Thursday , September 21 2017
Home / اداریہ / اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی قرارداد

اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی قرارداد

گرمیٔ گفتارِ اعضائے مجالس، الاماں!
یہ بھی اک سرمایہ داروں کی ہے جنگِ زرگری
اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی قرارداد
اقوام متحدہ سلامتی کونسل نے فلسطینی سرزمین پر اسرائیلی آبادیوں کے قیام کے خلاف قرارداد منظور کر کے موافق امن قدم اٹھایا ہے ۔ امریکہ نے اپنے ویٹو اختیارات کا استعمال نہیں کیا ۔ سلامتی کونسل کے 15 رکن ممالک میں سے 14 نے قرارداد کی حمایت میں ووٹ ڈالا امریکہ اس رائے دہی سے غیر حاضر رہا ۔ سلامتی کونسل کے رکن ممالک نے خاص کر مصر نے یہ قرارداد پیش کی ۔نئے امریکی منتخب صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی مداخلت کے بعد اس نے اپنی قرارداد کو موخر کر دیا تھا ۔ مگر نیوزی لینڈ ‘ ملایشیاء ‘ وینزویلا اور سینگال نے ہمت کا مظاہرہ کرکے قراردار کو دوبارہ پیش کیا اور اسے منظور کروانے میں اہم کردار ادا کیا ۔ یہ قرارداد بلاشبہ ایک اہم پیشرفت ہے ۔ فلسطینی سرزمین پر فلسطینیوں کے حقوق کو سلب کر کے بستیاں بنانے اور توسیع پسندانہ عزائم کو روکنے عالمی سطح پر ضروری تھا یہ قرارداد ایک عالمی فتح ہے ۔ یہودی طاقتور لابی کی شکست کو یقینی بنانے کے لئے ضروری ہے کہ اس قرارداد کے مطابق مشرق وسطی میں جاری اسرائیلی سرگرمیوں کو روک دیا جائے۔ فلسطین میں غیر قانونی یہودی بستیوں کے قیام کا سلسلہ روک دیا جاتا ہے تو ایک اہم تبدیلی ہوگی ۔ عرب لیگ کے بشمول کئی عرب و مسلم دنیا کے ارکان نے خیرمقدم کیا ہے ۔ عرب لیگ کے سکریٹری جنرل احمد ابو الغیط نے عالمی برادری کی اس جراتمندی کو درست سمت میں اہم کوشش قرار دیا ۔ سلامتی کونسل کی یہ تاریخی قرارداد فلسطینی عزائم کی آزادی کے لئے عالمی جدوجہد کے لئے راہ ہموار کرے گی ۔ قرارداد کو 14 ملکوں کی حمایت حاصل ہونا بھی عالمی تبدیلی کا مظہر ہے ۔ تمام ممالک مشرق وسطی میں امن چاہتے ہیں اور اسرائیل کے ناپاک عزائم اور قابض پالیسیوں کو مسترد کرتے ہیں ۔ فلسطینیوں کو ان کے دیرینہ حقوق فراہم کرنے کے لئے عالمی طاقتوں کی جانب سے اٹھائی گئی اس آواز کو مزید مضبوط اور موثر بنانے کی ضرورت ہوگی ۔ یہ قرارداد بلاشبہ فلسطینی مملکت کے قیام اور بیت المقدس کو اس کا دارالحکومت بنائے جانے کی جدوجہد کو آگے بڑھانے میں ایک نئی جیت ہوگی ۔ اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی اس قرارداد سے اسرائیلی حکومت کو یہ سبق تو ملنا چاہئے کہ اس کی من مانی نہیں چل سکتی مگر اس سلسلہ میں افسوس اس بات کا ہوتا ہے کہ اقوام متحدہ کے اکثر موقعوں پر یہودی طاقت کے سامنے بے بسی کا بھی مظاہرہ کیا ہے ۔ یہودی طاقت یہی کوشش کرے گی کہ اقوام متحدہ کی یہ قرارداد کامیاب نہ ہو ۔ وزیراعظم اسرائیل بنجامن نیتن یاہو نے قرارداد کو مسترد کر کے اپنی نیت بھی آشکار کردی ہے ۔ اگر اسرائیل اس قرارداد کی شرائط پر عمل نہیں کرے گا تو اس کے خلاف دوسرا قدم کیا ہونا چاہے یہ غور کرنا بھی ضروری ہوگا ۔ اسرائیل اور امریکی نو منتخب صدر ڈونالڈ ٹرمپ دونوں مل کر اگر اس قرارداد کو کمزور کرنے کی کی کوشش کریں تو اس کوشش کا جواب دینے کے لئے عالمی ادارہ کو تیار رہنے کی ضرورت ہوگی ۔ قرارداد کی سختیوں کو قبول کرنے سے انکار کرنے والی یہودی قیادت کچھ بھی کرسکتی ہے ۔ یہ پہلا موقعہ نہیں ہے کہ اسرائیل کی جانب سے تعمیر کردہ یہودی بستیوں کو غیر قانونی قرار دیا گیا ہو ۔ 1967 سے یہاں یہودی بستیوں کے قیام کی کوشش ہو رہی ہیں جن میں بتدریج اسرائیل  کامیاب ہو رہا ہے ۔ لیکن اقوام متحدہ اپنی قراردادوں پر موثر عمل آوری میں ناکام ہے ۔ اس وجہ سے برسوں سے یہودی بستیوں کے قیام کو جاری رکھ کر غیر قانونی عوامل کو درست قرار دے کر عالمی اداروں کو ایک چیالنج بنا ہوا ہے تو ایسے چیلنج کا موثر جواب دینے کی مضبوط کوشش نہیں جاتی ۔ نتیجہ میں قراردادوں کی منظوری محض ایک کاغذی کارروائی بن کر رہ جاتی ہے ۔ فلسطینی علاقوں میں غیر قانونی یہودی بستیوں کی تعمیر و توسیع کا سلسلہ فوری بند کر دینا اور اب تک کی منظورہ قراردادوں کو روبہ عمل لانے کو یقینی بنانا مشرق وسطی میں قیام امن کی جانب ٹھوس پیشرفت ثابت ہوگی ۔ 1980 میں اقوام متحدہ سلامتی کونسل نے قرارداد نمبر 478 منظور کی تھی جس کی رائے دہی سے امریکہ غیر حاضر رہا تھا ۔ جن ملکوں نے اس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا تھا انہیں اسرائیل نے ساتھ اپنے تعلقات منقطع کرلینے پڑے تھے ۔ یروشلم میں کسی بھی بیرونی سفارتخانہ کے قیام کی اجازت نہیں دی گئی تھی ۔ یہ اسرائیل ایک ایسی حقائق پر مبنی داداگری ہے جس کو نظرانداز کرنے کی وجہ سے وہ دن بہ دن قوی ہوتا جا رہا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT