Monday , August 21 2017
Home / Top Stories / امریکہ، جاپان اور جنوبی کوریا، شمالی کوریا کیخلاف سخت کارروائی کیلئے پرعزم

امریکہ، جاپان اور جنوبی کوریا، شمالی کوریا کیخلاف سخت کارروائی کیلئے پرعزم

صدر امریکہ بارک اوباما کی علحدہ علحدہ اپنے جنوبی کوریائی اور جاپانی ہم منصبوں سے فون پر بات چیت
واشنگٹن ۔ 7 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) امریکہ، جاپان اور جنوبی کوریا نے فیصلہ کرلیا ہیکہ وہ تینوں متحدہ طور پر شمالی کوریا کے کامیابی کے ساتھ ہائیڈروجن بم دھماکہ کی ٹسٹنگ پر عالمی رائے کی نمائندگی کرتے ہوئے زبردست احتجاج کریں گے۔ اس موقع پر امریکی صدر بارک اوباما نے اپنے جنوبی کوریائی ہم منصب پارک ۔ گیون ہائی اور وزیراعظم جاپان شینزوابے کو علحدہ علحدہ فون کرکے شمالی کوریا کے نیوکلیئر ٹسٹنگ کے اعلان کے بعد اس خطہ میں پیدا شدہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ وائیٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کئے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہیکہ تینوں ہی قائدین نے فیصلہ کرلیا ہیکہ شمالی کوریا کے خلاف ایک متحدہ اور مضبوط احتجاجی فورم تیار کیا جائے گا۔ فون پر بات چیت کے دوران اوباما اور پارک دونوں نے شمالی کوریا کی زبردست مذمت کی اور اس بات پر متفق نظر آئے کہ شمالی کوریا کے خلاف ایک بین الاقوامی محاذ قائم کیا جائے۔ یاد رہیکہ شمالی کوریا کے ذریعہ نیوکلیئر ٹسٹنگ کے اعلان کے بعد اس خطہ میں سیکوریٹی کا مسئلہ پیدا ہوگیا ہے جس نے سب سے زیادہ امریکہ کو تشویش میں مبتلاء کردیا ہے۔ شمالی کوریا نے ٹسٹنگ کے ذریعہ اقوام متحدہ کی بھی کئی قراردادوں کی خلاف ورزی کی ہے۔ یہی نہیں بلکہ امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے بھی اپنے جاپانی اور جنوبی کوریائی ہم منصبوں کے ساتھ اس موضوع پر بات چیت کی ہے۔

جاپانی وزیرخارجہ کشیدا سے فون پر بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے زور دیا کہ شمالی کوریا کے خلاف ایک بین الاقوامی محاذ تیار کیا جائے۔ اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ترجمان جان کربی نے بتایا کہ جان کیری نے جاپان کے ساتھ دورخی تعلقات اور جمہوریہ کوریا کے ساتھ سہ رخی تعلقات میں باہمی رابطہ کو مستحکم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ دریں اثناء اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے آج ایک ہنگامی اجلاس کے دوران شمالی کوریا کو نئی تحدیدات کے نفاذ کا انتباہ دیا اور واضح طور پر کہا کہ شمالی کوریا کا نیوکلیئر ٹسٹ عالمی امن اور سلامتی کیلئے خطرہ ہے۔ 15 ملکی سلامتی کونسل بشمول چین نے شمالی کوریا کی نیوکلیئر ٹسٹنگ کے بعد پیدا ہوئی صورتحال پر ہنگامی سطح پر مشاورت کی تھی کیونکہ صورتحال انتہائی سنگین نوعیت کی ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ کونسل کے رکن ممالک نے قبل ازیں کہا تھا کہ شمالی کوریا نے اگر ایک بار پھر نیوکلیئر ٹسٹنگ کی تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ یاد رہے کہ ایران نے بھی حالیہ دنوں میں چھ طاقتور مغربی ممالک کے ساتھ نیوکلیئر معاہدہ کیا ہے۔ تاہم قبل ازیں ایران کا عرصہ حیات بھی تنگ کیا گیا تھا کیونکہ وہ نیوکلیئر توانائی کا حامل ملک بننے کے قریب پہنچ چکا تھا جس سے مغربی ممالک کے سینوں پر سانپ لوٹ رہے تھے۔ اب دیکھنا یہ ہیکہ شمالی کوریا پر کس نوعیت کی تحدیدات عائد کی جاتی ہیں اور اگر تحدیدات عائد کی جاتی ہیں تو شمالی کوریا کا ردعمل کیا ہوگا۔ ایران کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا تاہم ایران نے اب تک ایسا کوئی قدم نہیں اٹھایا جس کے تحت یہ کہا جاسکتا ہیکہ وہ نیوکلیئر توانائی کے حامل ملک کا موقف حاصل کرنے کے بعد مغرور ہوگیا ہے۔ بہرحال سعودی عرب اور ایران کے سفارتی تعلقات منقطع ہونے کے بعد شمالی کوریا کے خلاف عالمی طاقتوں کا متحد ہوجانا یقیناً عالمی سطح پر کوئی اچھی پیشرفت نہیں ہے۔

TOPPOPULARRECENT