Wednesday , September 20 2017
Home / دنیا / اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے نواز شریف کے خطاب سے پہلے سرتاج عزیز نے کشمیر کا مسئلہ اُٹھایا

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے نواز شریف کے خطاب سے پہلے سرتاج عزیز نے کشمیر کا مسئلہ اُٹھایا

نیویارک ۔30 ستمبر ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) وزیراعظم نواز شریف کے اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی سے خطاب سے قبل پاکستان نے الزام عائد کیا کہ ہندوستان جنگ بندی کی خلاف ورزیاں کررہا ہے ، جموں و کشمیر میں فرضی انتخابات منعقد کررہا ہے اورمشیران قومی سلامتی سطح کے مذاکرات منسوخ کرنے کی ذمہ داری پاکستان پر عائد کررہا ہے ۔ مشیر قومی سلامتی پاکستان سرتاج عزیز نے کہا کہ پاکستان ہندوستان کے ساتھ کسی بھی سطح پر بات چیت کے لئے تیار ہے اور کوئی پیشگی شرائط عائد نہیں کرے گا ۔ اس کا مقصد صرف دیرینہ مسائل بشمول مسئلہ کشمیر کی یکسوئی ہے ۔ وہ تنظیم اسلامی تعاون کے ایک اجلاس سے خطاب کررہے تھے ۔ انھوں نے کہاکہ ہندوستان نے بلااشتعال اور اندھا دھند جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے ۔ خط قبضہ اور بین الاقوامی سرحد پر فائرنگ کی گئی ہے۔ انھوں نے ان واقعات کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ۔ انھوں نے کہا کہ ہم تنظیم اسلامی تعاون کے رابطہ گروپ پر زور دیتے ہیں کہ وہ ہندوستان کو جنگ بندی کی خلاف ورزیوں سے باز آجانے کیلئے کہیں کیونکہ یہ علاقائی امن کیلئے خطرہ بن گئی ہیں۔

 

کشمیر میں استصواب عامہ پر زور دیتے ہوئے سرتاج عزیز نے کہاکہ ہندوستان جموں و کشمیر میں فرضی رائے دہی منعقد کرنے کو جاری رکھے ہوئے ہے ۔ فوج کی موجودگی میں رائے دہی کروائی جاتی ہے ۔ انھوں نے ہندوستان پر الزام عائد کیا کہ وہ کشمیریوں کی جدوجہد کو بے رحمی سے کچل رہا ہے اور ریاست کے آبادیاتی توازن کو تبدیل کرنا چاہتا ہے ۔ گزشتہ ماہ مشیران قومی سلامتی سطح کے مذاکرات کی تنسیخ پر سرتاج عزیز نے کہاکہ ہندوستان نے پیشگی شرائط عائد کی تھیں اور اصرار کیا تھا کہ مسئلہ کشمیر کو موضوعات گفتگو میں شامل نہ کیا جائے ۔ اُس نے پاکستان کے حریت قائدین سے تبادلۂ خیال پر بھی اعتراض کیا تھا ۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان پیشگی شرائط عائد کئے بغیر کسی بھی سطح پر ہندوستان سے بات چیت کیلئے تیار ہے تاکہ ایک دوسرے کے اندیشوں کا ازالہ کیا جاسکے اور تمام دیرینہ مسئائل کی یکسوئی کرتے ہوئے خاص طورپر جموں و کشمیر کے تنازعہ کی یکسوئی کرتے ہوئے پائیدار امن قائم کیا جاسکے ۔ سرتاج عزیز نے کہاکہ پاکستان ہندوستان کے ساتھ روابط کی تائید کرتا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT