Monday , October 23 2017
Home / ادبی ڈائری / امجد حیدرآبادی کی تنقیدی بصیرت

امجد حیدرآبادی کی تنقیدی بصیرت

سید محبوب قادری
امجدحیدرآبادی حیدرآباد دکن کے ان قد آور شخصیتوں میں سے ایک ہیں جنہیں ملک گیر شہرت ملی ۔ جن کے کار ناموں کوآج ہم طاق نسیان سے ڈھونڈ ڈھونڈ کرٹٹول ٹٹول کر لا شعور سے  شعور میں لارہے ہیں ۔ ان کے گراں قدر کام نے خداوند قدوس اور مخلوق خدامیں مقبولیت کی سند حاصل کر لی ہے ۔ خصوصاً اردو زبان و ادب کی ترقی و ارتقاء کی نسبت ملک کے تمام دانشور ؛ فن کار اور صاحبان علم و فن سبہوں نے بغیر کسی چوں و چارے کے پسندیدگی کی مہریں ثبت کی ہیں ۔
امجد نے جس شہر اور ملک میںآنکھ کھولی اس کی آب و ہوا اناکی تسکین ؛ اشتہار بازی ؛پروپگنڈہ کرنے اور اپنے نام کے نعرے لگوانے وغیرہ وغیرہ باتوں کی زری اجازت نہیں دے تی ۔اور امجدجس گھرانے میں پیدا ہوئے اس گھرانے کی تعلیم بھی اپنا ڈھنڈورا آپ پیٹنے کی قطعا قائل نہ تھی۔اس کے باوجود سید احمد حسین امجد حیدرآبادی نے گلی کوچوں سے نکل کر پورے ملک کے عوام کے دلوں میں جگہ بنا لی ۔ سبہوں نے امجد کی علمی لیاقت اور شعری صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے ان کی نیک نامی کو ملک کے طول وعرض میں پھیلا دیا ۔
اس سے نہ صرف امجد کی بلکہ در حقیقت شہر حیدرآباد کی شہرت ہوئی ۔کیونکہ امجدنے اپنے نام کے ساتھ اپنے شہر حیدرآباد کو اس طرح ملا لیا ہے کہ گویا ایک مرکب لفظ بن گیا ہو ۔امجد کو صرف ہم امجد کہیں تو کسی فردکا ذہن شہنشاہ رباعیات کی طرف نہیں جا ئیگا ۔جب حیدرآباد لاحقہ بن کر آتا ہے تو پھر ضرور سید احمدحسین امجد ہی ہونگے ہم اہلیا ن حیدرآباد پاسبان ِتہذیب ثقافت بڑے فخر کے ساتھ یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم اس شہر علم وہنر کے باشندے ہیں جس میں امجد حیدرآبادی پیدا ہوئے ۔
امجد حیدرآبادی کے بارے میں تھوڑے بہت فرق کے ساتھ سب یہ کہتے ہیں کہ وہ شعر و ادب میں امتیازی مقام رکھتے تھے رباعی گوئی میں طاق تھے شنہشاہ کہلائے صوفی ؛ خدا ترس نیک دل انسان تھے اور ایک بہترین نثر نگار تھے ۔ان تمام خوبیوں کوسب نے دیکھا اور خوب پڑھا ہے ۔لیکن اس سے بڑھکر رباعیات سے بھی بڑھکر ایک اور کام ہے جس کی جانب کسی نے بھی نظر نہیںکی ؛ کسی نے بھی اس جانب سے مطالعہ نہیں کیا اور وہ ہے تنقیدی فکر و نظر ۔
فن تنقید میں امجد کے نظریات بہت معنی خیز اور اردو ادب کی تنقید میں ایک نئے باب کا اضافہ سمجھے جاسکتے ۔جہاں تک اردو تنقید کی بات ہے اس ضمن میں مولانا الطاف حسین حالی اردو تنقید کے باقاعدہ پہلے نقاد مانے جا تے ہیں ۔ جن کے بعد سے اردو تنقید کا ایک مکمل دبستا ن وجود میں آیا جیسے تاثراتی تنقید ؛ جمالیاتی تنقید ؛ مارکسی تنقید ؛ ترقی پسند تنقید ؛ نفسیاتی تنقید ؛ سائنٹفک تنقید وغیرہ الگ الگ تنقیدیں وجود میں آئیں۔
تنقید کی تعریف عموماً یہ کی گئی ہے کہ اچھے برے میں فرق اور کھرے کھٹے میں تمیز کر نا ؛یعنی کسی بھی فن پارے میں  موجود خوبیوں اور خامیوں کو جانچ پرک کر ادب میں اس فن پارے کا مقام متعین کرنا ہوتا ہے ۔مولانا الطاف حسین حالی شعری خوبیوںکوبیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ایک اچھے شعر میںان تین اوصاف کا ہونا ضروری ہے  (۱) سادگی  (۲)  اصلیت  ( ۳ ) جوش ۔

سید احمد حسین امجد حیدرآبادی شاعری سے متعلق رباعیات  امجد حصہ دوم کے مقدمہ میںکہتے ہیںکہ ’’ اس میں شک نہیں کہ علم عروض کا ماہر شاعر کوئی لفظی غلطی نہیں کرسکتا ۔اس میں بھی شک نہیں کہ فطری جذبات کا کامل طورپر اظہار بھی نہیں کرسکتا ۔ جب کوئی فطری تحریک ہوتی ہے توعلم عروض کا پھندا گلے میں ڈال کر شاعری کی اصلی روح کا گلا گھونٹ دیتاہے ‘‘   ( رباعیات امجد ؛صفحہ ۵ حصہ دوم )
مذکورہ اقتباس میں امجد حیدرآبادی کہتے ہیں کہ شاعر وہ نہیں جواوزان یا شعر کی تقطی میں قطع نہ کرے بلکہ حقیقی شاعر وہ ہے جو اس کے قلب و ذہن میں جو خیال پید ا ہو اس کو خوبصورتی کے ساتھ اظہار خیال کرے کہ جس کے پڑھنے یا سننے کے بعد سامع یا قاری میں بھی وہی کیفیت پیدا ہو جائے جو شاعر کے ہیں۔شاید امجد دبے انداز میں اوزان کی مخالفت بھی کر رہے ہوں ۔
امجد شعر کی ماہیت اور اس کے خواص جس کو مولانا حالی سادگی ؛اصلیت اور جوش کہتے ہیں اس بارے میں امجد حیدرآبادی مولانا حالی سے ایک قدم آگے بڑھکر کھلے انداز میںتحریر کر تے ہیں کہ یہ شرائط صرف شعر گوئی کے لئے ہی نہیں بلکہ ہر وہ چیز جو فنون لطیفہ سے تعلق رکھتی ہیں ان سب کے لئے لازمی اوربے حد ضروری ہے ۔ اس کی بابت امجد حیدرآبادی کہتے ہیں :

’’ شعر ہو یاراگ جب سامع کو بے خود نہ کر دے بارد فطرت میں حرارت نہ پیدا کردے قدیم کافر کو مسلمان نہ بنادے کثیف مادے میں لطیف روح نہ پھونک کے فنون لطیفہ  میں شمار نہیں کئے جاسکتے ہیں ۔ ہر شعر ایک مکمل راگ یا تصویر ہوتی ہے ۔ جس طرح  تصویر میں مصور کو ہر عضو اپنی اپنی جگہ خوبی اور موزونیت کے ساتھ بنا نے کی ضرورت ہوتی ہے ۔اسی طرح شاعر کو بھی ہر لفظ اپنے اپنے مقام پر بغیر کسی تعقید کے رکھنا پڑھتا ہے ۔ا س ترتیب کے قطع نظر اور توازن بھی ضروری اور لازمی چیز ہے ۔ اگر ناک کی جگہ  ناک تو بنائی اصول کے اعتبار سے بڑی یا چھوٹی کردی جائے تو تعداد اجزا کے اعتبار  سے مکمل تو ہوگی مگر مضحکہ خیز اسی طرح موزوں نظم بھی اپنی بد نظمی اور غیر مناسب اور ثقیل الفاظ اور دور از فہم استعارات اور تلمحات کی وجہ سے شعر گفتن چہ ضرور بود کا مصداق ہو جا تی ہے ‘‘ (خرقہ امجد  ؛ امجد حیدرآبادی )
امجد نے اس طویل اقتباس میں شعر گوئی ؛مصوری ؛ راگ یا اس جیسی کوئی بھی چیز ہو اس وقت تک فن نہیں کہلائیگی جب تک کہ وہ انسان میں جوش و جزبہ اور دل و دماغ میں انقلاب نہ پیدا کردے اور اس میں موجود جمودکو ختم نہ کردے ۔ مولاناحالی کے تینوں شرائط اس اقتباس میںشامل ہیں ۔ اور مزیدامجد نے یہ بھی کہا ہے کہ صرف اوزان پیمائی شعر گوئی  نہیںہے اس کی تفہیم کے لئے انھوں نے مصوری کی مثال سے واضح کردیا ہے ۔ اور مزید اپنے نظریہ کو تقویت دینے کی کیلئے اس کو رباعی میں پیش کر تے ہیں کہ :

طفل مکتب بنے فلاطوں ہوکر
دل نے کھوئی ہے آبرو خوں ہو کر
شاعر ہوکر خطاب کاذب پایا
بے وزن ہوا کلام موزں ہو کر
مذکورہ بالارباعی میں امجد نے کہا کہ صرف موزوں ہونا اچھے شعر کی خوبی نہیں ہے بلکہ اس میں تاثیر کی روح ہونی چاہئے ۔ جب قاری اسے پڑھے یا سننے اس کے دل دماغ میں ایک ہلچل مچ جائے ایک انقلاب آئے اور خون میںایسی گرماہٹ پیدا ہوکہ پورے جسم میں گرمی کی لہر دوڑا دے ۔ اور اسکے پست مجروح جزبات کو ہمت کے ایسے پر لگا ئے کہ پلک جھپکنے تک بلندیوں کی طرف پرواز بھردے ۔معانی ومفاہم کا ایک ایسا اثر رکھے کہ جس کی تفہیم سے مرغ بسمل کو شرمندہ کر جائے۔یہ میرا امجد سے اعتقاد نہیں بلکہ امجد خودکہتے ہیں کہ :
کلام ایسا اکثر سنا ہوگا تم نے
سنا آج اور کل اثر دل میں اترا
کہو  شعر  ایسا  کہ ہو تیر خنجر
ادھر منہ سے نکلا ادھر دل میں اترا
نغمہ کا ہے شوق لحن داودی نہیں
اس طرزمیں  حمد کی کہ محمود نہیں
سننے والے سے آہ بھی تو نکلے
اک واہ ہی شاعری کا مقصودنہیں
امجد کہتے ہیں کہ شاعر کو ضروری ہے کہ وہ کائینات میںغور و فکر کرتے رہے ۔ جس کا فائدہ یہ ہوگا کہ شاعر پر کائنات کی حقیقت دھیرے دھیرے کھلنے لگتی ہے ۔اور چیزیں اپنی اصلی حالت پر نظر آنے لگتی ہیں جس سے اس کے کلام میں ثبات اور حقیقت پیدا ہوتی ہے جسے امجد اس طرح بھی کہتے ہیں ۔
شاعر اسرار غیب سے ماہر ہے
جوعارف کامل ہے وہ ہی شاعر ہے
حضرت امجد حیدرآبادی کا یہی نظریہ ہے کہ شاعری ایک الہامی امر ہے کسبی نہیں جس کی نسبت وہ تحریر کر تے ہیں کہ
’’ حقیقت نگار شاعر کو سطحیات کی طرف کم توجہ ہو تی ہے اور صنائع و بدائع ظاہری اور لفظی نمائش کے حدود سے اس کا خیال ارفع و اعلی ہو تا ہے ۔ شاعر کو اپنے کامل جذبات کے اظہار کے لئے  بعض اوقات قیود رسمی اور فرضی کو توڑ دینا پڑتاہے ۔مست کی شان یہ ہے کہ سرو دستار سے بے خبر رہے ۔ جس قدر سرودستار کی طرف توجہ ہو گی اس کے کمال ہستی میں اسی قدر فرق آجائے گا ۔یہ بالکل صحیح ہیکہ ایک شاعر بشرط یہ کہ وہ حقیقی شاعر ہو اظہار جذبات میں مجذوب  صفت ہو تا ہے ۔ اس میں ایک خاص جو ہر ہو تا ہے جس کو وہ خود بھی نہیں سمجھتا کیونکہ ان معانی کی مبین کوئی اور ہی قوت ہو تی ہے ۔ جو اسے ایسا کہنے پر مجبور کر تی ہے ۔ وہ کوئی فرشتہ  ہوتا ہے جو اپنی کیفیت کو ایک انوکھے راگ میں گاتا ہے اور اپنے دکھ درد کو ایک مبہم زبان میں ادا کرتا ہے ۔ وہ ہمیشہ ایسی زبان میں باتیں کرتاہے جو نہا یت عجیب و غریب اور پر اسرار ہو تی ہیں ۔ اور ایسے مکاشفات بیان کرتا ہے کہ عام دنیا والے اس کو سمجھ نہیں سکتے ۔( خرقہ امجد ‘ امجد حیدرآبادی ‘ صفحہ ۸ تا ۱۰ )
المختصر یہ کہ امجد حیدر آبادی کی تنقید ایک صحت مند تنقید ہے ،جس سے اردو تنقیدمیں کافی تبدیلی کا باعث ہو سکتی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT