Friday , October 20 2017
Home / مضامین / امریکہ۔ہندوستان کی بڑھتی فہرست

امریکہ۔ہندوستان کی بڑھتی فہرست

فیض محمد اصغر
امریکی صدارتی انتخابات میں ڈونالڈ ٹرمپ کی کامیابی اور پھر حالیہ عرصہ کے دوران چین کے خلاف ٹرمپ کی بیان بازی، ٹرمپ کے نامزد امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر مسٹر مائکل فلن کی ہندوستان کے قومی مشیر سلامتی اجیت دوول سے ملاقات ایسی تبدیلیاں ہیں جن کے ساری دنیا بالخصوص جنوبی ایشیاء میں دور رس اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ آثار و قرائن سے پتہ چلتا ہے کہ جنوبی ایشیاء میں چین، امریکی مفادات میں سب سے بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے وہ دنیا کے صرف دویاتیں ایسے ملکوں میں شامل ہیں جو امریکہ سے نظریں ملاکر بات کرتے ہیں۔ اسے چیلنج کرنے کی طاقت رکھتے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ امریکہ روس سے کہیں زیادہ چین کی بڑھتی طاقت اور عالمی سطح پر اس کے بڑھتے اثر و رسوخ سے کافی پریشان ہے۔ ایسے میں امریکہ کے منتخب صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی زیر قیادت انتظامیہ یہی چاہے گا کہ علاقہ جنوبی ایشیاء میں چین کے خلاف ہندوستان کو کھڑا کیا جائے کیونکہ فلپائن، ویتنام، تائیوان، برونی، انڈونیشیا ملیشیا اور تھائی لینڈ میں چین کے مقابلے کی طاقت نہیں ان ملکوں کے برعکس ہندوستان چین کی طرح دنیا کی تیزی سے ابھرتی ہوئی معیشت ہے۔ ہندوستان نے حالیہ عرصہ کے دوران خلائی سائنس میں زبردست ترقی کی ہے۔ خلائی سائنس کے شعبہ میں ہندوستان دنیا کی بڑی طاقتوں بشمول امریکہ، روس اور چین کے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔ سائنس و ٹکنالوجی کے شعبہ میں ساری دنیا ہندوستان کی پیشرفت کی متعارف ہے، ہندوستانی فوج کو جنگ وجدال کا کافی تجربہ ہے۔ اس کے پاس عصری سامان حربی بھی موجود ہیں۔ فوج کے تینوں شعبوں بری بحری اور فضائیہ کے معاملہ میں ہندوستان کا شمار دنیا کی چند طاقتور ترین افواج میں ہوتا ہے۔ غرض ہندوستان کی ترقی قابل رشک ہے۔ ہندوستان کے اس موقف کو دیکھتے ہوئے امریکہ کے منتخب صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنا جائزہ حاصل کرنے سے قبل ہی اُسے اہمیت دینی شروع کردی ہے۔ حال ہی میں ہندوستان کے مشیر قومی سلامتی  اجیت دوول نے امریکہ کا دورہ کیا جہاں انہوں نے منتخب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے نامزد مشیر قومی سلامتی مسٹر مائیکل فلن سے ملاقات کی۔ دونوں نے علاقائی اور عالمی مسائل اور صورتحال کے ساتھ ساتھ ہندوستان اور امریکہ کے تعلقات مزید مستحکم کرنے کے طریقہ کار پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ واضح رہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ ہندوستان سے تعلقات کو ایک نئی جہت عطا کرنے کے خواہاں ہیں۔ حقیقت میں اگر اس کی مزید وضاحت کی جائے تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ ٹرمپ چین سے مقابلہ کے لئے ہندوستان کو ایک مضبوط ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کے خواہاں ہیں۔ ان کا مقصد صرف اور صرف چین کو نیچا دکھانا ہے۔ مائیکل فلن اور اجیت دوول کی ملاقات کے بعد منظر عام پر آئی رپورٹس میں واضح کیا گیا کہ مائیکل فلن نے حالیہ عرصہ کے دوران ہندوستان کی قابل رشک ترقی کی ستائش کی اور ہندوستانیوں کو اس کے لئے سلام کیا انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ ہندوستان اور اس کی قیادت کو قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ سفارتی حلقوں کے مطابق چند دن قبل ہی فلن نے اجیت دوول سے فون پر بات کی اور اس دوران انہوں نے ہندوستانی مشیر قومی سلامتی سے امریکہ آنے کی خواہش کی تاکہ مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے۔ چنانچہ دونوں کی پہلی ملاقات میں جو زائد از ایک گھنٹے تک جاری رہی دراصل یہ معلومات عالمی مسائل پر تبادلہ خیال اور نوٹس کے تبادلہ کا ایک موقع رہی۔ دونوں نے خاص طور پر ہندوستان، امریکہ تعاون واشتراک بڑھانے کے امکانات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ دفاعی اور اقتصادی پہلوؤں سے مستقبل میں تعلقات مستحکم کرنے پر بھی گفت و شنید کی گئی۔ اس ملاقات کی اہمیت اس لئے بھی ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے اجیت دوول کو بطور خاص مشیر امور قومی سلامتی کے عہدہ پر فائز کیا تھا۔ اس لئے کہ انہیں ہندوستان کا جیمس بانڈ کہا جاتا ہے۔ وہ ہندوستانی جاسوسوں میں سرفہرست سمجھے جاتے ہیں۔ اجیت دوول کی صلاحیتوں کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ وہ محکمہ پولیس کے واحد عہدہ دار ہیں جنہیں حکومت ہند نے 1988ء میں شجاعت کا اعلیٰ ترین ایوارڈ ’’کیرتی چکرا‘‘ عطا کیا۔ اس طرح یہ باوقار ایوارڈ حاصل کرنے والے مسٹر دوول پہلے پولیس عہدہ دار رہے، یہ ایوارڈ صرف بہادر سپاہیوں کو ہی دیا جاتا رہا ہے۔ ہندوستان کے اس پانچویں مشیر قومی سلامتی نے اس وقت اغوا کنندگان سے گفت و شنید میں اہم رول ادا کیا تھا جب 1999 ء میں انڈین ایر لائنز کی پرواز 1C-814 کا اغوا کرکے اسے افغانستان کے قندھار لے جایا گیا انہوں نے  1971-1999 پیش آئے طیاروں کے اغوا کے تمام واقعات کے حل میں اہم کردار ادا کیا۔ اکثر پولیس عہدہ داروں کو انڈین پولیس میڈل محکمہ میں مسلسل 17 سالہ خدمات کے بعد دیا جاتا ہے لیکن اجیت دوول وہ پہلے پولیس عہدہ دار ہیں جنہیں محکمہ پولیس میں خدمات کے اندرون 6 سال میں ہی انڈین پولیس میڈل حاصل کیا۔ اجیت دوول کاجھکاؤ بی جے پی جیسی دائیں بازو کی طاقتوں کی طرف زیادہ ہے وہ دائیں بازو کے مفکرین و دانشوروں پر مشتمل وویکا نندا انٹرنیشنل فاؤنڈیشن کے سربراہ بھی ہیں، 2001ء میں انہیں حکومت کرناٹک کا سلامتی مشیر مقرر کیا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ ان ہی کی کوششوں سے عراق سے ہندوستانی نرسوں کی بحفاظت واپسی عمل میں آئی۔ کیرالہ کیڈر 1968ء کے اس آئی پی ایس عہدہ دار کی میزورام، پنجاب اور کشمیر میں شورش پسندوں کے خلاف کامیاب کارروائیوں کی قیادت کا بھی اعزاز حاصل ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ریاست سکم کے ہندوستان میں انضمام میں بھی اجیت دوول کا اہم رول رہا۔ اجیت دوول وہی شخص ہیں جس نے مبزو نیشنل فرنٹ (MNF) کی شورش پسندی کے دوران لال ڈینگا کے 7 کمانڈروں کا انحراف کروایا۔ حد تو یہ ہے کہ انہوں نے چینی علاقہ اور برما کے ارکان میں خفیہ طور پر میزونیشنل آرمی میں گذارے یہاں تک کسی کو بھی ان پر شک نہیں ہوا۔ آپریشن بلیک تھنڈر کے دوران اجیت دوول ہرمیندر صاحب امرتسر کے اندر تھے۔ انہیں اس آپریشن کو کامیابی سے ہمکنار کرنے والا اور سکھ انتہا پسندوں کے ہاتھوں اغوا، رومانیہ کے سفیر لوئیوراڈو کی رہائی کے پیچھے کار فرما اہم شخصیت بھی سمجھا جاتا ہے۔ جے این ڈکشٹ جب پاکستان کے ہائی کمشنر تھے تب انہوں نے پاکستان میں خدمات انجام دیں اور وہاں 6 سال گذارے۔ اجیت دوول انسداد دہشت گردی کی مرکزی تنظیم کے حامی رہے اور پوٹا (قانون انسداد دہشت گردی) کی پرزور وکالت کی۔ انہیں وزیر اعظم نریندر مودی کا بااعتماد رفیق تصور کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چین سے سرحدی مسئلہ پر بات چیت کا بھی اجیت دوول کو ذمہ دیا گیا ہے۔ اب مودی کی ایماء پر ہی وہ ڈونالڈ ٹرمپ انتظامیہ سے قربت حاصل کرکے امریکہ ۔ پاکستان قربت کو خلیج میں بدل کر پاکستان کو یکا و تنہا کرنے اور چین کے خلاف محاذ کھولنے میں مصروف ہوگئے ہیں۔ اجیت دوول کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ سری لنکا میں چین کے حامی سابق صدر مہیندرا راجہ پکسے کے اقتدار کے خاتمہ میں بھی اجیت دوول کا بڑا دخل رہا، کیونکہ راجہ پکسے ہندوستان کے خلاف چینی کارڈ کھیل رہے تھے۔ اجیت دوول کے بارے میں یہ بھی عام رائے ہے کہ وہ اسرائیلی انٹلی جنس سے بھی خوشگوار تعلقات رکھتے ہیں۔ بہرحال وہ امریکہ۔ ہندوستان تعلقات کو مستحکم بنانے اور پاکستان کو امریکہ سے دور کرنے کے مشن پر ہیں۔ دوسری طرف امریکی مشیر قومی سلامتی لیفٹننٹ جنرل مائیکل فلین فوج اور انٹلی جنس میں اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے انہیں ایک چالاک جنرل سمجھا جاتا ہے۔ 2014 ء میں فلن کو ڈیفنس انٹلی جنس ایجنسی کے سربراہ کے عہدہ سے برطرف کیاگیا۔ اس بارے میں امریکی عہدہ داروں کا کہنا تھا کہ ان کی انداز قیادت پر دوسروں کو اعتراض تھا لیکن فلن کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے ’’ریاڈیکل اسلام‘‘ کے بارے میں جو موقف اختیار کیا تھا اس کی بناء پر ان کی برطرفی عمل میں آئی تھی۔ فلن نے انتہا پسندی کے خلاف HOW TO WIN THE GLOBAL WAR AGAINST RADICAL ISLAM نامی کتاب لکھی اور پھر ڈونالڈ ٹرمپ کے کٹر حامیوں میں شامل ہوگئے۔ ان کے ٹرمپ حامی بننے پر واشنگٹن پوسٹ ان سے یہ پوچھنے پر مجبور ہوگیا کہ آخر مائیکل فلن کو کیا ہوگیا کیا ان کی عقل ماری گئی، فوج اور انٹلی جنس کے بے شمار اعلیٰ عہدہ دار یہ دیکھ کر حیران رہ گئے تھے کہ مائیکل فلن بھی ہیلاری کلنٹن کے خلاف ’’اسے لاک اپ میں بند کردو‘‘ کے نعرے بلند کررہے ہیں۔ خود ان کے سابق رفقاء بھی فلن کے بارے مںے اچھے تاثرات نہیں رکھتے۔ انہوں نے افغانستان میں بھی خدمات انجام دیں۔ بہرحال فلن کو سنکی سمجھا جاتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT