Monday , August 21 2017
Home / Top Stories / امریکہ میں مذہبی تکثیریت کیلئے امریکی اقلیتوں کا مظاہرہ

امریکہ میں مذہبی تکثیریت کیلئے امریکی اقلیتوں کا مظاہرہ

Vanita Gupta, head of civil rights division at the Department of Justice.

مسلم ‘ ہندو‘ سکھ امریکی شہریوں کے اجتماع سے امریکی محکمہ انصاف کی جسٹس ونیتا گپتا کا خطاب
واشنگٹن۔20ڈسمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) مسلم ۔ہندو اور سکھ اقلیتی گروپس آج وائیٹ ہاؤز کے روبرو ایک مظاہرہ میںشامل ہوگئے جس کا اہتمام بین مظاہر مخلوط اتحاد کی جانب سے کیا گیا تھا تاکہ امریکہ میں مذہبی تکثیریت کا تحفظ کیا جاسکے ۔ کیلیفورنیا نے دہشت گرد حملہ کے بعد جس میں 14 افراد ہلاک ہوگئے یہ مظاہرہ منعقد کیا گیاتھا ۔ امریکی محکمہ انصاف کی ونیتاگپتا نے اعلیٰ سطحی مذہبی رہنماؤں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نفرت پر مبنی تشدد اور تعصب کی مہذب سماج میں کوئی جگہ نہیں ہے ۔ یہ وفاقی شہری حقوق کے قوانین کی بھی خلاف ورزی ہے ۔ وہ محکمہ انصاف کے شہری حقوق شعبہ کی سربراہ ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ 11ستمبر کے بعد ہم اسی قسم کے واقعات کا حالیہ دنوں میں اعادہ دیکھ رہے ہیں ۔ سان برناڈینو نے اور پیرس میں دہشت گرد حملہ انتشار پسند لفاظی کا نتیجہ تھا جس کا مرکزی موضوع مذہبی تعصب تھا ۔ مختلف مذہبی فرقوں کے ارکان اور قائدین نے اس اجتماع سے خطاب کیا اور کہا کہ ہم نے مسلم والدین سے اُن کی اظہار فکرمندی کو سنا ہے جو انہیں اپنے بچوں کے تحفظ کے بارے میں درپیش ہے ۔

انہیں اسکول میں دھمکیاں دی جارہی ہیں ۔ ہم نے یہ اطلاعات بھی سنی ہے کہ مجرمانہ دھمکیاں اور تشدد مسجدوں‘ بچوں اور بڑوں کے خلاف  جاری ہے ۔ ان میں کئی واقعات کی تحقیقات بھی کی جارہی ہے ۔ امکان ہے کہ اس طرح کا متعصبانہ رویہ لاکھوں مسلمانوں کے ردعمل کی شکل میں ظاہر ہوگا اور امریکہ میں جہاں وہ اپنے مذہب پر پُرامن انداز میں عمل آوری کرتے ہیں ‘ اس قسم کی دھمکیاں انہیں مشتعل کردیں گی ۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان بھی دیگر امریکیوں کی طرح سے ہمارے مقامی کاروبار میں شریک ہیں ۔

ہمارے اسکولس میں اساتذہ کا کام انجام دیتے ہیں اور ہماری ٹیموں میں کھیلوں کے مقابلے میں شرکت کرتے ہیں ۔ ہمارے ملک کے دفاع کیلئے اپنی زندگیاں داؤ پر لگادیتے ہیں ۔ امریکہ ان سب کی وجہ سے خوشحال ‘ مستحکم اور محفوظ ہے ۔ عوام کا تنوع بھی امریکہ کی طاقت ہے ۔ جسٹس ونیتا گپتا نے 11ستمبر کے مابعد واقعات کے پس منظر میں کہا کہ مسلم برادری کی فکرمندی  بالکل جائز ہے ۔ شہری حقوق شعبہ نے ایک نئے اقدامات کا آغاز کیا ہے ۔ تعصب پر مبنی ردعمل کے خلاف جنگ جو عربوں ‘ مسلمانوں ‘ سکھوں اور جنوبی ایشیاء کے باشندوں سے برتا جارہا ہے جو امریکی شہری ہے اوران گروپس کے رکن ہونے کے باوجود دیگر امریکی شہریوں کے مساوی درجہ اورحق رکھتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT