Thursday , August 17 2017
Home / Top Stories / امریکہ، ایران کی عداوتیں ختم ، ہند و پاک کی کیوں نہیں : محبوبہ مفتی

امریکہ، ایران کی عداوتیں ختم ، ہند و پاک کی کیوں نہیں : محبوبہ مفتی

جموں ، 23 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) چیف منسٹر جموں و کشمیر محبوبہ مفتی نے ہند۔ پاک مصالحت کیلئے پُرزور اپیل کرتے ہوئے آج کہا کہ انڈیا اور پاکستان کو اس خطہ میں امن اور خوشحالی کا نیا دور اسی طرح کے خطوط پر شروع کرنا چاہئے جیسا کہ امریکہ اور ایران نے حال میں عداوتیں ختم کرلئے اور باہم مشغولیت کا نیا مرحلہ طے کیا ہے۔ محبوبہ نے آج یہاں اپنے طویل دورے کے موقع پر میڈیا والوں سے گفتگو میں کہا: ’’جب امریکہ اور ایران ہاتھ ملا سکتے ہیں تو مجھے کوئی وجہ نظر نہیں آتی کہ کیوں انڈیا اور پاکستان باہم مل کر استحکام بحال نہیں کرسکتے اور اس خطہ میں امن و خوشحالی کا نیا دور شروع نہیں کرسکتے ہیں۔‘‘ چیف منسٹر نے سابق وزیر اعلیٰ مفتی محمد سعید کی وراثت کا حوالہ دیتے ہوئے ہند اور پاکستان دونوں کو امن اور مصالحت کا طاقتور پیام بھیجا ہے۔ انھوں نے امریکہ اور ایران کی مثال پیش کی، جو کبھی کٹر دشمن رہے،

لیکن حال میں عداوتوں کو ختم کرتے ہوئے باہمی تال میل کے نئے مرحلے کا آغاز کیا ہے۔ جموں و کشمیر کے واگھا کو ’سچت گڑھ‘ بنانے اپنے والد کے خواب کو شرمندۂ تعبیر کرنے کی سعی میں محبوبہ مفتی نے کہا کہ اگر اس سرحدی ٹاؤن کو بین الاقوامی سرحد (آئی بی) کے پار پاکستان کے شہر سیالکوٹ کے ساتھ متصل عوام سے عوام کی ملاقات کے مقام کے طور پر فروغ دیا جائے تو انھیں مسرت ہوگی۔ انھوں نے ذرائع ابلاغ سے اپیل کی کہ اُس ثقافتی میل جول کو اُجاگر کریں جو ہندوستان اور پاکستان کے عوام کے درمیان پایا جاتا ہے۔ چیف منسٹر نے آئی بی کی دونوں طرف کے عوام کیلئے متبرک درگاہ بابا چملیال اور سچت گڑھ کے سرحدی علاقوں کا دورہ کرتے ہوئے استفسار کیا، ’’مجھے تعجب ہے جب دو پڑوسیوں کے درمیان عداوتیں خبریں بن سکتی ہیں تو ثقافتی میل جول کیوں نہیں۔‘‘ محبوبہ نے ہندواڑہ کے حالیہ واقعہ کو نہایت بدبختانہ قرار دیا، مگر امید ظاہر کی کہ وادیٔ کشمیر میں امن ٹھوس طور پر قائم ہوجائے گا، جہاں برسہا برس کی گڑبڑ نے عوام پر ناقابل بیان مصائب مسلط کردیئے ہیں۔ عوام سے عوام رابطے کیلئے ٹرانزٹ کے مزید مقامات کی تائید کرتے ہوئے چیف منسٹر جموں و کشمیر نے کہا کہ دونوں خطوں کے پار ثقافتی قربت اتنی مضبوط ہے کہ اسے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ ’’مجھے امید ہے ہمارے اچھے ارادوں کا ہمارا پڑوسی (پاکستان) اسی طرح (اچھا) جواب دے گا۔‘‘

TOPPOPULARRECENT