Saturday , September 23 2017
Home / Top Stories / امریکہ دوسرے 9/11 کا متحمل نہیں ہوسکتا : مارکو روبیو

امریکہ دوسرے 9/11 کا متحمل نہیں ہوسکتا : مارکو روبیو

ٹرمپ کو اناپ شناپ بیان دینے سے باز رہنے کا مشورہ، میں اپنے بیان پرقائم ہوں : ٹرمپ
واشنگٹن ۔ 11 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) ری پبلکن صدارتی امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ جو شاید یہ سمجھ چکے ہیں کہ اگر خبروں میں رہنا ہے تو اناپ شناپ بیانات دیتے رہنا چاہئے لہٰذا انہوں نے ’’اسلام امریکہ سے نفرت کرتا ہے‘‘ والے اپنے کل دیئے گئے بیان پر کوئی معذرت نہ کرتے ہوئے بڑی ہی ڈھٹائی سے یہ کہا کہ وہ اپنے بیان پر بدستور قائم ہیں حالانکہ ان کے بیان پر انہیں نہ صرف عالمی سطح پر بلکہ خود اپنی ہی پارٹی کے حریفوں سے شدید تنقیدوں کا سامنا ہے۔ ایک حریف نے تو یہ تک کہہ دیا کہ ٹرمپ کو ایسے اناپ شناپ بیانات کی بڑی بھاری قیمت چکانی پڑ سکتی ہے۔ ٹرمپ نے البتہ یہ ضرور کہا ہے کہ تمام مسلمان اس دائرہ میں نہیں آتے۔ انہوں نے صرف اتنا کہا تھا کہ مسلمانوں کی اکثریت امریکہ سے نفرت کرتی ہے۔ ان سے پوچھا گیا تھا کہ کیا تمام 1.6 ملین مسلمان امریکہ سے نفرت کرتے ہیں؟ تو انہوں نے مندرجہ بالا جواب دیا۔ ٹرمپ نے کہا کہ وہ مباحثہ کا مسلسل مشاہدہ کرتے آرہے ہیں جہاں اسلامی دہشت گردی اور انتہا پسند اسلام کے موضوعات پر بات چیت کی جارہی ہے۔ ہوسکتا ہے کہ اس کے بارے میں کافی لوگوں کو کوئی علم نہ ہو لیکن یہ بات اپنی جگہ مسلمہ ہے کہ مسلمان امریکہ سے نفرت کرتے ہیں اور وہ (ٹرمپ) اپنے گذشتہ بیان پر بدستور قائم ہیں۔ مشرق وسطیٰ کی بڑی بڑی مساجد میں امریکہ کی تباہی و بربادی کیلئے دعائیں کی جاتی ہیں کیا ایسا کرنا درست ہے؟ کیا ایسے لوگوں کو آپ اپنا دوست سمجھ سکتے ہیں؟ انہوں نے میامی میں آخری صدارتی مباحثہ میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے یہ بات کہی۔

فلوریڈا میں منگل کو انتہائی اہم پرائمریز منعقد شدنی ہیں۔ البتہ ٹرمپ کے بیانات اور ان پر کی جانے والی تنقیدیں اب تک تو تہذیب کے دائرہ میں ہی ہیں جبکہ گذشتہ پرائمریز سے قبل حریف قائدین نے تہذیب کے دائرہ میں رہنے کو ترجیح نہیں دی تھی۔ مارکو روبیو نے واضح طور پر کہہ دیا ہیکہ اگر ٹرمپ اپنے اناپ شناپ بیانات سے باز نہ آئے تو انہیں (ٹرمپ) سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ڈونالڈ ٹرمپ کی باتوں سے عوام اس لئے لطف اندوز ہورہے ہیں کیونکہ وہ خود ان کے دلوں کی آواز ہے جو وہ اپنے منہ سے بولنا چاہتے ہیں اور اب ڈونالڈ ٹرمپ جب ان کے دل کی بات کہہ رہے ہیں تو عوام (محدود طبقہ) لطف اندوز ہوگا ہی! لیکن صدارتی امیدوار یا پھر صدر وہ شخصیت ہوتی ہے جسے لب کشائی سے قبل انتہائی محتاط رویہ اختیار کرنا پڑتا ہے، جو جی میں آیا کہہ دیا۔ صدارتی امیدوار یا صدر کا طرہ امتیاز نہیں ہوتا کیونکہ صدارتی امیدوار یا صدر کوئی عام آدمی نہیں ہوتا بلکہ غلط بیانی سے اسے نہ صرف اندرون ملک بلکہ عالمی سطح پر بھی تنقیدوں کے علاوہ سنگین نتائج کا اندیشہ لاحق رہتا ہے۔ مارکو روبیو نے اس موقع پر 9/11 کی یاد تازہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ ایک بار پھر ورلڈ ٹریڈ سنٹر اور پنٹگان میں طیاروں کے ٹکرا جانے کے واقعات کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ اس وقت وائیٹ ہاؤس بھی نشانہ بن سکتا تھا۔ ٹرمپ کو یہ سب حقائق یاد رکھنے چاہئے۔ آج امریکہ کو کئی مسائل کا سامنا ہے جن میں سب سے بڑا مسئلہ منافرت کا ہے۔

TOPPOPULARRECENT