Thursday , September 21 2017
Home / سیاسیات / الیکشن کمیشن کو آئیں، ووٹنگ مشینوں کو آزما ئیں، کجریوال و دیگر کو چیلنج

الیکشن کمیشن کو آئیں، ووٹنگ مشینوں کو آزما ئیں، کجریوال و دیگر کو چیلنج

بیالٹ پیپرز کے دوبارہ استعمال کیلئے قانون میں تبدیلی درکار نہیں ، ای وی ایمز زیادہ بھروسہ مند، محفوظ تر ، عہدیداروں کا ادعا
نئی دہلی ، 4 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) رائے دہی کیلئے بیالٹ پیپرز کا استعمال کرنے کیلئے قانون میں ترمیم کرنے کی ضرورت نہیں، لیکن الیکشن کمیشن کا ماننا ہے کہ ای وی ایمز اس جمہوری عمل کی انجام دہی کیلئے زیادہ بھروسہ مند اور زیادہ محفوظ طریقہ ہے۔ ایسے سوالات پوچھے جارہے ہیں کہ آیا روایتی سسٹم دوبارہ اختیار کرنے کیلئے قانون میں تبدیلی کی ضرورت پڑے گی۔ کانگریس ، بی ایس پی اور عام آدمی پارٹی زور دے رہے ہیں کہ مستقبل کے انتخابات میں روایتی بیالٹ پیپرز اور بیالٹ باکس استعمال کئے جائیں اور وہ کہتے ہیں کہ حالیہ اسمبلی چناؤ کے بعد الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کا معتبر ہونا مشکوک ہوچلا ہے۔ جب یہ پوچھا گیا کہ آیا بیالٹ پیپر سسٹم کو دوبارہ متعارف کرنے کیلئے قانون عوامی نمائندگی میں ترمیم درکار ہوگی، الیکشن کمیشن کے سینئر عہدہ دار نے کہا کہ قانون ووٹ ڈالنے کیلئے ای وی ایم اور بیالٹ پیپر دونوں کے استعمال کی گنجائش فراہم کرتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ قانون میں تبدیلی کی ضرورت نہیں ہے اور یہ فیصلہ کرنا کمیشن کا اختیارِ تمیزی ہے کہ آیا ای وی ایم یا بیالٹ پیپر کا استعمال کیا جائے۔ ایک اور سینئر ای سی عہدہ دار نے کہا کہ ای وی ایمز نے متواتر انتخابات میں اپنی افادیت ثابت کی ہے۔ وہ زیادہ بھروسہ مند اور لوگوں کیلئے محفوظ طریقہ ہے کہ اپنے ووٹ ڈالیں۔ ووٹنگ مشینوں کو متعارف کرانے کے بعد حالات تیزتر اور زیادہ سہولت بخش ہوگئے ہیں۔ 2009ء کی طرح الیکشن کمیشن پھر ایک بار عنقریب پارٹیوں اور دیگر کو مدعو کرنے پر غور کررہا ہے کہ کمیشن کے ای وی ایمز کو ہیک کرنے کی کوشش کرکے دیکھ لیں۔ اعلیٰ ای سی عہدیداروں نے اپنے منصوبوں سے سیاست دانوں اور دیگر کو واقف کرایا ہے کہ وہ انھیں ای وی ایمز کی اچھی طرح جانچ کیلئے مدعو کرنے والا ہے جہاں وہ اسے بگاڑنے کی کوشش کرکے دیکھ سکتے ہیں کہ آیا یہ ممکن ہے۔

عام آدمی پارٹی لیڈر اروند کجریوال کو بھی واقف کرایا گیا جب انھوں نے نرواچن سدن میں گزشتہ ہفتے کمیشن کے عہدیداروں سے ووٹنگ مشینوں کے اعتبار کے مسئلہ پر ملاقات کی تھی۔ 1988ء میں قانون عوامی نمائندگی (1951ء) میں ترمیم کرتے ہوئے ووٹنگ کیلئے ای وی ایمز کا استعمال متعارف کرایا گیا تھا۔ نئے دفعہ 61A نے واضح کردیا کہ قانون یا قواعد میں بیالٹ باکس یا بیالٹ پیپر کے کوئی بھی حوالہ میں ای وی ایمز کا حوالہ بھی مضمر سمجھا جائے جہاں کہیں کسی الیکشن میں اس طرح کی ووٹنگ مشین استعمال کی جائے۔ لہٰذا، قانون کے مطابق ای وی ایمز اور بیالٹ پیپرز دونوں استعمال کئے جاسکتے ہیں۔ کانگریس نے گزشتہ روز کہا تھا کہ الیکشن کمیشن کا کام صرف فیصلہ کرنا ہے ، سارے جمہوری عمل کا وہ کنٹرولر نہیں ہوتا اور انتخابی ادارہ سے خواہش کی کہ ووٹنگ کو ای وی ایمز سے بدل کر پیپر بیالٹس کے متبادل نظام کو منتقل کرنے کے امکانات کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے۔ اپوزیشن پارٹی نے یہ بھی کہا کہ ای سی کو الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کی وکالت نہیں کرنا چاہئے اور چناؤ کا انعقاد تمام حاملین مفاد کے اطمینان کے مطابق کرنا چاہئے۔ کجریوال نے بھی گزشتہ روز کہا کہ دہلی میں بلدی الیکشن کو ’’ملتوی‘‘ کرنا چاہئے تاکہ اسے بیالٹ پیپروں کا استعمال کرتے ہوئے منعقد کیا جاسکے۔ بی ایس پی سربراہ مایاوتی پہلے ہی اترپردیش انتخابات میں اپنی پارٹی کے ناقص مظاہرے کے پیش نظر ووٹنگ مشینوں کے معتبر ہونے پر سوال اٹھا چکی ہیں۔ انھوں نے بھی کہا تھا کہ کمیشن کو بیالٹ پیپرز سسٹم پر واپس ہونا چاہئے۔

TOPPOPULARRECENT