Thursday , March 23 2017
Home / Top Stories / امریندر سنگھ ‘ راہول گاندھی کو پارٹی صدر بنانے کے حامی

امریندر سنگھ ‘ راہول گاندھی کو پارٹی صدر بنانے کے حامی

نامزد چیف منسٹر پنجاب کی کانگریس نائب صدر سے ملاقات ۔ حکومت سازی پر غور
نئی دہلی 14 مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) پنجاب میں پارٹی کو شاندار کامیابی سے ہمکنار کرنے کے بعد پردیش کانگریس کے صدر کیپٹن امریندر سنگھ نے آج پارٹی نائب صدر راہول گاندھی سے ملاقات کی اور ریاست میں حکومت سازی کے مسائل پر تبادلہ خیال کیا ۔ کانگریس نائب صدر نے ریاست میں پارٹی کی کارکردگی کیلئے کیپٹن امریندر سنگھ کو مبارکباد پیش کی ۔ پارٹی ذرائع نے یہ بات بتائی ۔ کیپٹن ابتداء میں راہول گاندھی کی قیادت سے ناراض تھے تاہم ذرائع کے بموجب انہوں نے کہا کہ اگر پارٹی میں قیادت راہول گاندھی کو سونپی جاتی ہے تو وہ خوش ہونگے ۔ کہا گیا کہ دونوں قائدین کی یہ ملاقات آدھے گھنٹے کی رہی اور اس میں کچھ بات چیت ہوئی ۔ ذرائع نے کہا کہ پارٹی ایک یا دو دن میں ریاست میں تشکیل حکومت کے منصوبے کو قطعیت دیگی ۔ امریندر سنگھ نے اس ملاقات کے بعد کہا کہ یہ ایک رسمی ملاقات تھی ۔ خود وہ اور کل ہند کاگنریس کے جنرل سکریٹری مل بیٹھ کر حکومت میں شامل کئے جانے والے وزرا کی ایک فہرست تیار کرینگے ۔ پھر یہ فہرست ہم پارٹی قیادت کو پیش کرتے ہوئے حکومت سازی پر تبادلہ خیال کرینگے ۔ امریندر سنگھ نے راہول گاندھی کو پارٹی صدر بنائے جانے کی حمایت کی اور کہا کہ اگر راہول گاندھی کو قیادت سونپی جائے تو وہ بہت خوش ہونگے ۔ انہوں نے کہا کہ اس فیصلے سے بہت زیادہ خوشی ہوگی ۔ کانگریس نائب صدر نے بھی اس ملاقات کے بعد کہا کہ آج انہوں نے کیپٹن امریندر سنگھ سے ملاقات کی ہے ۔ انہیں یقین ہے کہ پنجاب ایک بار پھر اپنی صلاحیتوں کے اعتبار سے کانگریس حکومت میں ترقی کریگا ۔ امریندر سنگھ نے پارٹی کی شاندار کامیابی کیلئے ہر کارکن اور پارٹی کی اعلی قیادت کو بھی ذمہ دار قرار دیا ۔ پنجاب میں کانگریس پارٹی دس سال کے وقفہ کے بعد اقتدار پر آئی ہے ۔ گذشتہ دس سال سے وہاں اکالی دل ۔ کانگریس کا اتحاد تھا ۔ پنجاب کانگریس سربراہ قبل ازیں لوک سبھا میں پارٹی کے ڈپٹی لیڈر تھے اور انہوں نے منی پور اور گوا میں بی جے پی حکومتوں کے قیام پر شدید اعتراض کیا اور کہا کہ ان دونوں ریاستوں میں کانگریس واحد بڑی جماعت بن کر ابھری ہے اس کے باوجود اسے موقع نہیں دیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں میں پھوٹ ڈالنا اور طاقت کے بل پر اپنی حکومتیں قائم کرنا واجبی اور منصفانہ نہیں ہے ۔ اس طرح سے عوام کی رائے کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT