Thursday , September 21 2017
Home / اداریہ / الہ آباد ہائیکورٹ کی رولنگ

الہ آباد ہائیکورٹ کی رولنگ

بات جو دل سے نکلتی ہے اثر رکھتی ہے
پر نہیں طاقتِ پرواز مگر رکھتی ہے
الہ آباد ہائیکورٹ کی رولنگ
الہ آباد ہائیکورٹ نے اپنی رولنگ میںواضح طور پر کہا ہے کہ کھانے اور روزگار کا انتخاب ہر شہری کا حق ہے اور یہ اسے دستور ہند میں عطا کیا گیا ہے ۔ ہائیکورٹ نے یہ رولنگ ریاست میں گوشت کے ایک تاجر کی درخواست پر دی گئی ہے ۔ یہ درخواست ریاستی حکومت کی جانب سے غیر قانونی مسالخ کو بند کرنے کے نام پر شروع کی گئی کارروائی کے خلاف دائر کی گئی تھی ۔ عدالت نے کہا کہ ریاستی حکومت کو غیر قانونی مسالخ کو تو بند کرنا چاہئے اور ان کے خلاف کارروائی بھی کی جانی چاہئے لیکن اس کارروائی کے نام پر عوام کے غذائی حق اور روزگار پر ناجائز پابندی عائد نہیں کی جانی چاہئے ۔ غذا اور غذا سے متعلق عادتیں غیر متنازعہ ہیں اور زندگی کے حق سے مربوط ہیں جس کی طمانیت دستور ہند کی دفعہ 21 کے تحت دی گئی ہے ۔ عدالت نے یہ بھی واضح کردیا کہ حکومت غیر قانونی مسالخ کے خلاف کارروائی تو کرسکتی ہے لیکن قانونی طور پر گوشت سربراہ کرنے والوں پر امتناع عائد ہیں کرسکتی کیونکہ یہ سینکڑوں افراد کے روزگار سے مربوط مسئہ ہے ۔ دستور ہند نے عوام کو اپنی گذر بسر کیلئے کوئی بھی پیشہ اختیار کرنے کی بھی آزادی عطا کی ہے ۔ الہ آباد ہائیکورٹ کی یہ رولنگ انتہائی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ اترپردیش میں یوگی آدتیہ ناتھ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے گوشت کا کاروبار پوری طرح سے ٹھپ کردیا گیا ہے ۔ یہاں غیر قانونی مسالخ کے خلاف کارروائی کے نام پر قانونی طور پر گوشت کا کاروبار کرنے والوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے ۔ ریاستی حکومت آر ایس ایس کے ایجنڈہ پر عمل آوری کرتے ہوئے اس کاروبار کو نشانہ بنا رہی ہے اور اس معاملہ میں بھی اس کا دوہرا معیار ہے ۔ اندرون ملک خود ہندوستانی شہری جو غذا استعمال کرتے ہیں اور جو کاروبار کرتے ہیں اس کو روکنے کیلئے محض اس لئے اقدامات کئے جا رہے ہیں کیونکہ حکومت سمجھتی ہے کہ یہ مسلمانوں سے متعلق مسئلہ ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ اس سے غیر مسلم بھی بڑی تعداد میں وابستہ ہیں ۔ اس کے علاوہ ہندوستان سے بیرونی ممالک کو جو بیف سربراہ کیا جاتا ہے اس سے بھی غیر مسلم ہی وابستہ ہیں اور کروڑہا روپئے کا کاروبار کرتے ہیں۔ حکومت اس مسئلہ کو فرقہ پرستی کی عینک سے دیکھ رہی ہے اس لئے اس کے منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
اترپردیش میں جب سے یہ کارروائی شروع ہوئی ہے اس کے بعد سے ملک کی ان ریاستوں میں جہاں بی جے پی اقتدار میں ہے خاص طور پر اس کاروبار کو گائے کے تحفظ کے نام پر نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ کسی ریاست میںگاوکشی پر پانچ کی سزائے قید ہے تو کسی ریاست میں دس سال کی قید کا قانون بنادیا گیا ہے ۔ ایک ریاست میں سزائے عمرقید دی جاتی ہے تو ایک ریاست میں سزائے موت کا قانون بنادیا گیا ہے جبکہ پارٹی کے دوہرے معیارات کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ خود بی جے پی کے اقتدار والی ریاست کرناٹک اور پھر ملک کے شمال مشرق میں بیف کے استعمال پر کوئی امتناع نہیں ہے ۔ کیرالا میں خود بی جے پی کے ایک امیدوار نے اپنے منتخب ہوجانے پر بہترین بیف سربراہ کرنے کا عوام سے وعدہ کیا ہے ۔ اس صورتحال سے یہ شکوک اور بھی تقویت پاتے ہیں کہ اس مسئلہ کو محض مسلمانوں سے جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے اور مسلمانوں میں بے چینی پیدا کرنے اور انہیں پریشان کرنے کے مقصد سے اس مسئلہ کو اچھالا جا رہا ہے ۔ ملک کے دستور میں عوام کو ان کے غذائی حقوق فراہم کئے گئے ہیں اور انہیں زندگی کے حق سے مربوط کیا گیا ہے اس کے باوجود بی جے پی اور اس کی حکومتیں محض مسلم دشمنی میں اس حق کو چھیننے کی کوشش کر رہی ہیںا ور دستور کے تقدس کو فراموش کیا جا رہا ہے ۔ یہ مسئلہ ایسا ہے جو کو واقعتا عوام کے زندگی کے حق سے جوڑ کر دیکھنے کی ضرورت ہے ۔ اس کو فرقہ پرستی اور تعصب کی عینک سے اگر دیکھا جائیگا تو عوام اپنے زندگی کے حق اور غذائی حق سے محروم ہوتے رہیں گے ۔
اب جبکہ الہ آباد ہائیکورٹ نے خود یہ رائے دی ہے کہ کوئی بھی حکومت بیف پر مکمل امتناع عائد نہیں کرسکتی اور ریاستی حکومت کو غیر قانونی مسالخ کے خلاف کارروائی کے نام پر عوام کے غذائی حق اور روزگار پر ناجائز پابندی عائد نہیں کرنی چاہئے تو پھر بی جے پی اور اس کی حکومتوں کو اپنے موقف پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے ۔ بی جے پی کو اگر واقعی بیف پر امتنا عائد کرنا ہے تو پھر اسے گوا اور ملک کی شمال مشرقی ریاستوں میں یا پھر کم از کم شمال مشرق میںمنی پور میںبیف پر امتناع عائد کرنا چاہئے کیونکہ منی پور میں بھی بی جے پی کی حکومت قائم ہوچکی ہے ۔ حکومت کو صرف مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے مقصد سے کسی طرح کی کارروائی سے گریز کرنا چاہئے اور ساتھ ہی اس بات کو یقینی بنانے کی بھی ضرورت ہے کہ دستور ہند میں ملک کے عوام کو غذا اور روزگار سے متعلق جو حقوق اور اختیارات فراہم کئے گئے ہیں ان کی پامالی نہ ہونے پائے ۔

TOPPOPULARRECENT