Friday , August 18 2017
Home / شہر کی خبریں / امبیڈکر یونیورسٹی میں اردو میڈیم ڈگری کورس کی مسدودی پر حکومت برہم

امبیڈکر یونیورسٹی میں اردو میڈیم ڈگری کورس کی مسدودی پر حکومت برہم

ڈپٹی چیف منسٹر کا آج وائس چانسلر کے ساتھ اجلاس ، اردو میڈیم کے لیے متبادل انتظامات پر غور ، کورس کی بحالی کی کوشش
حیدرآباد۔20 جولائی (سیاست نیوز) ڈاکٹر بی آر امبیڈکر اوپن یونیورسٹی میں اردو میڈیم سے گریجویشن کی سہولت کے خاتمہ کا حکومت نے سختی سے نوٹ لیا ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے اس مسئلہ پر بات چیت کے لیے کل 21 جولائی کو اجلاس طلب کیا جس میں وائس چانسلر امبیڈکر یونیورسٹی سیتاراما رائو کے علاوہ حکومت کے مشیر برائے اقلیتی امور اے کے خان، سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل اور سکریٹری ڈائرکٹر اردو اکیڈیمی پروفیسر ایس اے شکور شرکت کریں گے۔ یونیورسٹی کے اس فیصلے سے اقلیتوں اور اردو داں طبقے میں بے چینی پائی جاتی ہے اور مختلف گوشوں سے ڈپٹی چیف منسٹر کی توجہ مبذول کروائی گئی۔ محمد محمود علی نے کہا کہ حکومت اردو زبان کی ترقی و ترویج کے عہد کی پابند ہے اور وہ یونیورسٹی کو مخالف اردو فیصلے کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔ انہوں نے بتایا کہ اس طرح کے فیصلوں سے حکومت کی نیک نامی متاثر ہوسکتی ہے۔ لہٰذا وہ جاریہ سال بھی اردو میڈیم سے گریجویشن کورسس کی برقراری کی ہدایت دیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ وائس چانسلر اور یونیورسٹی کے دیگر عہدیداروں سے فیصلے کی وجوہات کے بارے میں پتہ چلایا جائے گا اور ضرورت پڑنے پر اردو میں نصابی کتب کے ترجمے کا کام اردو اکیڈیمی سے تکمیل کیا جاسکتا ہے۔ تعلیم سے متعلق ماہرین نے بتایا ہے کہ نصاب میں تبدیلی کا فیصلہ یونیورسٹی کا ہے اور اس میں نئے نصابی کتب کی تیاری کے بغیر ہی عجلت میں یہ فیصلہ کرلیا جس سے ایک سال کے لیے سہی اردو ذریعہ تعلیم متاثر ہوگا۔ گزشتہ 25 برسوں سے اوپن یونیورسٹی میں اردو گریجویشن کا سلسلہ بلارکاوٹ جاری ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ یونیورسٹی پہلے نئے نصابی کتب تیار کرتی اس کے بعد ہی پرانے نصاب کو منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا جاتا۔ جاریہ سال گریجویشن میں داخلوں کے لیے اردو میڈیم میں انٹرنس امتحان منعقد کیا گیا جس کے نتائج جاری کئے گئے۔ جب کہ مزید ایک انٹرنس ٹسٹ آئندہ ماہ مقرر ہے ۔ عین داخلوں سے قبل کورس کو منقطع کرنے کا فیصلہ اردو دشمنی کے مترادف ہوگا۔ یونیورسٹی کو چاہئے کہ وہ جاریہ سال پرانے نصاب کے مطابق ہی کورس کا اہتمام کرے اور آئندہ تعلیمی سال سے تبدیل شدہ نصاب کا شمار کیا جائے۔ اس فیصلے کا اختیار یونیورسٹی کو حاصل ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ حیدرآباد جو اردو زبان کا مرکز ہے، وہاں یونیورسٹی کو ترجمے کے لیے قابل پروفیسرس دستیاب نہیں ہوئے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ امبیڈکر یونیورسٹی کے اردو سیکشن میں پروفیسرس کی سبکدوشی کے بعد ہندی سیکشن کے پروفیسر و ڈین فیکلٹی آف آرٹس کو اردو سیکشن کا انچارج مقرر کیا گیا ہے۔ یونیورسٹی اگر چاہے تو دیگر یونیورسٹیز میں موجود اردو میڈیم تدریسی اسٹاف کی خدمات ڈیپوٹیشن پر حاصل کرسکتی ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ ایک سال کے لیے بھی امتحانات کے اردو میں انعقاد کی سہولت کو مسدود نہ کیا جائے اس کے لیے ہر ممکن اقدامات کئے جائیںگے۔ حکومت کا مقصد اردو زبان کو فروغ دینا ہے نہ کہ اردو ذریعہ تعلیم سے اقلیتوں کو محروم کرنا۔

TOPPOPULARRECENT