Sunday , March 26 2017
Home / اداریہ / امریکہ میںمسلم دشمنی

امریکہ میںمسلم دشمنی

باطل کے فال و فر کی حفاظت کے واسطے
یورپ زِرہ میں ڈوب گیا دوش تا کمر
امریکہ میںمسلم دشمنی
امریکہ میں مسلم دشمنی کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ امریکہ کے صدارتی انتخابات میں ریپبلیکن امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ نے جس طرح سے مسلمانوں کے خلاف بیان بازیاں کی تھیں اور مسلمانوں کو امریکہ میں داخلہ سے روک دینے کا اعلان کیا تھا اس کے بعد بتدریج امریکی معاشرہ میں مسلم دشمنی کا عنصر تقویت پاتا گیا تھا ۔ ڈونالڈ ٹرمپ کے بیانات اور ان کی ہٹ دھرمی و ضدی طبیعت نے امریکی معاشرہ کو ایک ایسے مقام پر لا کھڑا کردیا ہے جہاں وہ غیر جانبداری کے اصولوں سے پرے ہوگیا ہے اور یہاں بھی مذہبی عصبیت اپنا سر ابھارنے لگی ہے ۔ یہ سب کچھ حالانکہ امریکی عوام کیلئے نیا دکھائی دے رہا ہے اور دنیا کیلئے بھی امریکی معاشرہ کی یہ تبدیلی نئی ہی سمجھی جاسکتی ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ امریکہ میں یہ ماحول پہلے سے پایا جاتا تھا اور وقفہ وقفہ سے یہاں مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے واقعات پیش آتے رہتے تھے ۔ ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر ہوئے حملہ کے بعد سے خاص طور پر مسلمانوں کے خلاف مذہبی تعصب میںشدت پیدا ہوگئی تھی اور انہیں نشانہ بنانے کے واقعات کا آغاز ہوگیا تھا ۔ یہ واقعات گذرتے وقت کے ساتھ کبھی کم بھی ہوئے اور کبھی ان میں شدت اور اضافہ بھی درج کیا گیا تھا تاہم اب ڈونالڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم اور پھر صدارتی انتخابات میں ان کی کامیابی کے بعد سے یہ واقعات بہت زیادہ ہوتے جا رہے ہیں۔ تازہ ترین واقعہ میں ایک پانچ سال کے مسلم طالب علم کو اس کی ٹیچر نے ہی نشانہ بناتے ہوئے بے دردانہ انداز میں زد و کوب کیا ۔ اس کا گریبان پکڑ لیا اور اسے ہزیمت کا شکار کردیا ۔ یہ معصوم طالب علم اپنے مذہب کے صحیح معنی تک سمجھنے سے قاصر ہے لیکن جس ٹیچر نے اسے نشانہ بنایا اس کی متعصب ذہنیت اور نسلی امتیاز نے امریکی معاشرہ کی ایک ایسی تصویر کو سامنے لا کر رکھ دیا ہے جس کے اندیشے گذشتہ کچھ وقت سے مختلف گوشوں میں ظاہر کئے جا رہے تھے ۔ حالانکہ ڈونالڈ ٹرمپ نے صدر منتخب ہونے کے بعد اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ مسلمانوں کے خلاف حملوں کا سلسلہ بند ہونا چاہئے ۔ انہوں نے مختلف حالات میں مختلف صورتحال ہونے کا عذر پیش کرتے ہوئے یہ بیان دیا تھا لیکن ایسا لگتا ہے کہ اس کا کوئی اثر ہونے نہیں پا رہا ہے ۔
گذشتہ دو ہفتوں کے دوران امریکہ میں مختلف مقامات پر ایسے واقعات پیش آئے ہیں جن کی پہلے مثال مشکل ہی سے ملا کرتی تھی ۔ ان واقعات کی وجہ سے سارے امریکہ میں مسلمانوں میں اندیشے پیدا ہو رہے ہیں۔ دنیا بھر میں رہنے والے مسلمان بھی امریکی مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے سلوک کے تعلق سے فکرمند ہیں۔ انہیں یہ محسوس ہونے لگا ہے کہ اب امریکہ میں بتدریج مسلمانوں کا عرصہ حیات تنگ کرنے کی عملی کوششوں کا آغاز ہوچکا ہے ۔ انہیں نشانہ بناتے ہوئے خوفزدہ کیا جا رہا ہے اور انہیں یہ احساس دلانے کی کوشش ہو رہی ہے کہ امریکہ میں ان کیلئے کوئی جگہ نہیں ہے ۔ ڈونالڈ ٹرمپ نے صدارتی انتخاب کی مہم کے دوران جو زہر افشانی کی تھی اس کے اثرات اب دکھائی دے رہے ہیں۔ اب امریکہ کے متعصب ذہنیت کے حامل افراد کو یہ محسوس ہو رہا ہے کہ ملک کا صدر بھی ان کے خیال کا حامی ہے اور وہ اسی رائے پر عمل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو صدارتی انتخاب کے دوران ڈونالڈ ٹرمپ نے ظاہرکی تھی ۔ اب ایسا ماحول پیدا کیا جا رہا ہے جس میںمسلمان خود کو غیر محفوظ سمجھنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ معصوم طالب علم کو تک اس طرح کی وحشیانہ حرکت کا نشانہ بنایا جانا انتہائی افسوسناک ہے اور ایسا واقعات کی دنیا کے کسی بھی سماج اور معاشرہ میں اجازت نہیں دی جاسکتی اور نہ اس کا کوئی جواز ہوسکتا ہے ۔ اس طرح کے واقعات کا فی الفور تدارک ہونا چاہئے اور اس بات کو بھی یقینی بنایا جانا چاہئے کہ اس طرح کی حرکتیں کسی اور مقام پر کسی اور کی جانب سے سرزد نہ ہونے پائیں۔
ڈونالڈ ٹرمپ اب صدارتی انتخابات کی مہم سے آگے نکل آئے ہیں اور اب وہ ملک کے صدر منتخب ہوگئے ہیں۔ اب ان کے لب و لہجہ میں ‘ ان کے قول و فعل میں جذباتیت کا عنصر نہیں ہونا چاہئے ۔ اب انہیں ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے ۔ انہیں امریکی معاشرہ میں ایک ذمہ داری کا احساس پیدا کرنے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ انہیں اس بات کو یقینی بنانا چاہئے کہ امریکہ میں کوئی بھی شہری ‘ چاہے وہ کسی بھی مذہب کا ماننے والا ہو ‘ امتیازی سلوک کا شکار نہ ہونے پائے ۔ اس کے ساتھ کوئی مذہبی عصبیت کا برتاو نہ ہونے پائے اور امریکی معاشرہ میں مساوات کا ماحول پیدا ہو ۔ یہاں کسی کو کسی پر برتری اور فوقیت نہ ہو اور سب کے ساتھ یکساں اور مساوی سلوک کیا جائے ۔ ڈونالڈ ٹرمپ اگر اپنے دور صدارت کے ابتدائی دور ہی میں اس صورتحال پر قابو پانے میں ناکام ہوجاتے ہیں تو پھر مستقبل میں حالات اور بھی دگرگوں ہوسکتے ہیں۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT