک ایماندار اور دیانتدار عہدیدار کو حکومت پر دباؤ کے ذریعہ ہٹادیا گیا جبکہ ایسے شخص کی تائید کی گئی جس پر کئی الزامات ہیں اور ایک سنگین مسئلہ ہائی کورٹ میں زیر دوران ہے۔

TOPPOPULARRECENT