Tuesday , October 24 2017
Home / مضامین / الحاج محمد علاؤالدین انصاری کے سانحہ ارتحال پر انصاری کہاں ہو تم…؟

الحاج محمد علاؤالدین انصاری کے سانحہ ارتحال پر انصاری کہاں ہو تم…؟

محمد عثمان شہید ایڈوکیٹ
خیالات میں تلاطم برپا ہے۔ قلم کانپ رہا ہے۔ انگلیاں شدت جذبات سے متاثر ہوکر قلم تھامنے سے قاصر ہیں۔ الفاظ آنسوؤں میں غسل کررہے ہیں۔ آنسو ہیں کہ آنکھ کی دہلیز تیزی سے پار کرکے دامنِ قرطاس کو تر کررہے ہیں۔ کوئی لفظ بن نہیں پارہا ہے۔ کلیجہ منہ کو آرہا ہے۔ سسکیاں لبوں کے دروازے توڑ کر باہر آرہی ہیں۔ وہ چیخوں کا پیرہن اوڑھے میرے گھر کی خاموش فضاء کو چیر دینا چاہتی ہیں۔ میں کیا کروں؟ … میں کیا کروں؟ … بمشکل صبر کا پتھر دل پر رکھ کر یہ جملہ ضبط تحریر میں لارہا ہوں کہ میرے ہمسفر، ہمرکاب، ہم پیالہ و ہم نوالہ، راہ و منزل کے رفیق، میرے دوست، میرے ہمدم، میرے ناصح، میرے ناقد، میرے صلاح کار، میرے دست و بازو علاؤ الدین انصاری ایڈوکیٹ کا چراغ حیات، شاہراۂ حیات پر اپنی ضیاء پاشیوں سے دوسروں کو راستہ بتانے والا سحر ہوتے ہوتے ہمیشہ کے لئے گُل ہوچکا ہے۔
ہمیشہ کی طرح عدالت جانے سے قبل جب میں نے فون سے انصاری سے رابطہ پیدا کرنے کی کوشش کی تو کسی نے فون اٹھالیا۔ میں نے بے تابی سے پوچھا۔ انصاری صاحب کہاں ہیں، عدالت جانا ہے۔ تو کسی نے کہا۔ انصاری صاحب کا انتقال ہوچکا ہے۔
جواب کیا تھا ایک خنجر تھا کہ دل کو چیر گیا۔ تیزاب کا اثر رکھتا تھا کہ میں کچھ دیر کے لئے اندھا ہوگیا۔ فالج کا حملہ تھا میرے ہوش و حواس معطل ہوگئے۔ ہاتھ پاؤں میں لرزہ طاری ہوگیا۔
ہائے موت کے گلچیں نے ٹہنیٔ حیات سے کیسے خوشبو بداماں پھول کو توڑ لیا۔ آسمان حیات سے ایک اور تارہ ٹوٹ گیا جو ہمارے لئے رہنمائی کا کام انجام دے رہا تھا۔ ایک چراغ خلوص تھا جو محفل میں خود جل کر دوسروں کی رہنمائی کررہا تھا۔ بجھ گیا۔ وہ وقت کی گود سے نکلا ہوا ایک ایسا سیپی تھا جس کی خوبصورتی محفل احباب کی خوبصورتی کی ضامن تھی۔
میں جب بھی کوئی مضمون لکھتا یا پریس نوٹ تیار کرتا انصاری کے نقطہ نواز کرتا۔ ان کی رائے لیتا۔ آل انڈیا مسلم فرنٹ کی ہم دونوں نے مل کر بنیاد رکھی۔ اس کے نائب صدر کی حیثیت سے انھوں نے ناقابل فراموش خدمات انجام دیں۔ وہ میرے دست راست تھے۔
انصاری دینی مزاج رکھتے تھے۔ میاں بیوی کے اختلافات کو سلجھانے میں انھوں نے اہم کردار ادا کیا۔ کئی ناراض جوڑوں کو ازسرنو خوشحال ازدواجی زندگی گزارنے کے لئے راضی کیا۔ یہ جوڑے آج بھی انصاری کے لئے دعا گو ہیں۔وہ اخبار سیاست کے تحت کارکرد ادارہ ’’ایم ڈی ایف‘‘ کے بحیثیت صدر عرصہ تک بے لوث خدمات انجام دیں۔انڈین نیشنل لیگ کے جنرل سکریٹری کی کرسی ایک عرصہ تک انصاری کے وجود کے لئے ترستی رہے گی۔انصاری ملت کے لئے ایک دردمند دل رکھتے تھے۔ اکثر مسلمانوں کی موجودہ حالت زار پر اشک شوئی کرتے تھے۔ ان کا دل مسلمانوں کی بے حسی پر کڑھتا تھا۔
اپنی حیات کے آخری دنوں میں وہ دنیا سے بیزار ہوگئے تھے۔ اپنے ماحول سے بددل ہوگئے تھے۔ وہ اپنوں سے ناراض تھے۔ اپنوں کی بے حسی یاد کرکے اکثر رو پڑتے تھے۔ شاید اسی لئے وہ اندر سے ٹوٹ سے گئے تھے۔ ہماری محبت کا مرہم ان کے درد کا درماں نہ بن سکا۔ ڈاکٹروں کی مسلسل وارننگ کے باوجود انھوں نے وقت پر دوا نہیں لی۔ دانستہ اپنی صحت سے لاپرواہی برتتے رہے۔ اور بالآخر۔ آہ انصاری تم نے کیا غضب کیا۔ کوئی ایسا اپنوں سے ناراض ہوکر دنیا سے منہ موڑ لیتا ہے!؟ تم نے ہماری بزم سُونی کردی۔ وہ محفل جو ہم نے مل کر سجائی تھی آج بے چراغ ہے۔ وہ پودا جو ہم مل کر سینچ رہے تھے اب سوکھ گیا ہے۔ اس کی آبیاری کرنے والا کوئی نہیں۔ اس کی پتیاں زرد ہوگئی ہیں۔ انصاری مسلم فرنٹ جس کے پلیٹ فارم سے ہم نے مسلمانوں کی غیرت و حمیت ملی کو بیدار کرنے کا منصوبہ بنایا تھا آج سوگیا ہے۔
انصاری تمہارے دوست احباب چاہنے والے خصوصاً تمہاری بیٹیاں تمہاری اچانک رحلت سے دل برداشتہ ہیں۔ سبھی تمہاری مغفرت کے لئے دعاگو ہیں۔ اب تمہاری واپسی ناممکن ہے۔ اگر ممکن ہوتی تو آج کی دنیا میں سب سے پہلے اپنے آقائے دو جہاں ﷺ آمنہ کے لال، بی بی خدیجہؓ کے سرتاج، بی بی فاطمہؓ کے بابا جانؐ کی واپسی کے لئے دعا کرتے تاکہ ایک بار پھر مسلمان باوقار طریقے پر باعزت زندگی گزارے۔ آج کے ہر نمرود، ہر فرعون، ہر شداد کا سر کچل دیتے تاکہ کوئی آپ ﷺ کی شریعت کو چیلنج کرنے والا باقی نہ رہے۔

TOPPOPULARRECENT