Sunday , September 24 2017
Home / مذہبی صفحہ / اللہ تعالیٰ کا قرب ، ایک عظیم نعمت

اللہ تعالیٰ کا قرب ، ایک عظیم نعمت

اللہ تعالیٰ کی ہر انسان پر بے شمار نعمتیں ہیں، ان میں سے دو نعمتیں بہت عظیم ہیں، ایک ایمان کی نعمت اور دوسری اللہ تعالیٰ کا قرب نصیب ہونے کی نعمت۔ ہر کلمہ گو کی یہ تمنا ہوتی ہے کہ مجھے اللہ تعالیٰ کا قرب نصیب ہو جائے۔ بزرگوں نے اس کے سات درجے بتائے ہیں، اگر یہ سات زینے چڑھ جائیں تو اللہ تعالیٰ کا قرب نصیب ہوگا۔ ان میں سب سے پہلا زینہ ادب ہے اور دین سب کا سب ادب ہے۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میرے رب نے مجھے ادب سکھایا اور بہترین ادب سکھایا‘‘۔ ادب کے تعلق سے قرآن مجید میں آیا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے ندا دی تو فرمایا: ’’تم ایک مقدس وادی میں ہو، اپنے جوتے اُتاردو‘‘۔ یعنی ادب جتنا زیادہ ہوگا، اتنا ہی درجہ بلند ہوگا۔
دوسرا زینہ علم نافع ہے۔ ادب کی وجہ سے علم نافع نصیب ہوتا ہے۔ ایک علم ملتا ہے کتابوں سے اور ایک علم نافع ہوتا ہے۔ ان دونوں میں فرق یہ ہے کہ ایک معلوماتی ہے اور جس علم پر انسان کا عمل ہو، اس کو علم نافع کہتے ہیں اور یہ علم نافع ادب سے ملتا ہے۔
تیسرا زینہ عمل صالح ہے۔ علم نافع جب بھی ملے گا، عمل کی توفیق ساتھ ہوگی، یعنی عمل کے بغیر چین نہیں آئے گا۔
چوتھا زینہ حکمت ہے۔ جب انسان عمل صالح کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو ایک اور نعمت عطا فرماتا ہے۔ جب حکمت نصیب ہوتی ہے تو انسان کی سوچ وہاں پہنچتی ہے، جہاں تک عام بندوں کی پرواز نہیں ہوسکتی۔
پانچواں زینہ زہد فی الدنیا ہے۔ انسان کو جب حکمت ملتی ہے تو پھر اس کو دنیا کی حقیقت معلوم ہو جاتی ہے اور پھر اس کو زہد فی الدنیا نصیب ہو جاتا ہے۔ زہد فی الدنیا ترک دنیا نہیں، بلکہ ترک لذات دنیا ہے۔ جس کو اللہ تعالیٰ کی حقیقت کا پتہ چل جائے، وہ اللہ تعالیٰ سے جُڑے بغیر نہیں رہ سکتا اور جس کو دنیا کی حقیقت کا پتہ چل جائے تو وہ دنیا سے کٹے بغیر نہیں رہ سکتا، یعنی جب حکمت ملتی ہے تو پھر  زہد فی الدنیا خود نصیب ہو جاتا ہے۔ (مرسلہ)

TOPPOPULARRECENT