Tuesday , April 25 2017
Home / Top Stories / امتناعی حکمنامہ پر حکم التواء ، صدر امریکہ کی تنقید کا نشانہ

امتناعی حکمنامہ پر حکم التواء ، صدر امریکہ کی تنقید کا نشانہ

سپریم کورٹ کیلئے ٹرمپ کے نامزد بلو مینتھل بھی صدر پر تنقید کرنے والوں میں شامل، عدلیہ کی آزادی کو خطرہ کا ادعا
واشنگٹن 9 فروری (سیاست ڈاٹ کام) صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے امریکی عدالتوں کو دانستہ طور پر ترک وطن اور پناہ گزینوں کے بارے میں اُن کے حکمنامے کو ’’اتنا سیاسی‘‘ رنگ دے دیا ہے کہ عدلیہ کی بنچ کا اِس پر انتھک غور و خوض جاری ہے کہ سپریم کورٹ کے لئے اُن کے نامزد شخص نے بھی اُن کے حکمنامے پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ سربراہان پولیس کے ایک گروپ سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہاکہ ترک وطن کے بارے میں اُن کا حکمنامہ ملک کی حفاظت کے لئے جاری کیا گیا ہے۔ اُن کے ترک وطن قانون کے اقتباسات پیش کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہاکہ اُن کو قانون بنانے کا اختیار حاصل ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ یہ قانون انتہائی احتیاط کے ساتھ تحریر کیا گیا ہے۔ ایک ہائی اسکول کا طالب علم بھی اِس کو سمجھ سکتا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ امریکی عدالتیں اتنی زیادہ سیاسی ہوگئی ہیں کہ وہ ہمارے نظام انصاف کو عظیم سمجھنے لگی ہیں۔ اُنھیں کسی چیز کے درست ہونے کا فیصلہ بیان کو پڑھنے کے بعد کرنا ہے۔ اُنھوں نے مزید کہاکہ ملک کا تحفظ اولین ترجیح ہے اور بے حد اہم ہے۔ ٹرمپ کے یہ تبصرے نویں امریکی سرکٹ کورٹ آف اپیلس کے بارے میں کئے گئے ہیں۔ جس نے ترک وطن کے بارے میں صدارتی حکمنامے کے التواء کے خلاف اپیل کو مسترد کردیا ہے۔ صدارتی حکمنامے میں 7 مسلم غالب آبادی والے ملک کے شہریوں کی امریکہ میں آمد پر عارضی طور پر امتناع عائد کیا گیا ہے۔ منگل کے دن مقدمہ کی سماعت کے دوران عدالت مرافعہ میں انتظامیہ کے اِس دعوے کو چیلنج کیا گیا کہ یہ حکمنامہ دہشت گردی کے اندیشوں کے تحت جاری کیا گیا ہے۔ عدالت نے اٹارنی کے دلائل پر بھی اعتراض کیا اور کہاکہ مسلمانوں کو غیر دستوری طور پر نشانہ بنایا جارہا ہے۔ تحت کی عدالت کے جج نے گزشتہ ہفتہ اِس حکمنامہ پر عمل آوری کے خلاف حکم التواء جاری کیا تھا۔ ٹرمپ نے اِس فیصلہ پر بھی تنقید کی۔

اُنھوں نے جج کو ’’خود ساختہ جج‘‘ قرار دیا۔ جس نے صدارتی حکمنامہ کو ’’مضحکہ خیز‘‘ قرار دیا ہے۔ ماہرین قانون، ڈیموکریٹک پارٹی کے ارکان اور ریپبلکن پارٹی کے چند ارکان نے بھی ٹرمپ کے تبصرہ پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ اِس سے عدلیہ کی آزادی خطرہ میں پڑ جائے گی۔ صدر امریکہ چاہتے ہیں کہ عدالتیں بھی اُن کے سیاسی اثر و رسوخ سے مرعوب ہوجائیں۔ سپریم کورٹ کے لئے اُن کے نامزد شخص رچرڈ بلو مینتھل بھی ان ارکان کی تنقید میں شامل ہوگئے۔ اُن کا تعلق کنٹیٹک سے ہے۔ بلو مینتھل نے کہا تھا کہ جج نیل گورسچ نے صدر امریکہ کے تبصروں کو جو عدلیہ کے بارے میں کئے گئے ہیں، حوصلہ شکن اور دل توڑ دینے والا قرار دیا ہے۔ گورسچ نے توثیق کی کہ جج کے تبصرے ایسے ہی ہیں۔ اپنی تقریر میں ٹرمپ نے اپنے تبصروں کو جو عدالت کے بارے میں کئے گئے ہیں ، صدارتی حکمنامے کے خلاف جنگ قرار دیتے ہوئے کہاکہ نفاذ قانون برادری ان کی تائید کرے گی۔ اُنھوں نے کہاکہ میں آپ سے خواہش کرتا ہوں کہ ہمیں ہمارا کام کرنے دیں۔ ہم آپ کو ایسا ہتھیار دینا چاہتے ہیں جس کی آپ کو ضرورت ہے اور دیگر افراد چاہتے ہیں کہ آپ سے یہ ہتھیار چھین لیں۔ صدر امریکہ نے بار بار کہا تھا کہ امتناع عائد ہونے کے باوجود کثیر تعداد میں لوگوں کی آمد کو روک دیا گیا ہے اور تجویز پیش کی جاتی ہے کہ صدارتی حکمنامہ اِس لئے جاری کیا گیا کیوں کہ امریکی شہریوں کے لئے جن افراد کی آمد خطرناک تھی۔ کل صبح اپنے ٹوئٹر پر اُنھوں نے تحریر کیاکہ ہمارے ملک میں مخصوص علاقوں سے لوگوں کی آمد میں اضافہ ہوگیا ہے جبکہ امریکہ کے لوگ خود مخدوش حالت میں ہیں اور مدد کے منتظر ہیں۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT