Tuesday , June 27 2017
Home / عرب دنیا / القاعدہ کے میزبان ممالک داعش کو بھی پناہ دے سکتے ہیں: سعودی عرب

القاعدہ کے میزبان ممالک داعش کو بھی پناہ دے سکتے ہیں: سعودی عرب

ریاض ۔ 17فبروری (سیاست ڈاٹ کام) سعودی وزارت داخلہ کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل منصور الترکی نے گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ القاعدہ تنظیم کو نشانہ بنائے جانے کے بعد جن ممالک نے اس کی قیادت اور ارکان کو پناہ دی وہ اب اتحادی افواج کی کاری ضربوں کے نتیجے میں عراق اور شام سے فرار اختیار کرنے والے داعش کے ارکان کو بھی پناہ دے سکتے ہیں۔منصور الترکی کے نزدیک عراق اور شام میں داعش پر کاری ضربیں اس کو سوشل میڈیا کے ذریعے ارکان کی بھرتی اور اپنے افکار و نظریات پھیلانے سے نہیں روک سکیں گی۔ ان دونوں ممالک میں تنظیم پر قابو پانے کے بعد بھی اس کا خطرہ برقرار رہے گا۔ ان عناصر کی موجودگی کے مقام سے قطع نظر دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والے بعض ایسے ممالک ہیں جنہوں نے القاعدہ کی قیادت کو محفوظ پناہ دی لہذا داعش کے معاملے میں بھی اس منظر نامے کے دہرائے جانے کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔واضح رہے کہ ایران ماضی میں القاعدہ تنظیم کے نمایاں اور اہم ترین رہ نماؤں کی میزبانی کر چکا ہے۔ اس حوالے سے وقت کے ساتھ نت نئے انکشافات سامنے آنے کا سلسلہ جاری ہے۔ ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے کمپاؤنڈ سے امریکی افواج کے ہاتھ لگنے والے خطوط سے یہ بات سامنے آئی کہ ایران میں اسامہ کی بیویوں اور بچوں کے علاوہ تنظیم کے دیگر اہم رہ نما بھی موجود تھے۔ ان میں یمن میں القاعدہ تنظیم کا اہم ترین کمانڈر ناصر الوحیشی، القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری کا دست راس سیف العدل اور یاسین السوری شامل ہے جس کے سر کی قیمت امریکا نے 1 کروڑ ڈالر رکھی تھی۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT