Sunday , August 20 2017
Home / دنیا / اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کا آئندہ ہفتہ اہم ترین اجلاس

اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کا آئندہ ہفتہ اہم ترین اجلاس

وزیراعظم نریندر مودی کی 23 ستمبر کو نیویارک آمد، زائد از 150 سربراہان مملکت اور قائدین کی شرکت
28 ستمبر کو اوباما سے بات چیت، سلامتی کونسل اصلاحات، دہشت گردی اور موسمی تغیر ایجنڈہ میں شامل
نیویارک ۔ 18 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے آئندہ ہفتہ منعقد شدنی سیشن میں ہندوستان سلامتی کونسل اصلاحات، امن برادری، دہشت گردی، موسمی تغیر اور ترقیات جیسے اہم موضوعات پر زائد توجہ مرکوز کرے گا۔ وزیراعظم نریندر مودی جو 23 ستمبر کو یہاں پہنچ رہے ہیں، اقوام متحدہ سکریٹری جنرل بان کی مون کی میزبانی میں پائیدار ترقیاتی چوٹی اجلاس سے بھی خطاب کریں گے اور اسی وقت مابعد 2015ء کا ترقیاتی ایجنڈہ بھی اخذ کیا جائے گا۔ سمجھا جارہا ہیکہ اقوام متحدہ میں اپنی نوعیت کا یہ ایک اعظم ترین اجتماع ہوگا جبکہ پائیدار ترقیاتی چوٹی اجلاس میں زائد از 150 عالمی سربراہان مملکت اور قائدین شرکت کریں گے۔ 25 ستمبر کو پوپ فرانسیس بھی جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے۔ اقوام متحدہ میں ہندوستان کے مستقل نمائندہ اشوک مکرجی نے دریں اثناء اخباری نمائندوں کو بتایا کہ نریندر مودی 25 ستمبر کی صبح کو چوٹی اجلاس سے خطاب کریں گے۔ مسٹر مکرجی نے کہا کہ وزیراعظم ترقیاتی ایجنڈہ کو بہت زیادہ اہمیت دیتے ہیں جبکہ ان کی تقریر 2030ء کے ایجنڈہ پر مرکوز ہوگی۔ انہوں نے جنرل اسمبلی کے 70 ویں اجلاس میں ہندوستان کی ترجیحات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان امن برادری، سلامتی کونسل اصلاحات، دہشت گردی اور موسمی تغیر پر زیادہ توجہ مرکوز کرے گا۔ نریندرمودی بعدازاں 26، 27 ستمبر کو ویسٹ کوسٹ روانہ ہوں گے جہاں وہ سان فرانسسکو کا دورہ کریں گے اور 28 ستمبر کو نیویارک واپس آجائیں گے اور یہی وہ وقت ہوگا جب وہ صدر امریکہ بارک اوباما سے دورخی تعلقات کے موضوع پر ملاقات کریں گے کیونکہ اوباما اسی روز شہر میں عام مباحثہ کے افتتاح کے موقع پر موجود ہوں گے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اصلاحات کے موضوع پر بات کرتے ہوئے مسٹر مکرجی نے کہا کہ ہم دراصل نومبر کے اوائل کے ایام کا انتظار کررہے ہیں جب جنرل اسمبلی اس ایجنڈہ کو اخذ کرے گی اور ہم بات چیت کا آغاز کریں گے۔

 

ہندوستان کا مقصد سلامتی کونسل اصلاحات کے موضوع کو وسیع تر کرنا ہے۔ وزیرخارجہ ہند سشماسوراج یکم ؍ اکٹوبر کو ’’عام مباحثہ‘‘ کے صبح منعقد ہونے والے سیشن سے خطاب کریں گی۔ عالمی مجالس کے ہیڈکوارٹرس 28 ستمبر کو دوسرے امن بردار اجلاس سے بھی نریندر مودی خطاب کریں گے۔ ان کے علاوہ صدر امریکہ اوباما اور سکریٹری جنرل بان کی مون بھی مخاطبت کرنے والوں میں شامل ہیں۔ مسٹر مکرجی نے البتہ مودی اور اوباما کی ملاقات اور بات چیت کی تفصیلات فراہم نہیں کی اور نہ ہی یہ بتایا کہ آیا اس اجلاس کے پس منظر میں ہندوستانی اور پاکستانی قائدین کی ملاقات ہوگی یا نہیں۔ جب مسٹر مکرجی سے یہ پوچھا گیا کہ پاکستان کے قومی سلامتی مشیر سرتاج عزیز اقوام متحدہ میں کشمیر کا موضوع زیربحث لانے کا منصوبہ بنا رہے ہیں تو مسٹر مکرجی نے کہا کہ یہ ان کی (سرتاج) مرضی ہے جو چاہیں کریں اور جب وہ جو چاہیں سو کریں گے تو ہم بھی سوچیں گے کہ ہمیں کیا کرنا ہے۔ ہندوستان جن دیگر موضوعات کو پیش کرنے کا ارادہ رکھتا ہے ان میں بین الاقوامی امن و سیکوریٹی، انسانی حقوق اور ترک اسلحہ شامل ہیں۔ مسٹر مکرجی نے کہا کہ وزیر ماحولیات پرکاش جواڈیکر جاریہ ماہ کے اواخر میں یہاں پہنچ رہے ہیں جہاں وہ ایک اعلیٰ سطحی موسمی تغیر اجلاس میں شرکت کریں گے۔

TOPPOPULARRECENT