Thursday , May 25 2017
Home / اداریہ / الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں پر شبہات

الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں پر شبہات

تم نے رکھا کسی کو نہ محرومِ التفات
آنسو ملے کسی کو، کسی کو ہنسی ملی
الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں پر شبہات
الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے تعلق سے وقفہ وقفہ سے شبہات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے ۔ کسی امیدوار کی جانب سے یا کسی سیاسی جماعت کی جانب سے ان مشینوں میں چھیڑ چھاڑ کے الزامات عائد کئے جاتے رہے ہیں۔ کسی نے بھی اب تک اس تعلق سے الزامات کو سنجیدگی سے نہیں لیا تھا ۔ ماضی میں خود بی جے پی کے سینئر لیڈر ایل کے اڈوانی نے تک بھی ووٹنگ مشینوں کے تعلق سے سوال کے تھے اور ان پر شبہات کا اظہار کیا گیا تھا ۔ آندھرا پردیش کے چیف منسٹر این چندرا بابو نائیڈو بھی اس تعلق سے اندیشوں کا اظہار کرچکے ہیں۔ ماضی میں ٹی وی چینلس پر بھی اس پر مباحثے ہوئے ہیں اور ایک شخص نے لائیو بلیٹن میں ان مشینوں میں چھیڑ چھاڑ ثابت کرنے کا دعوی کیا تھا ۔ اکثر و بیشتر جو امیدوار یا سیاسی جماعتیں انتخابات میں شکست کھا جاتی ہیں ان کی جانب سے اس طرح کے الزامات عائد کئے جاتے ہیں جو امیدوار اور سیاسی جماعتیں کامیابی حاصل کرلیتی ہیں ان کی جانب سے اس طرح کے الزامات کو مسترد کیا جاتا رہا ہے ۔ تاہم اترپردیش اسمبلی انتخابات کے نتائج کے بعد سے اس مسئلہ پر مختلف گوشوں کی جانب سے رائے ظاہر کی جانے لگی ہے ۔ جس دن نتائج کا اعلان ہوا اسی دن سے بہوجن سماج پارٹی کی سربراہ مایاوتی کی جانب سے ان مشینوں پر شبہات کا اظہار کیا گیا اور انہوں نے ان میں چھیڑ چھاڑ کا واضح الزام عائد کیا ۔ مایاوتی کے الزامات کو شکست کا نتیجہ قرا ردیا جا رہا تھا لیکن بعد میں جس طرح سے اس مسئلہ پر انہوں نے مہم چلائی ہے اور کئی اور گوشوں سے بھی یہ الزامات عائد کئے جا رہے ہیں تو یہ الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے کہ اس پر عوام میں پائے جانے والے شبہات کو دور کیا جائے ۔ بہوجن سماج پارٹی کی جانب سے اس مسئلہ پر الیکشن کمیشن سے بھی نمائندگی کی گئی تھی اور سپریم کورٹ میں بھی درخواست دائر کی گئی ہے ۔ اب ایسا لگتا ہے کہ اس مسئلہ پر زیادہ سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے ۔ حالانکہ الیکشن کمیشن نے اس طرح کے الزامات کو ابتداء سے مسترد کردیا ہے اور الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کو چھیڑ چھاڑ سے پاک قرار دیا لیکن کمیشن کی وضاحت ان شکوک و شبہات کو دور نہیں کر پائی ہے جو سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کے الزامات کی وجہ سے عوام کے ذہنوں میں پیدا ہوئے ہیں۔
ووٹنگ مشینوں میں چھیڑ چھاڑ یا ان کے ذریعہ بے قاعدگیوں کے الزامات محض شکست خوردہ جماعتوں یا امیدواروں کی حد تک محدود نہیں ہوسکتے ۔ ہندوستان میں انتخابات جمہوری عمل کا حصہ ہیں اور جمہوریت کے ساتھ اگر کوئی مذاق یا کھلواڑ ہوتا ہے یا واقعتا اگر عوام کی رائے کو دباتے ہوئے کسی مخصوص جماعت یا امیدوار کے حق میں رائے تیار کی جاتی ہے تو یہ جمہوریت سے انتہائی درجہ کا کھلواڑ ہے اور اس کا تقدس پامال ہوتا ہے ۔ ووٹنگ مشینوں پر جو شبہات ظاہر کئے جا رہے ہیں اور ان میں چھیڑ چھاڑ کے جو الزامات عائد کئے جا رہے ہیں وہ ضروری نہیں کہ درست ہی ہوں ۔ یہ سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کی مایوسی کی وجہ سے بھی عائد کئے جاسکتے ہیں لیکن اس تعلق سے اگر عوام کے ذہنوں میں بھی کوئی شک و شبہ پیدا ہوتا ہے اور انتخابات کی غیر جانبداری پر سوال پیدا ہوتا ہے تو اس کو دور کرنا خود مرکزی حکومت کی اور اس سے زیادہ الیکشن کمیشن کی ذمہ داری بنتی ہے ۔ الیکشن کمیشن نے اب تک اس مسئلہ پر جو وضاحتیں کی ہیں وہ ناکافی ہیں اور ان سے عوام کے شبہات کو ختم نہیں کیا جاسکا ہے ۔ کمیشن نے اب تک یہ وضاحت نہیں کی کہ کسی بھی ووٹر کو اپنا ووٹ استعمال کرنے کے بعد اس تعلق سے توثیق کی سلپ فراہم کرنے کا انتظام کیوں نہیں کیا گیا ہے حالانکہ اس کیلئے پہلے سے سپریم کورٹ کی ہدایات بھی موجود ہیں۔ اب الیکشن کمیشن نے ووٹنگ مشینوں میں چھیڑ چھاڑ یا انہیں ہیک کرنے کے الزامات کو ثابت کرنے کھلے چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ یہ کام ہندوستان جیسے ملک کے الیکشن کمیشن کے شایان شان نہیں ہوسکتا ۔
کسی کو چیلنج کرنے سے یا مشینوں میں نقص کو دور کرنے کے عمل سے کمیشن عوام کے شکوک و شبہات کو دور نہیں کرسکتا ۔ اس کیلئے اسے سنجیدگی سے کام کرنے کی ضرورت ہے اور جس طرح سے عدالت کی ہدایات موجود ہیں ان کو دیکھتے ہوئے رائے دہندوں کو توثیق سے متعلق سلپ فراہم کرنے کے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔ اس کے علاوہ کمیشن شکایت کرنے والی جماعتوں سے بھی اس تعلق سے ثبوت و شواہد فراہم کرنے پر توجہ دے سکتا ہے تاکہ مسلسل الزامات کی وجہ سے جو شکوک پیدا ہو رہے ہیں ان کو دور کیا جاسکے اور سیاسی جماعتوں کی جانب سے بھی مستقبل میں اس طرح کے الزامات عائد کرنے کا سلسلہ بھی رک جائے ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT