Sunday , August 20 2017
Home / دنیا / امدادی سامان کی افغانستان روانگی روکنے پاکستانی فیصلے پر غور

امدادی سامان کی افغانستان روانگی روکنے پاکستانی فیصلے پر غور

نیویارک میں افغانستان ۔ ہندوستان اور امریکہ کے عہدیداروں کا اجلاس ۔ متبادل امکانات پر بھی غور
واشنگٹن 22 ستمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) افغانستان ‘ ہندوستان اور امریکہ کے سفارتکاروں کا نیویارک میں اقوام متحدہ جنرل اسمبلی اجلاس کے علاوہ ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں افغانستان کیلئے امداد کو پاکستان کی جانب سے روکے جانے کا جائزہ لیا گیا ۔ سہ رخی اجلاس میں مختلف امور پر غور کیا گیا ۔ اجلاس کے بعد جاری کردہ ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اجلاس میں امریکی حکومت اور حکومت ہند کو یہ موقع دستیاب ہوا کہ وہ افغان حکومت کی ترجیحات کے مطابق اپنی امداد کو ملا سکیں۔ یہ اطلاعات ہیں کہ پاکستان نے ہندوستانی گیہوں کی سپلائی اور دیگر انسانی بنیادوں پر فراہم کی جانے والی امداد افغانستان منتقل ہونے سے روکدی ہے ۔ پاکستان کے اس اقدام سے افغانستان میںبرہمی پیدا ہوگئی ہے اور اس کا مطالبہ ہے کہ ہندوستان تک تجارتی اور ٹرانزٹ روٹس کو پاکستان سے ہوکر گذرنے کی اجازت دی جانی چاہئے ۔ افغانستان نے اب تک اسلام آباد کو انتباہ دیا ہے کہ اگر اس نے اپنے موقف مے نرمی پیدا نہیں کی تو وسطی ایشیا تک پاکستان کی رسائی کو بھی محدود کردیا جائیگا ۔ امریکہ اس بات کی کوشش کر رہا ہے کہ دونوں ملکوں کے مابین اس مسئلہ پر اتفاق رائے ہوجائے ۔ امریکہ اکثر و بیشتر افغانستان تک رسائی براہ پاکستان حاصل کرتا ہے

اور یہیں سے وہ اپنا ساز و سامان افغانستان کو منتقل کرتا ہے ۔ موجودہ صورتحال میں تینوں ممالک پاکستان کے علاوہ دوسرے امکانات پر بھی غور کر رہے ہیں کیونکہ پاکستان نے حالیہ وقتوں میں اپنی مخالفانہ روش میں شدت پیدا کردی ہے ۔ پاکستان میں اکثر یہ مطالبات ہوتے رہے ہیں کہ امریکہ کی رسائی کو روک دیا جائے حالانکہ پاکستانی حکومت کیلئے امریکہ اس کیلئے جو معاوضہ ادا کرتا ہے وہ کافی نفع بخش ہوگیا ہے ۔ امریکہ کی حالیہ عرصہ میں ایران کے ساتھ تعلقات کی نوعیت کے نتیجہ میں بھی افغانستان تک چھباہر بندرگاہ کے ذریعہ رسائی بہتر ہوتی جا رہی ہے ۔ اس بندرگاہ میں ہندوستان نے بھاری سرمایہ کاری کی ہے جس کے نتیجہ میں یہ تینوں ممالک پاکستان کو الگ تھلگ کرسکتے ہیں۔ چھباہر بندرگاہ نے بلوچستان میں گواڈر بندرگاہ کی اہمیت بھی گھٹادی ہے اور یہ گواڈر بندرگاہ سے صرف 100 میل دور ہے جبکہ یہ ساحل مکران کے قریب واقع ہے ۔ یہاں پاکستان نے اپنی اجارہ داری قائم کر رکھی ہے اور اس کا خیال ہے کہ یہ چین کیلئے بہتر ہوسکتا ہے ۔ چین کا کہنا ہے کہ وہ گواڈر اور چھباہر دونوں بندرگاہوں کے استعمال میں اطمینان محسوس کرتا ہے ۔

پاکستان وقفہ وقفہ سے چین سے ملنے والی تائید کے باوجود یکا وتنہا ہوتا جا رہا ہے جبکہ ہندوستانی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ اسلام آباد نے افغانستان اور ایران کے ساتھ ہندوستان کے تعلقات میں رکاوٹ والا رویہ اختیار کیا ہوا ہے ۔ پاکستان کا سوال ہے کہ ہندوستان اور افغانستان کے مابین قریبی تعلقات کیونکر ہوسکتے ہیں جبکہ دونوں ملکوں کی سرحدات بھی نہیں ملتیں۔ کئی دہوں سے پاکستان نے افغانستان اور ایران کو اپنا دوست بنایا ہوا ہے اور وہ ہندوستان کے خلاف اپنے عزائم کو مستحکم کرتا رہا ہے ۔ اب ہندوستان اور افغانستان کا خیال ہے کہ پاکستان نے ان ملکوں کیلئے سوائے دہشت گردی کی مدد کرنے کے اور کچھ نہیں کیا ہے ۔ پاکستان ‘ افغانستان میں طالبان اور دوسرے تخریب کار گروپس کی تائید کرتے ہوئے اپنے اثر و رسوخ میں اضافہ کرنا چاہتا ہے تو ہندوستان نے معاشی سرمایہ کاری کے ذریعہ وہاں تائید حاصل کرنے کی کوشش کی ہے ۔ ہندوستان نے افغانستان میں دواخانوں ‘ سڑکوں وغیرہ کی تعمیر کے علاوہ کابل میں پارلیمنٹ کی عمارت کی تعمیر شروع کی ہوئی ہے ۔ جاریہ ہفتے اقوام متحدہ میں افغان سفارتکاروں نے کھلے عام پاکستان کو تنقیدوں کا نشانہ بنایا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT