Friday , October 20 2017
Home / Top Stories / امریکہ اور ایران میں قیدیوں کا تبادلہ

امریکہ اور ایران میں قیدیوں کا تبادلہ

ایک نمایاں رکاوٹ دور،‘ سفارت کاری میں وزرائے خارجہ بھی شامل
ویانا۔17جنوری ( سیاست ڈاٹ کام )  چار امریکیوں اور 7 ایرانیوں کو آزادی حاصل ہوگئی جب کہ ایران اور امریکہ نے باہم قیدیوں کے تبادلے سے اتفاق کرلیا ۔ اس طرح زبردست بین الاقوامی تحدیدات کی جو ایران پر عائد تھی برخواستگی کا عمل شروع ہوگیا ۔ ایران نے نیوکلیئر معاہدہ کے تحت اپنے نیوکلیئر پروگرام سے دستبرداری اختیار کرلی ۔ پانچویں امریکہ کو علحدہ طور پر رہا کیا گیا ۔ باہم قیدیوں کے تبادلہ سے دونوں ممالک کی باہمی کشیدگی کی ایک بڑی وجہ دور ہوگئی ہے اور دونوں ممالک بلارکاوٹ کئی دہائیوں بعد باہمی تعلقات میں پیشرفت کا آغاز کرسکتے ہیں ۔ دونوں ممالک نے برسوں سے  کشیدگی جاری تھی اور کئی محاذوں پر دونوں ایک دوسرے کے خلاف صف آراء تھے ۔

واشنگٹن پوسٹ کے صحافی جیسن ریزئیان سابق امریکی میرن فوجی امیر حکمتی ‘ پادری سعید عابدینی اور نصرت اللہ قصوری رود ساری جن کے نام ماضی میں برسرعام ظاہر کئے گئے تھے ‘ ایران کی تحویل سے آزاد کردیئے گئے اور بذریعہ طیارہ سوئٹزرلینڈ منتقل کئے گئے ۔ امریکی طالب علم میتھو ٹریویٹک کو کل تبادلہ کے دوران آزاد کیا گیا اور وہ اپنے گھر پہنچ چکے ہیں ۔ ان کے معاوضہ میں امریکہ 7ایرانیوں کے خلاف الزامات سے سبکدوشی اختیار کرلے گا جن میں سے چھ دوہری امریکی ۔ ایرانی شہریت رکھنے کے مجرم ہیں اور انہوں نے امریکی تحدیدات کی خلاف ورزی کی تھی ۔ یہ تمام جیل میں اپنی سزاکی میعاد پوری کررہے تھے

اور اب انہیں معافی دے دی گئی ہے ۔ دیگر تین افراد کے مقدمہ کا ہنوزآغاز نہیں ہواتھا ۔ آخری شخص نے معاہدہ کے بعد درخواست داخل کی تھی ۔ یہ واضح نہیں ہوسکا کہ کیا وہ امریکہ سے ایران روانہ ہوں گے یا آزاد شہری کی حیثیت سے امریکہ میں قیام کریں گے ۔ امریکہ انٹرپول کو روانہ کردہ ریڈ نوٹسوں سے بھی دستبرداری اختیار کرلے گا ۔ یہ لازمی طور پر گرفتاری وارنٹ ہے جو 14مفرور ایرانیوں کیلئے جاری کئے گئے تھے ۔ یہ اعلان قیدیوں کے باہمی تبادلہ کے کچھ ہی دیربعد منظر عام پر آیا جب کہ ایران کی جانب سے نیوکلیئر معاہدہ کی تمام شرائط کی تکمیل کا ثبوت دستیاب ہوگیا ۔ وزیر خارجہ امریکہ جان کیری اور وزیر خارجہ ایران جواد ظریف اور دیگر عہدیدار ویانا میں اس معاہدہ میں شامل ہیں جب کہ یہ سفارتی کارنامہ ظاہرہوا ۔ قیدیوں کی رہائی اور نیوکلیئرمعاہدہ کی شرائط کئی ہفتے قبل طئے کرلی گئی تھی جس کیلئے امریکہ اور ایران کے درمیان شدت سے سفارت کاری ہوئی تھی ۔

TOPPOPULARRECENT