Wednesday , September 20 2017
Home / مذہبی صفحہ / اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے

اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے

حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ناک بھوں چڑھائے بغیر کڑوی چیز کا گھونٹ پی جانا ’’صبر‘‘ ہے۔ صبر کی اس تعریف میں بڑی معنویت ہے۔ ایلوا ایک انتہائی کڑوی چیز ہے، جسے عربی میں ’’صبر‘‘ کہتے ہیں اور اس کو طب یونانی میں ’’مصبر‘‘ کہا جاتا ہے۔ اسی صبر کا ہندی نام ایلوا ہے۔ اسی وجہ سے حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ نے صبر کو کڑوی گولی کہا ہے۔ حضرت بوعلی دقاقی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ صبر اپنے نام کی طرح سخت کڑوا اور مشکل ہے، لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ صبر جتنا کڑوا ہوتا ہے، اس کا پھل اتنا ہی میٹھا ہوتا ہے۔ اس کڑوی گولی کو نگلنا دشوار ہوتا ہے، لیکن جب نفس کی ہزار مخالفت کے باوجود یہ کڑوی گولی نگل لی جاتی ہے تو اس کے نتائج بڑے خوشگوار ہوتے ہیں۔ کسی ناگوار خاطر بات کو برداشت کرلینا کوئی آسان کام نہیں، کیونکہ نفس اس کی سخت مخالفت کرتا ہے۔ صبر کی عادت ڈالنے یا یہ صفت پیدا کرنے کے لئے بڑے مجاہدے کی ضرورت ہوتی ہے۔
اللہ تعالی کا ارشاد ہے: ’’نیکی اور بدی یکساں نہیں ہیں، تم بدی کا دفاع ایسے طریقہ سے کرو جو بہترین ہو، اس کے نتیجہ میں جس کے اور تمہارے درمیان دشمنی ہے وہ ایسا ہو جائے گا، جیسے وہ تمہارا جگری دوست ہو اور یہ بات صرف ان ہی کو عطا ہوتی ہے، جو صبر سے کام لیتے ہیں اور یہ مقام صرف اسی کو حاصل ہوتا ہے، جو بڑے نصیبوں والا ہوتا ہے‘‘ (حم السجدہ۔۳۴،۳۵) یعنی صبر بڑے نصیب کی چیز ہے، اسی لئے تو اللہ تعالی نے فرمایا: ’’جو شخص صبر کرے اور درگزر کرجائے تو یہ بڑی ہمت کی بات ہے‘‘ (سورۂ شوری۔۴۳) اسی کا حکم اولوالعزم رسولوں کو دیا گیا ہے: ’’اے نبی! آپ اسی طرح صبر کئے جائیں، جس طرح اولوالعزم پیغمبروں نے کیا ہے‘‘۔ (سورۂ احقاف۔۳۵)
بہرحال صبر کرنا تو صبر کرنے والوں کے حق میں بہتر ہے ہی، لیکن ہمارا اور آپ کا صبر کرنا بھی اللہ تعالی کی توفیق سے ہی ہوتا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے: ’’صبر کرنے والے دونوں جہاں میں عزت حاصل کرتے ہیں، کیونکہ ان کو اللہ تعالی کی معیت حاصل ہوتی ہے‘‘ (سورہ نحل۔ ۱۲۶،۱۲۷) مزید یہ کہ ’’اللہ تعالی صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے‘‘ (سورہ بقرہ۔۱۵۳) جو صبر کرنے والوں کے لئے بہت بڑا اعزاز ہے۔
ایک حدیث شریف میں یہ بھی آیا ہے کہ جب کسی بندے کو اللہ تعالی کوئی مرتبہ دینا چاہتا ہے اور وہ اپنے عمل سے اس مرتبہ کو نہیں پہنچ سکتا تو اللہ تعالی اس کو جسمانی یا مالی مصائب میں مبتلا کرکے یا اولاد کی موت کی مصیبت میں مبتلا کردیتا ہے، جس پر وہ صبر کرتا ہے، اس طرح اس کو وہ مرتبہ بلاؤں پر صبر کرنے سے مل جاتا ہے۔ ایک حدیث شریف میں یہ بھی آیا ہے کہ نعمتوں پر شکر اور مصیبتوں پر صبر کرنے سے لوگ حساب کے بغیر بھی جنت میں بھیج دیئے جائیں گے۔ محدث دکن حضرت عبد اللہ شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ’’اچھے ہیں وہ لوگ جو اللہ سے لو لگائے رہتے ہیں، خوشی میں الحمد للّٰہ کہہ کر شکر ادا کرتے ہیں اور غمی میں اناللّٰہ وانآ الیہ راجعون کہہ کر صبر سے کام لیتے ہیں‘‘۔
واضح رہے کہ کسی نعمت کو حقیر نہیں سمجھنا چاہئے اور نہ ہی کسی مصیبت کو۔ ہر نعمت بڑی نعمت ہے اور ہر مصیبت بڑی مصیبت ہے۔ اگر ہم نے کسی مصیبت کو حقیر سمجھا تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ہم اللہ تعالی کے مقابلہ میں جرات دکھا رہے ہیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تو چراغ کے گل ہو جانے پر بھی اناللّٰہ وانآ الیہ راجعون پڑھا کرتے تھے۔
جس صبر میں جزع فزع نہ ہو، بلکہ بڑے پروقار انداز میں کیا جا رہا ہو تو اس کو ’’صبرجمیل‘‘ کہتے ہیں۔ حضرت ایوب علیہ السلام نے کس طرح صبر کیا تھا، جسم کا گوشت سڑکر اس میں کیڑے پڑ گئے تھے، لیکن انھیں اللہ تعالی سے کوئی شکوہ نہ شکایت، بلکہ بہ تقاضائے بشری صرف اتنا کہا: رب انی مسنی الضر وانت ارحم الراحمین۔ پاس ادب کی خاطر ’’رب ارحمنی‘‘ نہیں کہا، بلکہ وانت ارحم الراحمین کہا، یہ ان کا صبر جمیل تھا۔ اسی لئے اللہ تعالی نے بڑے پیارے انداز میں انھیں سراہا ہے، چنانچہ فرمایا: ’’ہم نے ان کو بڑا صبر کرنے والا پایا، وہ بڑا پیارا بندہ تھا اور ہم سے خوب لو لگائے ہوئے تھا‘‘۔ (سورۂ صٓ۔۴۴)
صبر کے بڑے فوائد ہیں اور ہر فائدہ ایسا کہ ’’دامن دل می کشد کہ جا ایں جاست‘‘۔ مثلاً اس سے استقامت پیدا ہوتی ہے اور زندگی میں ضبط و تحمل پیدا ہوتا ہے۔ اس سے زندگی میں نکھار اور شخصیت میں وقار آتا ہے۔ صبر اللہ تعالی کی رحمت خاصہ کے حصول کا سبب ہے، اس سے حوادث اور مصائب کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے۔ اس سے دل جذبہ انتقام سے خالی ہو جاتا ہے، دشمن بھی دوست بن جاتے ہیں، ہر دل عزیزی میں قابل لحاظ اضافہ ہوتا ہے اور سب سے بڑی چیز یہ کہ اللہ تعالی کی معیت نصیب ہوتی ہے۔
صبر کے تین مواقع ہیں، جن میں صبر مطلوب ہے۔ ایک تویہی موقع ہے جس کو صبر فی الصیبۃ کہا جاتا ہے، باقی دو مواقع کا ذکر بعد میں کیا جائے گا۔ اللہ تعالی ہم سب کو صبر کی توفیق عطا فرماکر اپنے معیت سے سرفراز فرمائے۔ (آمین)

TOPPOPULARRECENT