Monday , August 21 2017
Home / ہندوستان / الیکشن کمیشن رشوت خوری مقدمہ :حوالاتی تشدد

الیکشن کمیشن رشوت خوری مقدمہ :حوالاتی تشدد

ہائیکورٹ کا سنگین الزامات پر اظہارتشویش ، جسٹس اشوتوش کمار کی حکومت کو نوٹس
نئی دہلی ۔ 24 جولائی ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) دہلی ہائیکورٹ نے آج ’’سنگین کارروائی ‘‘ کا انتباہ دیا کیونکہ عدالت کو بتایا گیا تھا کہ حوالات میں اذیت رسانی کی بناء پر سُکیش چندرشیکھر کی ہلاکت واقع ہوچکی ہے ۔ الیکشن کمیشن رشوت خوری مقدمہ کے ملزم سُکیشن چندرشیکھر تہاڑ جیل میں تھے ۔ عدالت نے کہاکہ ایسا کوئی بھی واقعہ برداشت نہیں کیا جائے گا ۔ جسٹس اشوتوش کمار نے عام آدمی پارٹی حکومت اور ڈائرکٹر جنرل محابس تہاڑ جیل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اُن سے دریافت کیا کہ ایک درخواست پر جس میں الزام عائد کیا گیا تھاکہ چندرشیکھر کو جیل کے عہدیداروں نے برہنہ کرکے تلاشی لی تھی اور اُسے انتہائی خطرناک مجرموں کے وارڈ میں رکھا گیا تھا ، کارروائی رپورٹس کیوں پیش نہیں کی گئی ؟ یہ درخواست قونصل امن لیکھی کے توسط سے داخل کی گئی ہے اور الزام عائد کیا گیا ہے کہ ملزم کو جیل کے عہدیداروں نے ٹاملناڈو کی خصوصی پولیس کے ساتھ گٹھ جوڑ کے ذریعہ سخت حفاظتی انتظامات والی تہاڑ جیل میں اذیت رسانی کی تھی ۔ کیونکہ وہ برسراقتدار اے آئی اے ڈی ایم کے (اماں) کے حریف گروپ کا حامی تھا ۔ عدالت نے ان الزامات کو سنگین قرار دیتے ہوئے جیل کے عہدیداروں سے کہاکہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ حراست کے دوران ملزمین کو اذیت رسانی نہ دی جائے ۔ عدالت نے جیل کے عہدیداروں سے یہ جاننا چاہا کہ ملزم کو انتہائی خطرناک شعبہ میں کیوں رکھا گیا تھا جو خطرناک مجرموں کیلئے مختص ہے ۔ عدالت نے کہاکہ اس کی کوئی وجہ ہونی چاہئے۔ ہم کو جنسی حملے کی اُس کے خلاف شکایت پر تشویش ہے ۔ تہاڑ جیل کو چاہئے کہ اس بات کی وضاحت کرے کہ کوئی شخص جو دھوکہ دہی اور جعلسازی کا ملزم ہے انتہائی خطرناک وارڈ میں کیوں رکھا گیا ۔ ہم تمام تفصیلات جاننا چاہتے ہیں۔ صرف کارروائی رپورٹ جس میں الزامات کی تردید کی گئی ہو کافی نہیں ہے ۔ سنگین الزامات حوالات میں تشدد کے عائد کئے گئے ہیں، جنھیں قطعی برداشت نہیں کیا جاسکتا ۔ مقدمہ کی آئندہ سماعت 22 اگسٹ کو مقرر کی گئی ہے ۔ عدالت نے سی سی ٹی وی کی جھلکیوں کی تفصیلات کا مشاہدہ کرنے کی بھی خواہش کی، جن میں مبینہ طورپر چندرشیکھر کو مارپیٹ کی جارہی تھی ۔ قبل ازیں پولیس نے تحت کی عدالت میں بیان دیا تھا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ روپئے دھاوے کے وقت جنوبی دہلی کے چانکیاپوری کی ہوٹل سے ملزم کے قبضہ سے دستیاب ہوئے ۔

TOPPOPULARRECENT