Wednesday , September 20 2017
Home / مذہبی صفحہ / امام مالکؒ کی حق گوئی اور عباسی خلفاء

امام مالکؒ کی حق گوئی اور عباسی خلفاء

ابو عبداﷲ

امام مالکؒ نے اپنی چھیاسی سال کی عمر میں ولید بن عبدالملک سے لے کر ہارون رشید تک ، بنوامیہ اور بنو عباس کے متعدد حکمرانوں کو دیکھا ۔ آپؒ ان سے ملتے بھی رہے ، بعض اوقات ان کے تحفے بھی آپ نے قبول فرمائے ۔ لیکن تاریخ شاہد ہے کہ اس مردِ جری نے کبھی کسی حکمران کے سامنے حق بات کہنے سے گریز نہ کیا ، کسی حکمران کی خوشامد نہ کی اور کسی حکمران سے بے جا رعایتیں حاصل نہ کی۔ آپ سے ایک شاگرد نے کہا ’’لوگ کہتے ہیں آپ امراء سے ملتے ہیں ‘‘ ۔ فرمایا ’’یہ تو میرے لئے لازم ہے اس لئے کہ میں انہیں بہت سی نامناسب باتوں سے منع کرتا ہوں ‘‘۔ ایک اور بار خلفاء کے دبار میں جانے پر اعتراض کیا گیاتو جواب دیا ’’اگر نہ جاؤں تو حق گوئی کا موقع کہاں ملے ؟ ‘‘۔
خلیفہ مہدی نے اپنے دونوں بیٹوں موسیٰ اور ہارون کو حکم دیا کہ امامؒ صاحب سے مؤطا سنیں۔ شہزادوں نے امام صاحبؒ کو بلوایا ۔ امام صاحبؒ نے بے نیازی سے کہا ’’علم بیش قیمت چیز ہے ، اس کے پاس خود شائقین آتے ہیں ‘‘۔
ہارون رشید ۱۷۰ ھ میں خلیفہ بنا ۔ چار سال بعد وہ اپنے دونوں بیٹوں کو لیکر حج کے ارادے سے آیا۔ آپ سے ملا تو مؤطا سننے کی خواہش ظاہر کی ۔ آپؒ نے فرمایا ’’کل کا دن اس کے لئے ہے ‘‘۔ ہارون اگلے دن انتظار کرتا ہے مگر آپؒ نہیں گئے ۔ ہارون رشید نے شکایت کی ، امام صاحب نے فرمایا : ’’علم کے پاس لوگ آتے ہیں ، علم لوگوں کے پاس نہیں جاتا ‘‘۔ آخر ہارون خود اپنے دونوں بیٹوں کو لے کر امام صاحب کی مجلس میں حاضر ہوا ، وہاں طلبہ کا ہجوم تھا ۔ ہارون نے کہا ’’اس بھیڑ کو الگ کردیجئے ‘‘۔ امام صاحب نے کہا کہ ’’ایک شخص کے فائدے کیلئے عام افادہ کا خون نہیں کیا جاسکتا ‘‘۔ امام صاحب سب سے زیادہ اس بات سے ڈرتے تھے کہ خلفاء اور حکام کے نزدیک جو لوگ رہتے ہیں وہ ان کی جھوٹی تعریف کرتے ہیں ، چنانچہ آپؒ ایسے شخص سے سخت ناراض ہوتے تھے جو بادشاہوں کے منہ پر تعریف کرتا ہو۔ ایک حاکم امام صاحب کے پاس موجود تھا ۔ حاضرین میں سے کسی نے حاکم کی تعریف شروع کردی ۔ امام صاحب برہم ہوگئے فرمایا ’’احتیاط کرو ، ایسا نہ ہو کہ تعریف کرنے والوں کے دھوکے میں آجاؤ‘‘۔

TOPPOPULARRECENT