Wednesday , August 23 2017
Home / شہر کی خبریں / اقلیتی کالجس میں حکومت کی ہدایت نظر انداز

اقلیتی کالجس میں حکومت کی ہدایت نظر انداز

ہزارہا طلبہ کو سرٹیفیکٹس کی اجرائی سے انکار ، فیس ری ایمبرسمنٹ اصل وجہ
حیدرآباد۔/11ڈسمبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ کے اقلیتی کالجس پر حکومت کے اقدامات کا کوئی اثر دکھائی نہیں دیتا۔ کالجس محکمہ اقلیتی بہبود کے احکامات کو نظرانداز کرتے ہوئے ہزاروں طلبہ کے سرٹیفکیٹس کو جاری کرنے سے انکار کررہے ہیں۔ واضح رہے کہ حکومت کی جانب سے 2013-14اور 2014-15 کے فیس ری ایمبرسمنٹ کے بقایا جات کا تقریباً 50فیصد حصہ ابھی جاری نہیں کیا گیا جس کے نتیجہ میں پیشہ ورانہ کورسیس کے اداروں نے طلبہ کو سرٹیفکیٹس جاری کرنے سے انکار کردیا۔ گزشتہ ہفتہ سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل نے باقاعدہ نوٹس جاری کرتے ہوئے کالجس کو انتباہ دیا کہ اگر وہ سرٹیفکیٹس جاری نہیں کریں گے تو ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر آفیسرس کے ذریعہ روانہ کی گئی نوٹس میں کہا گیا ہے کہ حکومت بہت جلد فیس باز ادائیگی کے بقایا جات جاری کردے گی۔ لہذا کالجس کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ طلبہ کے سرٹیفکیٹس روک دے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس نوٹس کا کالجس انتظامیہ پر کوئی اثر نہیں ہوا اور وہ فیس باز ادائیگی کے بقایا جات کی وصولی تک سرٹیفکیٹ کی اجرائی سے انکار کررہے ہیں۔ کالجس کا کہنا ہے کہ اگر طلبہ تعلیمی فیس ادا کرتے ہیں تو وہ سرٹیفکیٹس جاری کردیں گے اور حکومت سے رقم ملنے کے بعد اسے طلبہ کو واپس کرنے کیلئے تیار ہیں۔ کئی کالجس نے اس سلسلہ میں باقاعدہ نوٹس بورڈ پر وضاحت کردی ہے۔ مختلف کورسیس کے ہزاروں طلبہ کورس کی تکمیل کے باوجود کئی ماہ سے کالجس کے چکر کاٹ کررہے ہیں کیونکہ سرٹیفکیٹس کے بغیر وہ دیگر کورسیس میں داخلہ یا پھر ملازمت کیلئے درخواست نہیں دے سکتے۔ طلبہ نے شکایت کی کہ گزشتہ چھ ماہ سے حکومت اور کالجس انتظامیہ کے درمیان تال میل کی کمی کا اثر ان کے تعلیمی مستقبل پر پڑ رہا ہے۔ طلبہ اور اولیائے طلبہ نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ جلد از جلد اس مسئلہ کی یکسوئی کرے۔ ایک طرف حکومت بجٹ کی اجرائی کا دعویٰ کررہی ہے تو دوسری طرف کالجس کا کہنا ہے کہ دو سال کے بقایا جات جاری نہیں کئے گئے جس کے نتیجہ میں وہ مالی بحران کا شکار ہیں۔ بیشتر کالجس بینکوں سے قرض حاصل کرکے کالج چلارہے ہیں اور فیس کی عدم اجرائی سے ان پر سود کی رقم کا بوجھ دن بہ دن بڑھ رہا ہے۔

TOPPOPULARRECENT