Saturday , September 23 2017
Home / مذہبی صفحہ / امام احمد رضا علیہ الرحمہ اور تحقیق زلزلہ

امام احمد رضا علیہ الرحمہ اور تحقیق زلزلہ

اس سے قبل کہ مسلم سائنسداں امام احمد رصا قادری بریلوی (م ۱۳۴۰ھ ؍ ۱۹۲۱) کا زلزلہ سے متعلقہ موقف پیش کروں یہ ضروری سمجھتا ہوں کہ پہلے اختصار کے ساتھ زلزے سے متعلق بنیادی معلومات فراہم کروں تاکہ مطالعہ کرنے والے قارئین حضرات یہ جان سکیں کہ برصغیر پاک و ہند کے عظیم سائنسدان علم کے ہر گوشہ سے بھرپور واقفیت رکھتے اور ہمیشہ اپنا موقف قرآن و حدیث کی روشنی میں پیش کیا۔ افسوس اس بات کا ہے کہ دور حاضر میں ۹۹ فیصد مسلمان اور مسلم سائنسداں آج صرف اور صرف مغربی افکار کا مطالعہ کرتے ہیں اور ان خیالات اور تحقیق کو حرف آخر سمجھتے ہیں ۔ وہ یہ بھی نہیں جانتے کہ آج دنیا کی ساری ترقی پچھلے مسلمان سائنسدانوں کی مرہون منت ہے ،کاش کہ مسلمان فی زمانہ بھی قرآن و حدیث کا عمیق مطالعہ کریں اور ہرعلم سے متعلق اپنا علیحدہ موقف قرآن و حدیث کی روشنی میں پیش کریں اور علم دین کا علم بلند رکھیں۔

زلزلہ کیا ہے ؟
زمین میں اگر تھرتھراہٹ پیدا ہو یا زمین میں دراڑیں پڑجائیں یا اچانک زمین پہاڑ کا کچھ حصہ ایک دوسرے سے میلوں دور کھسک جاتا ہے ،زمین اُلٹ جاتی ہے ، کہیں کہیں کہیں زمین پھٹ جاتی ہے جس کے باعث بعض دفعہ زمین ایسے جھولتی ہے جیسے کوئی جھولے پر بیٹھا ہو ، گڑگڑاہٹ اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ بعض وقت اموات اسی آواز کے باعث ہوجاتی ہیں یہ سب کیسے ہوتا ہے اس کیلئے وہ اقتباسات ملاحظہ کیجئے :
An earthquake is a sudden motion or trembling in the Earth caused by the abrupt release of slowly accumulated strain by faulting of volcanoes (Glossary p.151) Earthquake : a shaking of the ground caused by the sudden dislocation of material within the earth. Some earthquakes are so slight that they are barely felt, others are so violent that they cause extensive damage.
The focus of an earthquake is the centre of the region where the earthquake originates and it usually less than 20 miles below the earth’s surface directly above the focus is called the Epicentre near which most earthquake demages occur (the webster Encyclopedia vol.6p.186)

زلزلے کا مرکز
زلزلہ اگرچہ کہیں بھی کسی وقت آسکتا ہے مگر اس کے کچھ علاقے ایسے ہیں جہاں یہ اکثر آتے رہتے ہیںمثلاً شمالی اور جنوبی امریکہ کا مغربی ساحلی علاقہ اور جاپان ، فلپائن کا علاقہ 85% زلزلہ کی زد میں جبکہ ہمالیہ ، کوہ قاف ، کواہ الپائن یورپ تک پہاڑی سلسلہ 10% زلزلہ سے متاثر رہتا ہے جبکہ بقیہ 5 فیصد زلزلہ دنیا میں کہیں بھی آسکتے ہیں۔ زمین کا وجود سائنس کی تحقیق کے مطابق 4500 ملین سال قبل ہوا تھا جبکہ قرآنی معلومات کے مطابق انسان کی پیدائش سے 6 دن پہلے اﷲ تعالیٰ نے زمین و آسمان اور جو کچھ اس کے اندر ہے تخلیق فرمایا لیکن اس حقیقت کا کوئی تعین نہیں کہ اﷲ عزوجل کا ایک دن ہمارے کتنے سالوں کے برابر ہے ۔ اگر ایک دن 1000 ملین کے برابر ہوجائے تو سائنس کا اندازہ صحیح ہوسکتاہے ۔ بہرکیف جب زمین وجود میں آئی آگ کا ایک دھکتا ہوا گولہ تھی آہستہ آہستہ ٹھنڈی ہوئی جس کے باعث اوپر تو آتشی چٹانیں بن گئیں مگر اس کے نیچے یا زمین کے خول میں لاو امائع کی صورت میں موجود رہا جو ہر وقت اس طرح گھوم رہا ہے جس طرح کوئی انسان ہاتھ سے لسی بناتا ہے تو دہی گھومتا ہے اور اوپر کا نیچے اور نیچے کا اوپر ہوتا رہتا ہے بالکل اسی طرح یہ لاوا زمین کے اندر گھوم رہا ہے اور اوپر کی چٹان پر آکر ٹکراتا بھی ہے اور کہیں کہیں سے آتش کے پھٹنے کا باعث بھی ہوجاتا ہے ۔
آتشی پہاڑ زمین پر (Continental Crust) اور سمندر کے تہہ کے نیچے Oceanic Crust کی صورت میں چاروں طرف سے لاوا کو ڈھانپے ہوئے ہیں اور یہ سخت موٹی تہہ ایک دوسرے سے دور ہورہی ہیں کہیں یہ Crust Plate میں تقسیم ہیں اور یہ کئی جگہ سے ایک دوسرے کے اوپر چڑھ رہی ہیں اور کہیں ایک پلیٹ دوسرے کے نیچے جارہی ہے جس کے باعث ان کے سروں Margines پر دباؤ بہت زیادہ ہوجاتا ہے تو اب یہ خارج ہونا بھی چاہتا ہے ۔ پہاڑوں کی رگوں Fault Zones سے اس کا اخراج اسان ہوتا ہے یہ ہی وہ جگہ ہوتی ہے جہاں زلزلہ محسوس کیا جاتا ہے کیونکہ زلزلہ ہم اس وقت محسوس کرتے ہیں جب یہ کہ سائنس اس دباؤ (Strain) یا اس انرجی کے اخراج کو زلزلہ بتاتی ہے مگر امام احمد رضا اس کے خلاف ہیں ۔ آپ کا کہنا یہ ہے کہ Storedenergy کا اخراج سبب زلزلہ نہیں بلکہ یہ اخراج زلزلہ Resultant ہے ۔ زلزلہ کا سبب ان پہاڑی سلسلوں میں موجود ریشوں Root میں کسی قسم کی حرکت کے سبب آتا ہے آئیے امام احمد رضاؒ کی تحقیق اور جستجو سے آگاہی حاصل کریں۔
راقم امام احمد رضاؒ کی فتاوی رضویہ کی جلد 12 کا مطالعہ کررہا تھا اس کے دوران استفتاء ایسے نظر آئے جس میں سوالات کرنیوالوں نے زلزلے کے سبب سے متعلق سوالات کئے۔ ایک سوال کا جواب تو بہت مختصر تھا دوسرا خاص طویل جس کو اختصار کے ساتھ یہاں تحریر کروں گا تاکہ قارئین کی دلچسپی بھی قائم رہے اور مضمون میں ربط بھی برقرار رہے ۔ امام احمد رضاؒ کے جواب میں جو عبارات قوسین میں نظر آئے وہ اس احقر کی ہے جو صرف قاری کو سمجھانے کی خاطر تحریر کی ہے تاکہ امام احمد رضاؒ کی بات آسانی سے سمجھ سکے ۔ آئیے اب ان دونوں فتاویٰ کا جائزہ لیں۔

سوال : مرسلہ مولوی شاہ
زلزلہ آنے کا سبب کیا ہے ؟
جواب : اصلی بات یہ ہے کہ زلزلہ آنے کا باعث آدمیوں کے گناہ ہیں ، اور پیدا یوں ہوتا ہے کہ ایک پہاڑ تمام زمین کو محیط ہے(غالباً اس سے مراد Oceanic and Continental Crustکی تہہ ہے جو یقینا پوری زمین پر محیط ہے اور یہ سب آتشی چٹانیں ہیں ) اور اس کے ریشے ( اس سے مراد ان Crust کے Roots ہیں پوری زمین کو محیط ہے اور کہیں اس کی تہہ سو میل سے کم ہے اور کہیں یہ تہہ 500 میل سے بھی زیادہ ہے)  زمین کے اندر اندر سب جگہ پھیلے ہوئے ہیں جیسے بڑے درخت کی جڑیں دور تک اندر اندر پھیلتی ہیں۔ جس زمین پر معاذاللہ زلزلہ کا حکم ہوتا ہے وہ پہاڑ اس جگہ کے ریشے Roots کو جنبش دیتا ہے زمین ہلنے لگتی ہے ۔
(فتاویٰ رضویہ جلد ۱۲ صفحہ ۱۸۹ مطبوعہ ممبئی انڈیا)
دوسرا مسئلہ سردار مجیب الرحمن خان نے ۲۶ صفر ۱۳۲۷ھ میں ضلع کھیری سے کیا تھا ۔
سوال : (۱) نسبت زلزلہ مشہور ہے کہ زمین ایک شاخِ (سینگ ) گاؤ پر ہے کہ وہ ایک مچھلی پر کھڑی رہتی ہے۔ جب اس کا سینگ تھک جاتا ہے تو دوسرے سینگ پر بدل کر رکھ لیتی ہے۔ اس سے جو جنبش و حرکت زمین کو ہوتی ہے اس کو زلزلہ کہتے ہیں۔ اس میں استفتاء یہ ہے کہ
(۲) سطح زمین ایک ہی ہے، اس حالت میں جنبش سب زمین کو ہونا چاہیے۔(۳) زلزلہ سب جگہ یکساں آنا چاہیے۔ (۴) گزارش یہ ہے کہ کسی جگہ کم ، کسی مقام پر زیادہ، کہیں بالکل نہیں آتا۔
(۵) جو کیفیت اور حالت صحیح ہو، اس سے معزز فرمائیے۔
جواب : یہ گمان باطل ہے کہ زمین گائے کے سینگ پر اور وہ مچھلی پر ۔ (۲۔۳ اور ۴) کاجواب دیتے ہوئے رقمطراز ہیں: زمین اجزائے متفرقہ کا نام ہے ( زمین ذرات کے آپس میں جڑے رہنے سے بنی ہے اگر غور سے دیکھا جائے (خوردبین کے ذریعہ ) تو یہ سب متفرقہ اجزاء نظر آئیں گے اور ان کے درمیان جگہ Voids ہوتے ہیں) تو اس حرکت کا اثر بعض اجزا ء کو پہنچنا بعض کو نہ پہنچنا مستبعد (دوراز قیاس ) نہیں (زلزلہ اس لئے کہیں کم اور زیادہ محسوس ہوتا ہے کہ یہ پہاڑ کوئی ایک جسم تو نہیں ذرہ ذرہ جڑا ہوا ہے اور اس میں بھی سوراخ ہیں اس لئے جنبش جب کہیں شروع ہوتی ہے تو وہ آگے جاکر کم سے کم ہوتی چلی جاتی ہے اس لئے زلزلہ مختلف جگہ مختلف قوت کا ہوتا ہے ) ۔
عقیدہ توحید کااظہار کرتے ہوئے لکھتے ہیں : اہل سنت کے نزدیک ہر چیز کا سبب اصلی محض ارادہ اللہ عزوجل ہے۔ جتنے اجزاء کے لیے ارادہ تحریک ہوا انہیں پر اثر واقع ہوتا ہے وبس۔ آگے چل کر فاضل بریلوی سبب زلزلہ پر گفتگو فرماتے ہیں ، ملاحظہ کیجئے : خاص خاص مواضع میں زلزلہ آنا، دوسری جگہ نہ ہونا،اور جہاں ہونا وہاں بھی شدت و خفت میں مختلف ہونا، اس کا سبب وہ نہیں جو عوام بتاتے ہیں۔ سبب حقیقی تو وہی ارادۃ اﷲ ہے ، اور عالمِ اسباب میں باعث اصلی بندوں کے معاصی۔
مااصابکم من مصیبۃ فبما کسبت ایدیکم ویعفوعن کثیر،۔
ترجمہ : تمہیں جو مصیبت پہنچتی ہے تمہارے ہاتھوں کی کمائیوں کابدلہ ہے اور بہت کچھ معاف فرمادیتا ہے۔
اور وجہ وقوع کوہ قاف کے ریشے (Roots) کی حرکت ہے۔ حق سبحانہ و تعالیٰ نے تمام زمین کو محیط ایک پہاڑ پیدا کیا ہے جس کا نام قاف ہے (یہاں قاف سے مراد Crust پوری زمین کو محیط ہے جس کی جڑیں Sial تک ہوتی ہیں اور یہ Sial لاوا مائع کی حالت میں ہے ) کوئی جگہ ایسی نہیں جہاں اس کے ریشے زمین میں نہ پھیلے ہوں۔جس طرح پیڑ کی جڑ بالائے زمین تھوڑی سی جگہ میں ہوتی ہے اس کے ریشے زمین کے اندر اندر بہت دور تک پھیلے ہوئے ہوتے ہیں کہ اس کے لئے وجہ قرار ہوںاور آندھیوں میں گرنے سے روکیں۔ پھر پیڑ جس قدر بڑا ہوگا اتنی ہی زیادہ دور تک اس کے ریشے گھیریں گے۔ جبل قاف جس کا تمام کرہ زمین کو اپنے لپیٹ میں لئے ہے اس کے ریشے ساری زمین میں اپنا جال بچھائے ہیںاور کہیں اوپر ظاہر ہو کر پہاڑیاں ہوگئے (یعنی Mountion Chainsبن گئے جیسے ہمالیہ ، الپائن وغیرہ وغیرہ ) کہیں سطح تک آکر تھم رہے جسے زمین سنگلاخ کہتے ہیں(یہ Sheld کے علاقے ہوتے ہیں جہاں پہاڑ تو نہیں مگر وہاں کی زمین آتشی نوعیت کی ہوتی ہے جیسے ہندوستان میں راجستھان کا علاقہ یا پاکستان میں تھرپارکر کا علاقہ جہاں کی زمین پر آتشی زمین Granite Rocks کی ہے ) کہیں زمین کے اندر ہے قریب یا بعید ایسے کہ پانی کے ان (Shore Line) سے بھی نیچے آتشی پہاڑ کے سلسلے زمین نیچے کم گہرائی یا بہت گہرائی کے بعد بھی آتشی چٹانیں (Oceanic Crust) کی شکل میں موجود ہوتی ہیں۔ ان تینوں حالتوں Curttal / Oceanic Continon Crust کے اوپر نرم رسولی Tar/Sedimen چٹانیں پائی جاتی ہیں)  ان مقامات میں زمین کا بالائی حصہ دور تک نرم مٹی رہتا ہے۔ ہمارے قرب کے عام علاقے  ایسے ہی ہیں ( کہ اوپر نرم مٹی کے پہاڑ ہیں جیسے جبل پور ، نینی تال یا پنجاب کے پہاڑی علاقے ) مگر اندر اندر ( یعنی نیچے ان نرم پہاڑوں کے ) قاف کے رگ و ریشہ سے کوئی جگہ خالی نہیں (کہ اس نرم پہاڑوں کے نیچے آتشی پہاڑیاں Oceanic Crust Continenetal Crust موجود ہے جس کی شاخیں نیچے تک جاتی ہیں اور وہاں تک جاتی ہیں جہاں لاوا مائع (Sail) کی حالت موجود ہے اور یہ لاوا حرکت کرتا رہتا ہے اور یہ حرکت ان Roots میں حرکت پیدا کرتی ہے اور یہ اوپر منتقل ہوتی جاتی ہے اور اوپر کی سطح تک پہنچ کر وہاں زلزلہ کا سبب بنتی ہے) ۔

جس جگہ زلزلہ کیلئے ارادۃ اﷲ عزوجل ہوتا ہے قاف کو حکم دیتا ہے کہ وہ اپنے وہاں کے ریشے کو جنبش دے۔ صرف وہیں زلزلہ آئے گا جہاں کے ریشے کو حرکت دی گئی(یعنی جہاں لاوا کے حرکت سے Roots Crust میں حرکت ہوگی اوپر ان ہی پہاڑی علاقوں میں زلزلہ آئے گا )  پھر جہاں خفیف کا حکم ہے اس کے محاذی ریشہ کو آہستہ ہلاتا ہے اور جہاں شدید کا امر ہے وہاں بقوت، یہاں تک کہ بعض جگہ صرف ایک د ھکا سا لگ کر ختم ہوجاتا ہے۔ اور اسی وقت دوسرے قریب مقام کے درو دیوار جھونکے لیتے اور تیسری جگہ زمین پھٹ کر پانی نکل آتا ہے۔یا عنف حرکت سے مادہ کبریتی مشتعل ہو کر شعلے نکلتے ہیں چیخوں کی آواز پیدا ہوتی ہے۔فاضل بریلویؒ یہاں Intensity or Earthquakes Magnitude کے متعلق گفتگو فرمارہے ہیں اور اس کے اسکیل کے متعلق بتارہے ہیں کہ جب زلزلہ آتا ہے تو کہیں ہلکا محسوس ہوتا ہے کہیں زمین پھٹ جاتی ہے وہ پانی اُگل دیتی ہے یا پھر بعض دفعہ آتشی مادہ نکلنے لگتا ہے جوکہ آگ کی صورت میں ہی ہوتا ہے اور ساتھ ہی گڑگڑاہٹ کی بہت تیز آوازیں آتی ہیں۔
زمین کے نیچے رطوبتوں (Liquidmagma) میں حرارت شمس کے عمل سے بخارات سب جگہ پھیلے ہوئے ہیں ( جوکہ پتھروں کے سوراخوں میں (Voldes) موجود ہوتے ہیں ) اور بہت جگہ دُخانی مادہ (Gaseous Vapours) ہے، جنبش کے سبب منافذِ زمین متسع ہو کر وہ بخار و دُخان نکلتے ہیں(یعنی جب زمین میں حرکت شروع ہوتی ہے تو اس کے سبب میں زمین میں حرکت شروع ہوجاتی ہے تو اس کے سبب میں زمین میں دراڑیں پیدا ہوتی ہیں اور ان دراڑوں کے ذریعہ gasos یا بخارات جو اندر جمع تھے باہر نکلتے ہیں دھواں دھواں ہوجاتا ہے ) طبیعات میں پاؤں تلے کی دیکھنے والے (یعنی علم طبیعات ماہرین ) انہیں کے ارادہ خروج کو سبب  زلزلہ سمجھنے لگے حالانکہ اُن کا خروج بھی سبب زلزلہ کا مسبب ہے۔یعنی ماہرین طبیعات تو یہ سمجھ رہے ہیں کہ زلزلہ اس لئے آتا ہے کہ یہ چٹانوں سے ان کے اندر کی گیس یا اور قسم انرجی نکلنے کے سبب زلزلہ آتا ہے جبکہ امام احمد رضا کا موقف یہ ہے کہ زلزلے کے نتیجے میں کہیں پانی نکلتا ہے کہیں آتشی مادہ نکلتا ہے گیس و بخارات خارج ہوتے ہیں اور وجہ زلزلہ کی اصل یہ ہیکہ ان Crustat rock کی جب Roots ہلتی ہیں تو اوپر سطح پر ان کے اثرات مرتب ہوتے ہیں جس کے باعث اور نتیجہ میں اشیاء خارج ہوتی ہیں یا آوازیں پیدا ہوتی ہیں یا زمین ہلتی ہے اور سونا اُگلتی ہے ۔
آخر میں امام احمد رضا سیدنا عبداﷲ ابن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے ایک روایت نقل کرتے ہیں : ’’اﷲ عزوجل نے ایک پہاڑ پیدا کیا جس کا نام قاف ہے، وہ تمام زمین کو محیط ہے اور اس کے ریشے اس چٹان تک پھیلے ہیں جس پر زمین ہے ،جب اللہ عزوجل کسی جگہ زلزلہ لانا چاہتا ہے اس پہاڑ کو حکم دیتا ہے وہ اپنے اس جگہ کے متصل ریشے کو لرزش و جنبش دیتا ہے۔ یہی باعث ہے کہ زلزلہ ایک بستی میں آتا ہے۔ دوسری میں نہیں۔(فتاویٰ رضویہ جلد ۱۲ صفحہ ۱۹۱ )

Top Stories

TOPPOPULARRECENT