Saturday , August 19 2017
Home / شہر کی خبریں / امراوتی میں اراضی معاملتوں کا الزام مسترد

امراوتی میں اراضی معاملتوں کا الزام مسترد

وائی آر کانگریس پر ترقی میں رکاوٹ پیدا کرنے کا الزام: نائیڈو
حیدرآباد 6 مارچ ( پی ٹی آئی ) چیف منسٹرآندھرا پردیش این چندرا بابو نائیڈو نے آج ریاست میں اپوزیشن وائی ایس آر کانگریس پر نئے دارالحکومت کی تعمیر میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کا الزام عائد کیا اور ان الزامات کی تردید کی کہ اس علاقہ میں آندھرا پردیش کے وزرا ‘ ارکان پارلیمنٹ اور ارکان اسمبلی نے ہزاروں کروڑ روپئے کی اراضیات خریدی ہیں۔ امراوتی علاقہ میں قابل اعتراض اراضی معاملتوںکے الزامات کی تردید کرتے ہوئے نائیڈو نے کہا کہ 2 جون 2014 کے بعد سے جملہ 9,231 ایکڑ اراضیات فروخت کی گئی ہیں اور کچھ اراضیات ایک سے زائد بار فروخت ہوئی ہیں۔ جملہ 20,306 معاملتیں ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امراوتی کو ریاست کے نئے دارالحکومت علاقہ میں 3 ستمبر 2014 کو نوٹیفائی کیا گیا ہے ۔ 2 جون 2014 کو ریاست کی تقسیم اور نوٹیفائی کئے جانے کے وقفہ کے دوران 604 معاملتیں ہوئی ہیں اور 515 ایکڑ اراضیات کو فروخت کیا گیا تھا ۔ نائیڈو نے یہ وضاحت ایسے وقت میں کی ہے جب بعض اطلاعات میں یہ الزامات عائد کئے گئے تھے کچھ ریاستی وزرا ‘ ارکان پارلیمنٹ اور ارکان اسمبلی نے جو تلگودیشم سے تعلق رکھتے ہیں امراوتی علاقہ میں ہزاروں کروڑ روپئے مالیت پر مشتمل اراضیات خریدی ہیں۔ اطلاعات میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ چندرا بابو نائیڈو کے فرزند و تلگودیشم کے جنرل سکریٹری نارا لوکیش نے بھی بے نامی خریداروں کو استعمال کرتے ہوئے یہاں وسیع اراضیات خریدی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کچھ ذرائع ابلاغ کے اداروں کی جانب سے اس تعلق سے بے بنیاد اور گمراہ کن خبریںپیش کی جا رہی ہیں ۔ انہوں نے ادعا کیا کہ اس طرح کی اطلاعات میں کوئی سچائی نہیں ہے ۔

TOPPOPULARRECENT