Friday , September 22 2017
Home / دنیا / امریکہ : لڑکے کو دہشت گرد قرار دینے پر مسلم خاندان پریشان

امریکہ : لڑکے کو دہشت گرد قرار دینے پر مسلم خاندان پریشان

متعلقہ ٹیچر برطرف ‘  مذہبی منافرت کی اسکول میں گنجائش نہیں ‘اسکول انتظامیہ کا بیان جاری
ہوسٹن ۔3اپریل ( سیاست ڈاٹ کام ) ایک 12سالہ مسلم لڑکے کے اپنے ٹیچر پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ مذہبی منافرت کی بناء پر اُسے دہشت گرد کے نام سے اُس کے دوستوں کے سامنے پکارتے ہوئے اُسے ہراساں کررہا تھا ۔ یہ واقعہ امریکی ریاست ٹکساس میں پیش آیا ہے ۔اس شکایت پر اسکول عہدیداروں نے واقعہ کی تحقیقات کا آغاز کردیا ہے ۔ ساتویں جماعت کا طالب علم فرسٹ کالونی مڈل اسکول میں زیرتعلیم تھا ۔ اس کا نام ولید عبدالشعبان ہے ‘ اُسے ’’بم ‘‘  کے لطیفوں کے آخر میں اُس کے ہم جماعت مذاق کا نشانہ بنایا کرتے تھے جبکہ اُس کے ٹیچر نے لاپرواہی سے اُسے دہشت گرد کا نام دیا تھا ۔ ٹیچر نے مبینہ طور پر بے حسی پر مبنی یہ تبصرہ اُس وقت کیا تھا جب کہ جماعت کے تمام لڑکے فلم ’’ بنڈ اِٹ لائک ڈٹ ہیم‘‘ دیکھ رہے تھے  ۔ اس کے بعد ایک امتحان لیا گیا

اور ولید نے فلم کے ایک لطیفہ پر زوردار قہقہہ لگایا ۔ ولید نے کہا کہ ہم کلا س میں تھے اور فلم دیکھ رہے تھے ‘ وہ صرف فلم پر ہنس رہا تھا اور ٹیچر نے کہا کہ اگر میں شریف لڑکا ہوں تو مجھے ہنسنا نہیں چاہیئے تھا ۔ ٹیچر نے کہا کہ اس کے خیال میں میں دہشت گرد ہوں ۔ اس تبصرہ کے بعد تمام طلبہ نے لڑکے کا مذاق اڑانا شروع کیا اور اسے ’’ بم ‘‘ کے نام سے پکارنے لگے ۔ ولید نے کہا کہ وہ تمام ایک جیسے تھے ‘ انہوں نے میرے بارے میں لطیفے بنانا اور مجھ پر ہنسنا شروع کردیا ۔ میں پریشان ہوگیا اور مجھے احساس ہونے لگا کہ مجھے الگ تھلگ کردیا گیا ہے اور ہر شخص مجھے دیکھ کر ’’میں نے بم دیکھا ہے کہتا اور ہنستا تھا ‘‘ ۔ انگریزی اور زبان کے عنون کے ٹیچر فوری طور پر اس الزام کے بعد مجھے کلاس سے خارج کردیا ۔ ولید کا خاندان اس کارروائی کے خلاف اسکول سے رجوع ہوا ۔ ولید کے باپ ملک عبدالشعبان نے کہا کہ صرف اس لئے کہ میرا بیٹا مسلمان ہے اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ دہشت گرد ہے ۔ وہ ایک امریکی شہری ہے اور دوسرے امریکی شہریوں سے مختلف نہیں ہے ۔ وہ یہیں پیدا ہوا ہے اور جانتا ہے کہ امریکی شہری میں کیا خصوصیات ہونے چاہیئے ۔اس کا خاندان اسکول سے خواہش کررہا ہے کہ مذہب کے بارے میں حساسیت کی تربیت دی جائے ۔ ضلع فورڈ بنڈ اسکول نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ الزامات بے بنیاد ہیں اور ان سے ٹیچر کی کارروائیوں کی تائید نہیں ہوتی ۔کوئی بھی مذہب کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتااور نہ اسکول انتظامیہ اسکول کے احاطہ میں کسی بھی مذہب کے عدم احترام کی اجازت دیتا ہے‘ تاہم ٹیچر کو برطرف کردیا گیا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT