Wednesday , September 20 2017
Home / مضامین / امان کی کامیابیوں کا سلسلہ جاری

امان کی کامیابیوں کا سلسلہ جاری

کے این واصف
حیدرآباد دکن کے ہونہار ٹیبل ٹینس کھلاڑی محمد امان الرحمن نے مقامی اور قومی کھیل کے میدانوں میں اپنی صلاحیتوں کا بہترین مظاہرہ کرنے کے بعد اب بین الاقوامی سطح پر بھی ا پنی فتوحات ریکارڈ کرواکر این آر آئیز بچوں میں اپنا ایک منفرد مقام بنالیا۔ امان الرحمن نے پچھلے دنوں قطر میں منعقد بین الاقوامی بوائز اینڈ Cadet ٹی ٹی ٹورنمنٹ کے ڈبلز میں گولڈ مڈل حاصل کیا اور اس نے سنگلز میںبھی اچھا مظاہرہ کیا۔
اس کے علاوہ امان الرحمن کا پچھلے پورے ایک سال میں بھی شاندار ریکارڈ رہا جس کی تفصیل اس طرح ہے ۔

* سب جونیئر تلنگانہ اسٹیٹ رینکنگ ٹی ٹی ٹورنمنٹ ونر* سب جونیئر ڈسٹرکٹ رینکنگ ٹورنمنٹ ونر* ساؤتھ زون رینکنگ ٹورنمنٹ میں تلنگانہ ا سٹیٹ کی نمائندگی کی جو چینائی میں منعقد ہوا۔ دہلی میں منعقدہ نارتھ زون میں تلنگانہ اسٹیٹ کی نمائندگی کی * آسام میں منعقدہ ایسٹ زون میں اپنی اسٹیٹ کی نمائندگی کی * ہماچل پردیش میں منعقدہ 77 ویں جونیئر این یوتھ نیشنل ٹی ٹی ٹورنمنٹ میں بھی ریاست تلنگانہ کی نمائندگی کی * انڈر 16 بوائز CBSE اسکولس گیمس منعقدہ جدہ سعودی عرب میں ریاض کی نمائندگی کی اور ونر رہے * سعودی اسکولس CBSE گیمس انڈر 15 کے ونر * مغربی بنگال میں 77 ویں سب جونیئر ٹی ٹی ٹورنمنٹ میں Bronz مڈل حاصل کیا * بحرین میں منعقدہ بوائز سنگل ٹی ٹی ٹورنمنٹ میں کوارٹر فائنل تک کھیلا * قطر میں منعقدہ بین الاقوامی جونیئر اینڈ Cadet ٹورنمنٹ میں گولڈ مڈل حاصل کیا۔

یہاں ملک میں ہمارے ہونہار بچے تعلیم ، کھیل اور دیگر شعبہ جات میں اپنے جوہر دکھا رہے ہیں اور اپنا لوہا منوا رہے ہیں، ویسے بھی ملک سے باہر رہنے والے غیر مقیم ہندوستانی بچے بھی اپنے ہم وطن ساتھیوں سے پیچھے نہیں ہیں جس کی ایک مثال ٹیبل ٹینس کھلاڑی محمد امان الرحمن ہیں جو ریاض کے مڈل ایسٹ انٹرنیشنل اسکول میں  زیر تعلیم ہیں۔ امان الرحمن کے کھیلنے کا اپنا ایک منفرد اسٹائل ہے ۔ وہ بڑے اطمینان اور بڑی خود اعتمادی سے کھیلتے ہیں۔ امان الرحمن ہندوستان کے معروف ٹیبل ٹینس کھلاڑی محمد ضیاء الرحمن کے فرزند ہیں۔ ضیاء الرحمن نیو مڈل ایسٹ ٹیبل ٹینس اکیڈیمی ریاض کے کوچ اور صدر ہیں۔ یہ اکیڈیمی انہوں نے نیو مڈل ایسٹ انٹرنیشنل اسکول ریاض کے انتظامیہ کے تعاون سے 2010 ء میں قائم کی جس میں اب تک سینکڑں نو عمر بچے تربیت حاصل کرچکے ہیں ۔ اس اکیڈیمی کی سرپرست مسز تبسم فاروقی ہیں۔ انجنیئر ضیاء الرحمن کا تعلق حیدرآباد کے ایک معزز اور تعلیم یافتہ گھرانے سے ہے ۔ ضیاء ا لرحمن سعودی عرب میں کوئی ربع صدی سے مقیم ہیں اور ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں اعلیٰ عہدے پر فائز ہیں۔
آرٹسٹ ، فنکار یا کھلاڑی اپنے میدان میں اعلیٰ صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہیں تو یہ ان کی شخصی شہرت ہی نہیں ہوتی بلکہ اس سے ان کے ملک و قوم کا نام بھی بلندیوں پر جاتا ہے اور وہ ملک و قوم کیلئے فخر کا باعث بھی ہوتے ہیں، اس لئے ان لوگوں کی ستائش اور ہمت افزائی ہونی چاہئے جس کے وہ حقدار ہیں۔ محمد امان الرحمن ٹیبل ٹینس کا ایک ابھرتا ہوا ستارہ ہے جو مسلسل کامیابیوں کے ریکارڈ قائم کر رہا ہے ۔ اس منزل پر اس بھرپور ستائش اور ہمت افزائی اسے اور نکھارے گی ۔ امان الرحمن نے اپنی ابتدائی عمر سے ٹیبل ٹینس کھیلنا شروع کیا اور سب جونیئر ٹورنمنٹ میں حصہ لیتے ہوئے دس سال کی عمر ہی سے اپنی کامیابیوں کے جھنڈے گاڑنے شروع کئے اور کبھی پلٹ کر نہیں دیکھا ۔اس نو عمر لڑکے کے گھرمیں لگے ٹرافیز کے ڈھیر کو دیکھ کر حیرت ہوتی ہے ۔ اس ابھرتے اسٹار نے پچھلے دنوں قطر کے انٹرنیشنل گیمس میں گولڈ مڈل حاصل کر کے ملک کا پرچم بلند کیا ۔ خلیجی ممالک میں لاکھوں ہندوستانی بچے زیر تعلیم ہیں جن میں امان الرحمن بھی ایک ہے لیکن امان الرحمن ٹیبل ٹینس کے میدان میں جو کارہائے نمایاں انجام دیئے ہیں اس کی وجہ سے وہ خلیجی ممالک کے لاکھوں طلبہ میں ایک واحد طالب علم ہیں جس نے اپنے ابتدائی عمر میں اتنے اعزازات حاصل کئے جس کی بھرپور ستائش ہونی چاہئے ۔امان الرحمن نے نہ صرف اپنے ماں باپ ، اپنے اسکول ، اپنی کمیونٹی ہی کا نام روشن نہیں کیا بلکہ اپنے وطن ہندوستان کا نام بھی اونچا کیا ہے اور جب اس نوجوان نے اپنے ملک کا نام روشن کیا ہے تو اس کی ستائش حکومتی سطح پر ہونی چاہئے ۔ سعودی عرب میں ہندوستان کا نمائندہ ادارہ ہمارا حکومتی مشن انڈین ایمبسی ریاض ہے اور امان الرحمن اپنی پیدائش سے اسی شہر میں مقیم ہیں۔ ماضی میں ایسی مثالیں موجود ہیں جب انڈین ایمبسی ریا ض نے کچھ ہندوستانیوں کی ستائش کرتے ہوئے ان کی سرکاری سطح پر تقریب منعقد کر کے انہیں خراج تحسین پیش کیا جو حاصل کرنے والے کیلئے ایک ایک ا عزاز تھا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ امان الرحمن بھی ایمبسی کی جانب سے اسی طرح کی ستائش اور اعزاز کے مستحق ہیں ۔اگر امان الرحمن کو کسی زمرے میں ’’پرواسی بھارتیہ ایوارڈ ‘‘ دیا جاسکتا ہے تو اس کے نام کی سفارش کی جانی چاہئے یا امان الرحمن کو اعزاز بخشا جانا ہے توایک موقع یہ ہے کہ اگلے ماہ ہمارے وزیراعظم ریاض آ رہے ہیں ۔ اس موقع پر اگر امان الرحمن کو ایک منفرد این آر آئی طالب علم کی حیثیت سے وزیراعظم نریندر مودی سے متعارف کرواتے ہوئے انہیں کوئی مومنٹو دیا جائے تو اس ہونہار لڑکے کی عزت و ہمت افزائی ہوگی اور نہ صرف امان الرحمن ہی ن ہیں بلکہ ایسے کوئی اور طالب علم یا طالبہ اور کوئی دیگر شخصیات ہوں تو انہیں وزیراعظم سے خصوصی ملاقات کا موقع دیا جانا چاہئے ۔ اس سے ملک و قوم کیلئے کارہائے نمایاں انجام دینے والوںکی ہمت افزائی ہوگی اور دیگر افراد کو تحریک ملے گی۔
[email protected]

TOPPOPULARRECENT