Wednesday , August 16 2017
Home / مذہبی صفحہ / اللہ کی رضا کیلئے نیک عمل

اللہ کی رضا کیلئے نیک عمل

مرسلہ

حضرت عبد اللہ بن مبارک رحمۃ اللہ علیہ کے پاس ایک شخص آیا اور ایک خط پیش کیا، جس میں لکھا تھا کہ ’’مجھ پر سات سو دینار کا قرض ہے‘‘۔ حضرت نے چٹھی میں نیچے لکھ دیا کہ اس شخص کو سات ہزار دینار دیئے جائیں۔ خزانچی نے سمجھا کہ غلطی سے ایک صفر بڑھ گیا ہوگا۔ اس نے آکر دریافت کیا تو حضرت نے سات ہزار کاٹ کر چودہ ہزار دینار لکھ دیا۔ خزانچی نے وضاحت چاہی تو آپ نے فرمایا: ’’میں نے ایک حدیث شریف سنی تھی کہ جو شخص اچانک کسی مؤمن کو خوش کردے تو اس کی مغفرت کردی جائے گی‘‘۔
حضرت عبد اللہ بن مبارک رحمۃ اللہ علیہ کو حضرت امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کی محبت میں بار بار کوفہ جانا پڑتا تھا۔ راستے میں ایک سرائے میں قیام فرماتے تھے، جہاں ایک نوجوان آپ کی خدمت کرتا تھا۔ ایک دفعہ اس نوجوان کو آپ نے نہ پایا تو لوگوں سے دریافت کیا۔ معلوم ہوا کہ اس نوجوان کو پولیس پکڑکر لے گئی۔ اس پر قرض تھا، اس لئے قرض خواہ نے اسے گرفتار کروادیا۔ حضرت نے تھانے پہنچ کر نوجوان کے بارے میں معلوم کرنا چاہا تو پولیس نے بتایا: ’’اگر اس کا قرض ادا کردیا جائے تو اسے چھوڑ دیا جائے گا‘‘۔ آپ نے فرمایا: ’’میں اس شرط پر قرض ادا کردوں گا کہ کبھی اس کو پتہ نہ چلے کہ اس کا قرض میں نے ادا کیا ہے‘‘۔
اس واقعہ کے بعد حضرت نے کئی بار اس سرائے میں قیام فرمایا اور وہ نوجوان آپ کو اپنا واقعہ بار بار سناتا رہا کہ ’’حضرت! میں گرفتار ہو گیا تھا، کسی اللہ کے بندے نے میرا قرض ادا کرکے مجھے رہائی دلوادی‘‘۔ آپ اس نوجوان کی باتیں سنتے رہے، مگر کبھی اس بات کو ظاہر نہ ہونے دیا کہ ’’تمہارا قرض میں نے ادا کیا ہے‘‘۔ جب آپ کا وصال ہو گیا تو اس نوجوان کو معلوم ہوا کہ حضرت نے ہی میرا قرض ادا کیا تھا۔
مذکورہ واقعات سے یہ معلوم ہوا کہ ہر نیک عمل اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے ہو، اس سے نیت خالص ہوتی ہے، آدمی ریاکاری سے دور رہتا ہے اور جو کام اللہ تعالیٰ کے لئے کیا جائے اس میں برکت ہوتی ہے۔ اسی طرح اگر اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے رزق حلال تلاش کیا جائے تو اس میں برکت ہوتی ہے، لہذا ہمارے ہر نیک عمل میں اللہ تعالیٰ کی رضا مطلوب ہونا چاہئے۔

TOPPOPULARRECENT