Friday , April 28 2017
Home / Top Stories / الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں پر بھروسہ نہیں کرسکتے : اکھلیش

الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں پر بھروسہ نہیں کرسکتے : اکھلیش

مستقبل کے انتخابات میں بیالٹ پیپروں کے استعمال کا مطالبہ ، بی جے پی نے حالیہ الیکشن میں عوام کو گمراہ کیا

لکھنو ، 15 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) سربراہ سماجوادی پارٹی اکھلیش یادو نے آج کہا کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا ہے اور مطالبہ کیا کہ مستقبل کے تمام انتخابات بیالٹ پیپروں کے ذریعہ منعقد کئے جائیں۔ اکھلیش نے یہاں اخبار نویسوں کو بتایا کہ ای وی ایمز میں کب خامی پیدا ہوجائے کوئی نہیں کہہ سکتا۔ سافٹ ویئر کب ناکام ہوجائے کہہ نہیں سکتے۔ مشینوں پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا ہے۔ ہمیں ای وی ایمز پر اعتماد نہیں ہے۔ سابق چیف منسٹر یو پی نے کہا کہ ہمیں ہمارے بیالٹ پیپروں پر 100 فی صدی بھروسہ ہے اور یہ ہمارا مطالبہ ہے کہ مستقبل کے انتخابات انھیں استعمال کرتے ہوئے منعقد کئے جائیں۔ ہم اس بحث میں پڑنا نہیں چاہتے کہ آیا ای وی ایمز اچھے ہیں یا خراب۔ اکھلیش نے کہا کہ عوام کا احساس ہے کہ انھیں (بی جے پی کی جانب سے) تشکیل حکومت کی خاطر گمراہ کیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ سارا الیکشن ذات پات اور مذہب کے نام پر نفرت پھیلاتے ہوئے لڑا گیا۔ ذات پات اور مذہب کے نام پر فوائد کا وعدہ کرتے ہوئے ووٹ لئے گئے۔ ایس پی سربراہ نے اپنی پارٹی کی دو ماہ طویل رکنیت سازی مہم کا آغاز بھی کیا، جس کا مقصد سماج کے تمام طبقات کے زیادہ سے زیادہ لوگوں تک رسائی حاصل کرنا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ اس رکنیت سازی مہم کے ذریعہ ہم عوام کو ایس پی حکومت کے انجام دیئے گئے اور شروع کردہ کاموں کے تعلق سے واقف کرائیں گے۔ انھوں نے کہا کہ روایتی طریقوں کے علاوہ ممبرز کی بھرتی مسڈ کال اور سوشل میڈیا کے ذریعے بھی کی جائے گی۔ یوگی ادتیہ ناتھ حکومت کے اس اعلان پر کہ ضلع ہیڈکوارٹرز میں 24 گھنٹے، بندیل کھنڈ میں 20 گھنٹے اور دیہات میں 18 گھنٹے برقی فراہم کی جائے گی، اکھلیش نے کہا کہ موجودہ طور پر برقی کی سربراہی پاور سب اسٹیشن، ٹرانسفارمرس اور ڈسٹری بیوشن لائنس کے ذریعے ہورہی ہے جو ایس پی حکومت نے لگائے اور جس نے برقی شعبے میں بہت کام کیا۔ ایس پی سربراہ نے کہا کہ وقت نہیں آیا کہ اُن کی پارٹی بی جے پی حکومت کی مخالفت کرے۔ ’’ہم تب ہی ردعمل ظاہر کریں گے جب بی جے پی حکومت اپنا بجٹ پیش کرے اور اپنی اسکیمات پر عمل کرنے لگے گی۔‘‘ ریاست میں لا اینڈ آرڈر صورتحال کے تعلق سے پوچھنے پر انھوں نے گورکھپور کے ایک واقعہ کا ذکر کیا جہاں ایک شخص کو کار میں زندہ جلا دینے کی اطلاعات ہیں۔ ’’اگر اس طرح کا واقعہ ایس پی حکومت کے دوران پیش آیا ہوتا تو میڈیا اسے بڑا مسئلہ بنا کر پیش کرتا۔ کونسا جرم پیش نہیں آرہا ہے۔ پولیس کو مارپیٹ کی جارہی ہے۔ کئی لوگوں کو اینٹی رومیو مہم کے نام پر ہراساں کیا جارہا ہے۔‘‘

اکھلیش بھی عظیم اتحاد کے لئے تیار
لکھنؤ15اپریل (سیاست ڈاٹ کام) سماج وادی پارٹی صدر اور اتر پردیش کے سابق چیف منسٹر  اکھلیش یادو نے آج کہا کہ غیر بی جے پی پارٹیوں کے کسی بھی عظیم اتحاد میں شامل ہونے کے لئے ایس پی تیار ہے ۔پارٹی کی ممبرشپ مہم کے آغاز کے موقع پر مسٹر یادو نے آج یہاں صحافیوں سے کہا کہ آنے والے وقت میں بی جے پی کے خلاف جو بھی اتحاد بنے گا ایس پی اس میں بھر پور کردار ادا کریگی، کیونکہ لوک سبھا کے آئندہ انتخابات کی اہم لڑائی اتر پردیش میں ہی ہوگی۔ اس ریاست میں لوک سبھا کی سب سے زیادہ 80 نشستیں ہیں۔انہوں نے تسلیم کیا کہ حال ہی میں اپنے دہلی دورے کے دوران انھوں نے نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے شرد پوار، بہار کے چیف منسٹر  نتیش کمار اور مغربی بنگال کی چیف منسٹر اور ترنمول کانگریس کی صدر ممتا بنرجی سے ملاقات کی تھی۔واضح ر ہے کہ بہوجن سماج پارٹی صدر مایاوتی نے بھی گزشتہ روز غیر بی جے پی پارٹیوں کا اتحاد قائم کرنے کی ضرورت ظاہر کی تھی۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT