Tuesday , August 22 2017
Home / مضامین / امریکہ میں صدارتی انتخابات کیا نئی تاریخ رقم ہوگی ؟

امریکہ میں صدارتی انتخابات کیا نئی تاریخ رقم ہوگی ؟

خلیل قادری
ساری دنیا پر اجارہ داری چلانے والے ملک امریکہ میں صدارتی انتخابات کیلئے وقت بہت کم رہ گیا ہے ۔ محض پندرہ دن بعد امریکہ میں نئے صدر کے انتخاب کیلئے ووٹ ڈالے جائیں گے ۔ امریکی عوام ملک کے 45 ویں صدر کا انتخاب اپنے حق رائے دہی کے ذریعہ کرینگے ۔ صدارتی انتخاب کیلئے امریکہ میں مہم انتہائی عروج پر پہونچ چکی ہے ۔ دونوں امیدوار ڈیموکریٹک پارٹی کی ہیلاری کلنٹن اور ریپبلیکن پارٹی کے ڈونالڈ ٹرمپ حتی المقدور کوشش کر رہے ہیں کہ رائے دہندوں کی تائید حاصل کی جائے اور وائیٹ ہاوز میں بحیثیت امریکی صدر داخلہ حاصل کیا جائے ۔ یہ عملا دنیا کے طاقتور ترین شخص کا انتخاب ہوگا جو امریکی عوام اپنے ووٹ کے ذریعہ کریںگے ۔ امریکہ کو ساری دنیا میں طاقت کا مرکز اور محور سمجھا جاتا ہے ۔ یہاں جو صدر منتخب ہوتا ہے وہ ساری دنیا پر عملا اپنی حکمرانی قائم کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔ امریکی صدور کی حالیہ تاریخ کا مشاہدہ کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے کچھ مخصوص علاقوں پر اپنی توجہ کرتے ہوئے اپنے مقاصد کی تکمیل کی کوشش کی ہے ۔ چاہے وہ عراق ہو یا پھر افغانستان ‘ چاہے وہ پاکستان کے قبائلی پٹی والے علاقے ہوں یا لیبیا ہو ‘ چاہے وہ شام ہو یا یمن ہو ‘ چاہے وہ مصر ہو یا دنیا کا کوئی اور خطہ ہو ۔ اکثر امریکی صدور کی توجہ مسلم ممالک کی سمت مبذول رہی ہے اور یہاں انہوں نے جتنی ممکن ہوسکتی ہے تباہی مچائی ہے اور مسلم ممالک کو کمزور کیا ہے ۔ ایران کے ساتھ امریکہ کے اختلافات ساری دنیا پر عیاں ہیں ۔ نیوکلئیر مسئلہ پر ایران کے خلاف جو سخت ترین تحدیدات عائد کی گئی تھیں ان کو عملا بے اثر ہوتا دیکھ کر ایران کے ساتھ مجبوری میں ایک معاہدہ کیا گیا ۔ عرب ممالک کے ساتھ امریکہ کے تعلقات بھی اہمیت کے حامل رہے ہیں اور علاقہ میں امریکہ اسرائیل کی سرپرستی بھی کرتا رہا ہے ۔ نہتے فلسطینیوں کے مقابلہ میں اسرائیل کے جارحانہ مظالم کی مدافعت کرنے میں امریکہ خود اسرائیل سے بھی آگے رہا ہے ۔ اب جبکہ انتخابات کا موسم چل رہا ہے امریکہ میں یہی بحث عام ہوتی جا رہی ہے کہ امریکہ کے نئے منتخب ہونے والے صدر کا رخ اور نشانہ کس سمت میں ہوگا ؟ ۔ یہ ایسا سوال ہے جو فی الحال جواب طلب ہے اور فوری طور پر کوئی نتیجہ بھی اخذ نہیں کیا جاسکتا ۔ نئے منتخب ہونے والے امریکی صدر کے عزائم اور منصوبوں سے قطع نظر ایک بات قابل توجہ ہے کہ اس بار بھی امریکہ کے صدارتی انتخاب میں نئی تاریخ رقم ہوگی ؟ ۔

آثار و قرائن اور اب تک ہونے والے سروے رپورٹس کی بنیاد پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ امریکہ میں 8 نومبر کو ہونے والی رائے دہی میں امریکی عوام شائد پہلی مرتبہ کسی خاتون صدر کے حق میں اپنی رائے کا اظہار کرینگے ۔ اب تک ہیلاری کلنٹن اور ڈونالڈ ٹرمپ کے مابین روایت کے مطابق تین مباحث ہوئے ہیں اور اس کے جو نتائج میڈیا کے ذریعہ سامنے آئے ہیں ان میں ہیلاری کلنٹن کی کامیابی کے اشارے مل رہے ہیں۔ ویسے تو انتخابات میں قطعی نتیجہ کے اعلان تک کوئی بات قطعیت کے ساتھ نہیں کہی جاسکتی لیکن ہیلاری کلنٹن کی مقبولیت اور ڈونالڈ ٹرمپ کے اکھڑ مزاج ‘ بے ہنگم تبصروں اور ضدی رویہ کی وجہ سے یہ امکان غالب ہوتا جا رہا ہے کہ امریکہ میں اس بار بھی تاریخ بنے گی اور پہلی مرتبہ خاتون کو ملک کی صدر منتخب کیا جائیگا ۔ 2008 میں بھی امریکہ میں ایک نئی تاریخ رقم ہوئی تھی جب بارک اوباما کو صدر منتخب کیا گیا تھا ۔ اوباما صدارتی انتخاب جیتنے سے قبل امریکی ایوان نمائندگان کیلئے پارٹی کی امیدواری حاصل کرنے میں بھی ناکام رہے تھے تاہم وہ بعد میں جب امریکی سینیٹ کیلئے الینائیس سے مقابلہ کی مہم چلا رہے تھے اس وقت سارے ملک میں ان کی جانب توجہ مبذول ہونے لگی تھی ۔ وہ پہلے افریقی نژاد امریکی تھے جنہیں امریکہ میں صدر کے عہدہ پر منتخب کیا گیا تھا ۔ ان کے غیر امریکی ہونے سے زیادہ ’ تبدیلی ‘ کے نعرہ نے امریکی عوام کی توجہ حاصل کی تھی اور انہیں ایک ایسی کامیابی حاصل ہوئی جس نے امریکہ میں نئی تاریخ رقم کی تھی ۔ وہ امریکہ سے باہر پیدا ہوکر امریکہ کے صدر بننے والے پہلے شخص تھے ۔ 2008 سے دو معیادوں کیلئے امریکی صدارت پر فائز رہنے کے بعد اوباما وائیٹ ہاوز میں اب اپنے آخری ایام مکمل کر رہے ہیں۔ 8 نومبر کو وائیٹ ہاوز کیلئے کسی نئے مکین کا انتخاب ہونے والا ہے اور یہ سوال اہمیت حاصل کرتا جا رہا ہے کہ آیا اس بار بھی تاریخ رقم ہوگی ؟ ۔ کیا امریکی عوام ڈونالڈ ٹرمپ پر ہیلاری کلنٹن کو وائیٹ ہاوز کیلئے منتخب کرینگے ؟ ۔ آثار و قرائین اسی بات کی سمت اشارہ کرتے ہیں کہ جس طرح 2008 میں پہلی مرتبہ کسی افریقی نژاد کو وائیٹ ہاوز کیلئے منتخب کیا گیا تھا اسی طرح اس بار کسی خاتون کو وائیٹ ہاوز میں بحیثیت صدر بھیجا جائیگا ۔ ہیلاری کلنٹن اس سے قبل آٹھ برس کا عرصہ وائیٹ ہاوز میں بحیثیت خاتون اول گذار چکی ہیں ۔ تاہم اس بار اگر وہ منتخب ہوجاتی ہیں تو یہ صورتحال بالکل مختلف ہوگی اور ہیلاری کا موقف بھی سابقہ موقف سے یکسر مختلف ہوگا ۔ سابق میں وہ روایتی خاتون اول کی حیثیت سے جانی جاتی تھیں لیکن اس بار اگر وہ وائیٹ ہاوز میں داخلہ حاصل کرلیتی ہیں تو سارے اختیارات اور امریکہ کی مکمل باگ ڈور ان کے ہاتھ میںہوگی ۔

اس بار نئی تاریخ رقم ہونے کے امکانات اس لئے بھی زیادہ دکھائی دیتے ہیں کہ خود امریکی عوام میں ڈونالڈ ٹرمپ کی مقبولیت گھٹنے لگی ہے ۔ حالانکہ کچھ گوشے انہیں مستقبل کا صدر بناکر پیش کرنے کی ہرممکن کوشش کر رہے ہیں لیکن حالیہ عرصہ میں ڈونالڈ ٹرمپ کی مہم ان کی ناتجربہ کاری کی وجہ سے متاثر ہوکر رہ گئی ہے ۔ ان کا ایک متنازعہ ویڈیو منظر عام پر آیا تھا جس میں انہوں نے خواتین کے تعلق سے نازیبا ریمارکس کئے تھے ۔ امریکہ جیسے معاشرہ میں بھی انہیں پسند نہیں کیا گیا ۔ ہیلاری کے ساتھ تین مرتبہ کی مباحث میں وہ عوام کی خاطر خواہ تائید حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے ۔ انہوں نے صدارتی امیدوار بننے کیلئے چلائی گئی مہم میں اور پھر امیدواری حاصل کرنے کے بعد صدارتی مہم میں جو ریمارکس کئے ہیں انہیں بھی امریکہ کے عوام میں پسندیدگی کی نظر سے نہیں دیکھا گیا ہے ۔ یہ تاثر خود امریکہ میں عام ہوتا جا رہا ہے کہ ٹرمپ بحیثیت امریکی صدر خود امریکہ اور ساری دنیا کیلئے بھی خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں۔ عوام کا یہ ماننا ہے کہ بحیثیت امریکی صدر نہ صرف امریکہ میں بلکہ ساری دنیا میں پیش آنے والے غیر متوقع چیلنجس سے نمٹنا پڑسکتا ہے اور ٹرمپ میں اس کی اہلیت ندارد ہے ۔ ٹرمپ میں صبر و استقلال کی کمی بھی ہے اور وہ حالات کو صرف کاروباری اور تجارتی نقطہ نظر سے ہی دیکھنے کے عادی ہیں۔ بحیثیت امریکی صدر جس تدبر اور فراست کی ضرورت ہوتی ہے ٹرمپ اس سے عاری ہیں۔ ٹرمپ میں سرکاری کام کاج کے تجربہ کی کمی ہے ۔ انہوں نے اب تک نہ فوج میں کوئی خدمت انجام دی ہے اور نہ ہی وہ کسی حکومت کے عہدہ پر فائز رہے ہیں۔ ان میں ہنگامی حالات سے نمٹنے کی صلاحیت بالکل نہیں ہے ۔

یہ تجربہ کی کمی ہی ہے کہ انہوں نے محض عوامی توجہ حاصل کرنے کیلئے مسلمانوں کے امریکہ میں داخلہ کو روکنے کی بات کہی ہے ۔ ان کے اس ریمارک نے ساری مسلم دنیا میں انہیں غیرمقبول بنادیا ہے ۔ مسلم حکمرانوں کے ساتھ بھی ان کے تعلقات بہتر نہیں ہوسکتے اگر وہ صدر امریکہ منتخب ہوجاتے ہیں۔ اس کے علاوہ جو شدت پسند عناصر ہیں وہ عام مسلمانوں میں امریکہ کے خلاف جذبات کو بھڑکانے کیلئے ان کے انہیں ریمارکس کا استحصال کر رہے ہیں۔ امریکی عوام میں یہ احساس پیدا ہونے لگا ہے کہ ٹرمپ کے ریمارکس سے امریکہ کو درپیش خطرات میںاضافہ ہوگا اور القاعدہ اور آئی ایس آئی ایس جیسی تنظیمیں امریکہ کے خلاف اپنے عزائم کو پورا کرنے کیلئے کوشش کرسکتی ہیں ۔ ایسے میں وہ شائد ٹرمپ کے حق میں اپنے ووٹ کا استعمال کرنے سے گریز کریں۔ اس کے علاوہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سیاستدان اپنے عمل سے دوست بھی بناتے ہیں اور دشمن بھی بناتے ہیں۔ ٹرمپ نے اب تک جو مہم چلائی ہے اس میں انہوں نے دوست سے زیادہ مخالفین بنائے ہیں اور ان میں انتقامی جذبہ بھی بہت زیادہ دکھائی دیتا ہے ۔ اگر انہیں امریکی صدر منتخب کرلیا جاتا ہے تو وہ دوست اور دشمن میںامتیاز کو ختم کردینگے اور اپنی ذاتی نفرت کو عملی شکل دینے کیلئے اپنے عہدہ کا بیجا استعمال کرینگے ۔ ٹرمپ کے مخالفین کی فہرست میں نہ صرف مخالف سیاسی قائدین ہیں بلکہ بیرونی حکومتیں ہیں ‘ بیرونی کمپنیاں ہیں‘ صحافی ہیں اور خانگی شہری بھی ہیں جو انہیں شخصی طور پر پسند نہیں کرتے ۔ ٹرمپ کا یہ ریکارڈ ان کے امریکی صدر بننے کی راہ میں اصل رکاوٹ قرار دیا جا رہا ہے اور اسی کو دیکھتے ہوئے یہ امید کی جاسکتی ہے کہ امریکہ میں ایک نئی تاریخ رقم ہوسکتی ہے اور بحیثیت صدر ایک خاتون وائیٹ ہاوز میں داخلہ حاصل کرینگی ۔

TOPPOPULARRECENT