Monday , September 25 2017
Home / Top Stories / الیکٹورل کالج نے ٹرمپ کی کامیابی پر مہر ثبت کردی

الیکٹورل کالج نے ٹرمپ کی کامیابی پر مہر ثبت کردی

اپوزیشن کی کوششیں ناکام، امریکہ کو ایک بار پھر عظیم بنانے ٹرمپ کا عزم

واشنگٹن ۔ 20 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) ڈونالڈ ٹرمپ نے آج امریکہ کے 45 ویں صدر ہونے کیلئے الیکٹورل کالج ووٹ میں بھی کامیابی حاصل کرلی اور اس طرح اب وائیٹ ہاؤس منتقل ہونے کی پوری تیاریاں ہوچکی ہیں۔ اپوزیشن کی تمام تر کوششیں ناکام ہوگئیں جہاں یہ دعوے کئے جارہے تھے کہ روسی ہیکرس نے تمام ووٹس ٹرمپ کے حق میں کردیئے۔ ٹرمپ کی شاندار فتح کو دیڑھ ماہ کا عرصہ گذر چکا ہے اور الیکٹورل کالج نے آج ووٹنگ کے ذریعہ ٹرمپ کے امریکہ کے 45 ویں صدر ہونے پر مہر ثبت کردی۔ ٹرمپ کو 304 الیکٹورل ووٹس حاصل ہوئے جبکہ ہلاری کلنٹن کو 227 ووٹس ہی مل سکے جبکہ دیگر سات غیرجانبدار الیکٹرس نے دیگر امیدواروں کے حق میں ووٹ ڈالے جس کی وجہ سے ٹرمپ کو دور اور ہلاری کو چار ووٹس کا نقصان ہوا۔ یہاں اس بات کا تذکرہ دلچسپ ہوگا کہ جہاں تک ہلاری کی مقبولیت کا سوال ہے وہاں انہوں نے اپنے مداحوں کے حلقوں میں ٹرمپ سے تین ملین زائد ووٹس حاصل کئے تھے۔ بہرحال اب نتیجہ یہ سامنے آیا ہیکہ اپوزیشن ریپبلکن الیکٹرس کو وڈنالڈ ٹرمپ کی مخالفت کرنے کیلئے اکسانے میں ناکام ہوگیا۔ اس دوران ٹرمپ نے ایک اہم بیان دیتے ہوئے کہا کہ آج کا دن امریکہ کی جمہوریت کی تاریخ میں اہم ترین دن ہے کیونکہ الیکٹورل کالج ووٹنگ میں بھی انہیں زبردست کامیابی حاصل ہوئی ہے اور اس کیلئے میں  امریکی عوام کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے ان کے (ٹرمپ) 270 کے ووٹ مارک کو پار کرنے کے بعد انہیں (ٹرمپ) امریکہ کا 45 واں صدر منتخب کرلیا۔ یاد رہیکہ ڈونالڈ ٹرمپ 20 جنوری 2017ء کو امریکہ کے 45 ویں صدر کی حیثیت سے حلف لیں گے۔ ٹرمپ نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ الیکٹورل کالج کی جانب سے جو ووٹ ڈالے گئے تھے

وہ درکار تعداد یعنی 270 سے کہیں زیادہ تھے اور میڈیا نے جو توقعات وابستہ کی تھیں، ٹرمپ کی جیت ان توقعات سے بھی زیادہ رہی۔ امریکہ کے لاکھوں جفاکش مرد و خواتین نے میرے انتخاب کو ممکن بنایا جس کیلئے میں ان تمام سے اظہارتشکر کرتا ہوں اور اب ہم انتہائی سکون و اطمینان کے ساتھ امریکہ کے روشن مستقبل کی جانب پیشرفت کرسکتے ہیں۔ میں پوری کوشش کروں گا کہ امریکہ ہر محاذ پر متحد رہے۔ میں صرف کسی مخصوص طبقہ کا صدر نہیں ہوں بلکہ پوری امریکی عوام کا صدر ہوں اور اس طرح ہم سب امریکہ کو ایک بار پھر عظیم ملک میں تبدیل کردیں گے۔ بعدازاں ٹرمپ نے ٹوئیٹ کرتے ہوئے میڈیا کو بھی نہیں بخشا اور انتخابی مہمات کے دوران میڈیا کے منفی رویہ کی زبردست مذمت کی۔ انہوں نے میڈیا کو نشانہ بناتے ہوئے طنزیہ انداز میں ٹوئیٹ کیا کہ ہم ایک بار پھر جیت گئے اور اب تو اس کی باقاعدہ (الیکٹورل کالج) توثیق کی جاچکی ہے اور ان کے صدر بننے پر مہر ثبت کی جاچکی ہے۔ دراصل الیکٹورل کالج کی ووٹنگ بھی محض ضابطہ کی تکمیل کا نام ہے جہاں کالج کے ارکان کامیاب امیدوار کے حق میں یا اس کے خلاف ووٹ ڈالتے ہیں تاہم ایسا شاذ و نادر ہی ہوتا ہیکہ مخالفت کے ووٹ زیادہ پڑجائیں۔ یہاں ایک بار پھر اس بات کا تذکرہ دلچسپ ہوگا کہ ٹرمپ کے مخالفین کی وہ تمام کوششیں ناکام ہوگئیں جو ان کی وائیٹ ہاؤس تک رسائی کے درمیان حائل ہونا چاہتے تھے۔ ٹرمپ کی جیت کو اس وقت یقینی سمجھ لیا گیا تھا جب یہ خبریں گشت کررہی تھیں کہ روس امریکی انتخابی عمل میں بہت زیادہ دخل اندازی کررہا ہے۔

TOPPOPULARRECENT