Saturday , August 19 2017
Home / مذہبی صفحہ / اللہ تعالیٰ کی مشیت کا تابع ہونا ضروری ہے

اللہ تعالیٰ کی مشیت کا تابع ہونا ضروری ہے

عقیدۂ تقدیر ہماری بنیادی ایمانیات میں شامل ہے۔ جب ہم ایمان کا اقرار کرتے ہیں تو اس وقت یہ الفاظ ہم ادا کرتے ہیں: اٰمنت باللّٰہ وملائکتہٖ وکتبہٖ ورسلہٖ والیوم الْاخر والقدر خیرہٖ وشرہٖ من اللّٰہ تعالیٰ‘‘ یعنی میں ایمان لایا اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر اور یوم آخرت پر اور اللہ کی مقرر کردہ اچھی اور بری ہر تقدیر پر۔ جب ہم یہ کلمہ پڑھ کر ایمان لاچکے ہیں تو اب تقدیر پر راضی رہنا بھی ضروری ہے۔ اب اگر ہم تقدیر کے فیصلہ پر راضی نہیں ہوتے تو ہمارا ایمان ہی خطرہ میں پڑ جاتا ہے، بلکہ اس طرح ہم دائرۂ اسلام سے خارج ہو جائیں گے۔
صبر فی المشیت کا حکم عام ہے اور عوام کے لئے ہے۔ ہر مسلمان کو کم سے کم یہ کرنا ضروری ہے۔ ’’اور (اے لوگو!) تم کچھ بھی نہیں چاہ سکتے بجز اس کے کہ اللہ خود چاہے‘‘ (سورۃ الدہر۔۳۰) کی روح یہی ہے کہ اپنی مشیت کو اللہ تعالی کی مشیت کے تابع رکھا جائے اور اپنی مشیت کو اللہ تعالی کی مشیت سے متصادم نہ کیا جائے۔ اپنی مشیت کو مشیت الہی کے تابع رکھنے کا حکم شریعت کا لازمی اور عام حکم ہے، لیکن صوفیہ کرام بتاتے ہیں کہ خواص کے لئے اس سے آگے بھی کچھ مراحل ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اپنی مشیت کو اللہ تعالی کی مشیت میں ضم کردو، تاکہ تقاضائے عشق و مستی پورا ہو جائے اور تقاضائے عشق و مستی یہ ہے:

من تو شدم تو من شدی
من تن شدم تو جاں شدی
ناکس نہ گوید بعد ازیں
من دیگرم تو دیگری
میں تو ہو جاتا ہوں، تو میں ہو جا۔ میں تن ہو جاتا ہوں، تو جاں ہو جا۔ تاکہ اس کے بعد یوں نہ کہا جاسکے کہ میں اور ہوں تو اور ہے۔ حضرت ذوالنون مصری رحمۃ اللہ علیہ سے کسی نے پوچھا: ’’کہیے حضرت کیا حال ہے؟‘‘۔ فرمایا: ’’بڑے مزمے میں ہوں، اس شخص کا حال کیا پوچھتے ہو، جس کی مرضی سے یہ کارخانہ کائنات چل رہا ہے، یہاں جو کچھ بھی ہو رہا ہے وہ میری مرضی سے ہو رہا ہے‘‘۔ سائل کو بڑی حیرانی ہوئی، عرض کیا: ’’حضرت! آج آپ نے یہ کیا بات کہہ دی؟‘‘۔ فرمایا: ’’بھائی! میں نے اپنی مرضی کو اللہ تعالی کی مرضی میں ضم کردیا ہے، اب جو اس کی مرضی ہے وہی میری مرضی ہے‘‘۔ خبردار! اس کا مطلب یہ نہیں کہ عیاذًا باللہ حضرت ذوالنون مصری خدا ہو گئے، نہیں، ہرگز نہیں۔ یہ دوئی میں وحدت کا ایک پیرایہ بیان ہے، اس کے سوا کچھ نہیں۔ ایسے موقعوں پر حضرت محی الدین ابن عربی رحمۃ اللہ علیہ کا یہ قول ہمیشہ یاد رکھیں۔ آپ فرماتے ہیں کہ ’’بندہ بہرحال بندہ ہے، خواہ وہ کتنا ہی ترقی کرلے اور رب بہرحال رب ہے، خواہ وہ کتنا ہی نزول فرمائے‘‘۔
حضرت پیران پیر رحمۃ اللہ علیہ اس حالت اور کیفیت کو ’’توحید کامل‘‘ قرار دیتے ہیں، چنانچہ آپ نے فتوح الغیب کے مقالہ (نمبر۳) میں فرمایا ہے کہ ’’(ایسا شخص) تمام ظاہری اسباب سے ناطہ توڑ بیٹھتا ہے، ایسے میں اس پر قضا و قدر کا عمل جاری ہو جاتا ہے، جو اس کو تمام اسباب و علائق سے بے نیاز کردیتا ہے۔ اس کے بعد وہ خود مٹ جاتا ہے اور روح باقی رہ جاتی ہے، اب وہ جو کچھ دیکھتا اور کرتا ہے، اسے فاعل حقیقی (اللہ تعالی) کا عمل سمجھتا ہے اور اس طرح وہ توحید کامل کے مقام پر فائز ہو جاتا ہے۔ الغرض وہ یقین کرلیتا ہے کہ فاعل حقیقی صرف ذات خداوندی ہے اور ہر حرکت و سکون اس کی مشیت کے تابع ہے۔ خیروشر، سودوزیاں اور جودوسخا اسی کے ہاتھ میں ہے۔ اسی طرح بست و کشاد، موت و حیات، عزت و ذلت اور غربت و ثروت اسی کے قبضہ قدرت میں ہے۔ ایسی صورت میں بندہ خود کو دست قضا و قدر میں اس طرح جملہ اختیارات بشری سے عاری پاتا ہے، جیسے دایہ کے ہاتھوں میں طفلِ شیر خوار، غسال کے ہاتھوں میں میت اور چوگان باز کے سامنے گیند۔

