Sunday , July 23 2017
Home / ہندوستان / الیکشن کمیشن عہدیدار کو رشوت کی پیشکش ‘ دیناکرن کے خلاف مقدمہ درج

الیکشن کمیشن عہدیدار کو رشوت کی پیشکش ‘ دیناکرن کے خلاف مقدمہ درج

سارے معاملہ سے میرا کوئی تعلق نہیں ۔ پارٹی کو سیاسی طور پر تباہ کرنے کی سازش کی جا رہی ہے ۔ انا ڈی ایم کے ڈپٹی جنرل سکریٹری کا ادعا

چینائی 17 اپریل ( سیاست ڈاٹ کام ) آل انڈیا انا ڈی ایم کے ( اماں ) لیڈر ٹی ٹی وی دیناکرن کے خلاف الیکشن کمیشن کے ایک عہدیدار کو رشوت دینے کے الزام میں مقدمہ درج کرلیا گیا ہے جبکہ انہوں نے آج کہا کہ وہ دہلی پولیس کی جانب سے مقدمہ کے اندراج کے خلاف جدوجہد کرینگے ۔ انہوں نے ادعا کیا کہ پارٹی کو سیاسی طور پر تباہ کردینے کیلئے کوششیں کی جا رہی ہیں۔ دہلی پولیس کی کرائم برانچ نے دینا کرن کے خلاف الیکشن کمیشن کے عہدیدار کو رشوت دینے کی کوشش کا الزام ہے تاکہ ٹاملناڈو میں آر کے نگر اسمبلی حلقہ کے ضمنی انتخاب میں آل انڈیا انا ڈی ایم کے کے دو پتوں کے انتخابی نشان کو حاصل کیا جاسکے ۔ دینا کرن کے خلاف ایک ایف آئی آر درج کی گئی ہے جبکہ ایک درمیانی شخص سوکیش چندرا شیکھر کو دہلی کی ایک فائیو اسٹار ہوٹل سے کل گرفتار کیا گیا تھا ۔ ایک سینئر پولیس عہدیدار نے کہا کہ پولیس الیکشن کمیشن کے عہدیدار سے اس درمیانی شخص کے تعلقات کی تحقیقات کر رہی ہے ۔ ایک سینئر پولیس عہدیدار نے کہا کہ سمجھا جاتا ہے کہ سوکیش نے دو پتوں کا نشان حاصل کرنے کیلئے الیکشن کمیشن عہدیدار سے 50 کروڑ روپئے میں معاملت طئے کی تھی ۔ پولیس نے سوکیش کے پاس سے 1.30 کروڑ روپئے ضبط بھی کئے تھے ۔ اس کے علاوہ دو کاریں ایک بی ایم ڈبلیو اور ایک مرسیڈیز بھی ضبط کی گئی تھی ۔ دیناکرن نے بنگلورو میں اپنی آنٹی ششی کلا سے جیل میں ملاقات کیلئے روانگی سے قبل بتایا کہ انہوں نے کسی کو بھی رشوت نہیں دی ہے ۔ ششی کلا غیر محسوب اثاثہ جات کے مقدمہ میں جیل میں ہیں اور وہ انا ڈی ایم کے پارٹی کی جنرل سکریٹری ہیں۔ اس گروپ کے ڈپٹی جنرل سکریٹری نے یہ بھی تردید کی کہ کچھ وزرا نے ان کے خلاف بغاوت کی تھی ۔ انہوں نے اس طرح کی اطلاعات کو منصوبہ بند جھوٹ کی مہم قرار دیا ہے ۔ انہوں نے یہ اعادہ کیا کہ کسی بھی وزیر نے ان سے استعفی کیلئے نہیں کہا تھا جیسا کہ ذرائع ابلاغ کے ایک حصے میں دعوی کیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے اس بات سے بھی انکار کیا کہ وہ ششی کلا سے پارٹی میں اختلافات سے واقف کروانے کیلئے ملاقات کرنے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ پارٹی میں کسی طرح کے اختلافات نہیں ہیں۔ جب وزرا ان سے ملاقات کیلئے آئے تھے وہ انہیں صرف ٹامل سال نو کی مبارکباد دینے آئے تھے ۔ یہ مسئلہ پہلے سے چل رہا ہے کہ ضمنی انتخاب کے بعد انہیں پارٹی عہدہ سے ہٹادیا جائیگا ۔ اس طرح کی کوئی کوشش نہیں ہو رہی ہے ۔ یہ جھوٹ کا منظم پروپگنڈہ ہے ۔ یہ ادعا کرتے ہوئے کہ وہ کسی درمیانی آدمی سے واقف نہیں ہیں انہوں نے کہا کہ اس تعلق سے انہیں صرف میڈیا رپورٹس کے ذریعہ معلومات ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں دہلی پولیس سے نہ کوئی اطلاع ملی ہے اور نہ کوئی سمن موصول ہوا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ اگر انہیں کوئی سمن ملتا ہے تو وہ اس کا جواب دینگے ۔ وہ اس کا قانونی طور پر سامنا کرینگے ۔ کوئی بھی شخص ایسا کیسے کہہ سکتا ہے کہ یہ رقم دیناکرن کی تھی ۔ وہ اس نام کے کسی شخص کو نہیں جانتے اور نہ اپنی پوری زندگی میں انہوں نے کبھی یہ نام سنا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ بنیادی طور پر یہ کہنا درست نہیں ہے کہ سوکیش نے ان سے بات چیت کی تھی ۔ وہ نہیں جانتے کہ یہ کیا منصوبہ ہے اور ایسا کون کر رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی مہم در اصل پارٹی کو سیاسی طور پر تباہ کرنے کیلئے شروع کی جا رہی ہے ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT