Thursday , September 21 2017
Home / Top Stories / الیکشن کمیشن کی جانب سے کجریوال کی سرزنش

الیکشن کمیشن کی جانب سے کجریوال کی سرزنش

کانگریس اور بی جے پی سے نوٹ لو اور عاپ کو ووٹ دو ریمارک پر برہمی
پناجی ۔ /21 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) دہلی کے چیف منسٹر اور عام آدمی پارٹی (عاپ) کے کنوینر اروند کجریوال کے رشوت ستانی سے متعلق ریمارکس پر الیکشن کمیشن نے سرزنش کی ہے ۔ کجریوال نے گوا اسمبلی انتخابات میں عام آدمی پارٹی کی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے حلقہ بناؤلم میں مبینہ طور پر ووٹروں سے کہا تھا کہ ’’کانگریس یا بی جے پی امیدوار اگر آپ کو رقم کی پیشکش کرتے ہیں تو انکار مت کیجئے اس (رقم) کو قبول کرلیجئے کیونکہ یہ آپ کی اپنی دولت ہے …… مگر جب ووٹ دینے کی بات آتی ہے تو عام امیدواروں کے نام پر بٹن دبائیں ‘‘  گوا بی جے پی کے جنرل سکریٹری سدانند تناوڑے نے الیکشن کمیشن کے اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ’’کجریوال کے خلاف ہم الیکشن کمیشن آف انڈیا کی کارروائی کا خیرمقدم کرتے ہیں ۔ قانون کی مناسب دفعات کے مطابق ان کے خلاف کارروائی کی جائے ‘‘ ۔ گوا میں کانگریس نے کجریوال کے ریمارکس کی مذمت کی ہے ۔ اے آئی سی سی کے جنرل سکریٹری نے کہا کہ ’’کجریوال کے لئے یہ کوئی نئی بات نہیں ہے ۔ وہ اپنے بیانات پر سرزنش کا شکار ہوتے رہے ہیں ‘‘ ۔
گوا کانگریس کے ترجمان تراجانو ڈی میلو نے کہا کہ ’’کجریوال عام آدمی میں رشوت کے بیچ بو رہے ہیں جو انتہائی خطرناک ہے ‘‘ ۔ الیکشن کمیشن نے ان ریمارکس پر کجریوال کی سرزنش کرتے ہوئے وارننگ دی کہ اگر وہ انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرتے رہیں گے تو ان کے اور ان کی پارٹی کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی جس میں ان کی پارٹی کی مسلمہ حیثیت کی معطلی یا منسوخی بھی شامل ہوگی ۔

جب تک ذات پات کا نظام رہے گا تحفظات برقرار رہیں گے : پاسوان
نئی دہلی ۔ /21 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) بی جے پی کے حلیف اور مرکزی وزیر رام ولاس پاسوان نے آج کہا کہ دلتوں کے لئے تحفظات خیرات نہیں ہیں ۔ یہ ایک دستوری حق ہے جس کو کوئی برخاست نہیں کرسکتی ۔ انہوں نے یہ ریمارکس ایسے وقت کئے جس سے ایک دن قبل آر ایس ایس کے ایک ترجمان منموہن وائیڈیا نے تحفظات پر نظرثانی کی وکالت کرتے ہوئے ایک تنازعہ کھڑا کردیا تھا ۔ مرکزی وزیر اغذیہ و تقسیم عامہ رام ولاس پاسوان نے جو ایل جے پی کے صدر بھی ہیں ٹوئیٹرپر لکھا کہ ’’یہ کوئی خیرات نہیں ہے ۔ یہ پونا سمجھوتہ ہے جو بابائے قوم مہاتما گاندھی اور بابا صاحب امبیڈکر کے مابین طئے پایا تھا ۔ اس ملک میں جب تک ذات پات کا نظام رہے گا ۔ تحفظات بھی جاری رہیں گے ‘‘ ۔

TOPPOPULARRECENT