Wednesday , August 16 2017
Home / دنیا / اقوام متحدہ کو بلیک لسٹ معاملے پر دھمکانے کی تردید‘ سعودی عرب

اقوام متحدہ کو بلیک لسٹ معاملے پر دھمکانے کی تردید‘ سعودی عرب

اقوام متحدہ ۔ 10 جون (سیاست ڈاٹ کام) سعودی عرب نے اس امر کی تردید کی ہے کہ اس نے اقوام متحدہ پر دباؤ ڈالنے کی غرض سے انسانی امداد میں کٹوتی کی کوئی دھمکی دی ہے تاکہ سعودی عرب کی قیادت میں اتحاد کا نام بچوں کے حقوق کی خلاف ورزیوں کے مرتکب ممالک اور گروپوں کی فہرست سے نکلوایا جاسکے۔ اقوام متحدہ میں متعیّن سعودی عرب کے سفیر عبداللہ المعلمی نے کہا ہے کہ ‘ہم دھمکیوں یا دھونس کو استعمال نہیں کرتے ہیں اور ہم نے فنڈنگ سے متعلق بھی کوئی بات نہیں کی ‘۔ انھوں نے کہا کہ اقوام متحدہ سیکریٹری جنرل بانکی مون نے سعودی کی وضاحت کا غلط مطلب لیا ہے اور انھوں نے اس کو ایک دھمکی سمجھا ہے۔”میں آپ کو یقین دلانا چاہتاہوں کہ ڈرانا ،دھمکانا ہمارا طرزعمل اور ثقافت نہیں ہے۔ہم اقوام متحدہ کے اداروں ،اس کے سیکریٹریٹ کا بہت احترام کرتے ہیں اور یقینی طور پر بانکی مون کا بھی احترام کرتے ہیں”۔ عبداللہ المعلمی نے اس بات کی تردید کی کہ ان کی حکومت نے اقوام متحدہ پر فیصلہ واپس لینے کے لیے دباؤ ڈالا ہے اور انسانی امداد کی شکل میں دیے جانے والے کروڑوں ڈالرز روک لینے کی دھمکی دی تھی۔ انھوں نے کہا کہ سعودی عرب اقوام متحدہ کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے پْرعزم ہے اور وہ عالمی ادارے کے ساتھ اپنے تعلقات منقطع نہیں کرسکتا کیونکہ وہ اس کے بانی ارکان میں سے ایک ہے۔ قبل ازیں سلامتی کونسل میں متعیّن ایک سفارت کار نے کہا تھا کہ سعودیوں نے بانکی مون پر فیصلہ تبدیل کرانے کے لیے اپنے حامیوں کے ذریعے بہت زیادہ دباؤ ڈلوایا ہے اور انھوں نے خاص طور پر اقوام متحدہ کے تحت فلسطینیوں کی امدادی ایجنسی انروا کو دی جانے والی رقوم بند کرنے کی دھمکی دی تھی۔

TOPPOPULARRECENT