ان مثالوں کو پیش نظر رکھ کر ہمارے بزرگوں نے یہ بھی بتایا ہے کہ طفل شیرخوار دایہ کے ہاتھوں میں بالکل بے مشیت نہیں ہوتا، اس کی مشیت بس اتنی ہوتی ہے کہ تکلیف ہو یا بھوک لگے تو روکر اس کا اظہار کردیتا ہے، جب کہ غسال کے ہاتھوں میں میت کی کیفیت یہ ہوتی ہے کہ دیکھنے والا سمجھتا ہے کہ کچھ دیر پہلے یہ صاحب مشیت تھا، لیکن اب بے مشیت ہوا ہے اور چوگان باز کے سامنے گیند کی کیفیت یہ ہوتی ہے کہ ہر شخص محسوس کرتا ہے کہ گیند میں مشیت نہ پہلے تھی نہ اب ہے، وہ کبھی صاحت ارادہ نہ پہلے تھی نہ اب ہے، وہ مکمل طورپر بے ارادہ و بے مشیت ہے۔ فرماتے ہیں کہ تم ایسے ہو جاؤ جیسے چوگان باز کے سامنے گیند ہوتی ہے۔ یہ فنائے مشیت کا سب سے اعلی درجہ ہے۔ اگر تم ایسے نہ بن سکو تو ایسے بن جاؤ جیسے غسال کے ہاتھوں میں میت، جو فنائے مشیت کا اوسط درجہ ہے اور اگر ایسے بھی نہ بن سکو تو ایسے بن جاؤ جیسے دایہ کے ہاتھوں میں طفل شیر خوار، جو فنائے مشیت کا ادنیٰ درجہ ہے اور اگر ایسے بھی نہ بن سکو تو کم از کم اتنا ہی کرلو کہ اپنی مشیت کو مشیت الہی سے متصادم نہ کرو اور قضائے الہی پر راضی رہو، یہ سب سے کم ضروری عمل ہے، جس کے بغیر ایمان کا تصور ہی عبث ہے۔ اللہ تعالی ہم سب کو صوفیہ کرام کے بیان کردہ اس نازک مسئلہ کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے اور اپنی توحید کامل کی منزل تک پہنچادے، تاکہ ہم شرک خفی کے شائبہ سے بھی پاک ہو جائیں۔ (آمین) (اقتباس)

TOPPOPULARRECENT