Tuesday , October 24 2017
Home / مضامین / امریکہ میں مسلمانوں کی آمد پر امتناع کا متنازعہ مطالبہ

امریکہ میں مسلمانوں کی آمد پر امتناع کا متنازعہ مطالبہ

غضنفر علی خان
ایک ایسے دور میں جبکہ دنیا سکڑ کر ایک ’’عالمی گاؤں‘‘ بن گئی ہے امریکہ جیسے خود ساختہ انسانی مساوات کے دعویدار امریکہ میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں ری پبلکن پارٹی کے طاقتور امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’’جب تک امریکی تحقیقاتی ایجنسیاں یہ معلوم نہ کرلیں کہ آخر ہو کیا رہا ہے اور دہشت گردی کے ان واقعات کا مبدا کیا ہے ، ہمیں امریکہ میں مسلمانوں کی آمد پر مکمل امتناع عائد کرنا چاہئے‘‘ ۔ اگرچیکہ ان کے اس بیان کی موجودہ صدر امریکہ بارک اوباما اور تقریباً تمام سیاسی حلیفوں نے سخت مخالفت اور مذمت کی ہے لیکن پھر بھی یہ بات تشویشناک ہے کہ امریکہ میں بھی مسلمان دشمن عناصر موجود ہیں جو وقت آنے پر مسلمانوں کی امریکہ میں آمد پر روک لگانے کے حق میں ہیں ۔ یہ مسلم دشمنی آخر کیوں پیدا ہورہی ہے؟ اسکے اسباب وعلل کیا ہیں ، اس رائے کے پیدا ہونے کے لئے امریکہ میں مقیم مسلمانوں کا کیا حصہ ہے ۔ ان تمام باتوں کا جائزہ لینے کی سخت ضرورت ہے ۔ امریکہ دنیا کی سب سے بڑی طاقت ہے ۔ لیکن اس ملک میں حقیقت پسندوں کی تعداد زیادہ ہے ۔ ڈونالڈ ٹرمپ نے جوکچھ کہا اسکے پیچھے ایک خاص دہنیت کارفرما ہے ۔ ٹرمپ نے امریکہ کے مسلم ووٹوں کی پروا نہیں کی ۔ حالانکہ ان کی قابل لحاظ تعداد ہے اور صدارتی انتخابات پر مسلمان کسی نہ کسی حد تک اثر انداز ہوتے ہیں ۔ ٹرمپ کو یہودی لابی کی زبردست تائید حاصل ہورہی ہے اور یہ طبقہ امریکی معیشت کی رگ جان ہے  ۔انتخابات میں مالیہ کی فراہمی میں بھی یہی لابی اہم رول ادا کرتی ہے لیکن صرف یہودیوں کی خوشنودی کے لئے ٹرمپ نے یہ بات کہہ دی ۔ ایسا نہیں سوچا جاسکتا ہے ۔ اسی دوران امریکہ کی ریاست کیلی فورنیا میں ایک پاکستانی نژاد جوڑے کے ہاتھوں فائرنگ میں اس جوڑے سمیت 14 ہلاکتیں ہوئیں اور زائد از 20 افراد بری طرح سے زخمی ہوگئے ہیں ۔ یقیناً یہ کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے اور خاص طور پر کسی صدارتی امیدوار کے لئے تو یہ انتہائی موثر انتخابی حربہ بن سکتا ہے ۔ اسی واقعہ کے پس منظر میں ری پبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار ٹرمپ نے یہ بے تکا اور بے ہنگم بیان دیا ۔ ان کے بیان کی جس شدت سے امریکہ میں مخالفت ہورہی ہے اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ان کی بات میں کوئی دم نہیں ہے ۔ صدارتی انتخابات تو ہوجائیں گی لیکن تشویش کی بات یہ ہے کہ ٹرمپ کے بیان کی تائید کرنے والوں کی چھوٹی سی تعداد بھی امریکہ میں مقیم مسلمانوں کے لئے کیسے کیسے مسائل پیدا کرسکتی ہے ۔

 

امریکہ دودھ کا دھلا نہیں ہے ۔ وہاں موجود ’’گن کلچر‘‘ وہاں ہونے والے ہر پرتشدد واقعہ کا واحد سبب بھی ہے ۔ ہر پرتشدد واقعہ کے لئے امریکی مسلمانوں کو مورد الزام نہیں ٹھہرایا جاسکتا ۔ امریکہ میں مسلمانوں کی خاصی بڑی تعداد بستی ہے ۔ماضی میں کبھی کوئی ایسا واقعہ پیش نہیں آیا جیسا کہ کیلی فورنیا میں ہوا ۔جس جوڑے نے یہ بدبختانہ حرکت کی وہ پاکستانی نژاد بتایا گیا ہے ۔ اس جوڑے میں شامل خاتون نے پاکستان کے ایک دینی مدرسہ میں بھی تعلیم حاصل کی تھی ۔ حملہ میں شامل شحص کے والد نے اٹلی کے اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے یہ اعتراف کیا کہ ان کا بیٹا داعش سے بری طرح متاثر تھا اور اس راہ گم کردہ گروہ کے لئے کچھ بھی کرنے تیار تھا جس سے ثابت ہوتا ہے کہ عراق و شام میں برسراقتدار گروپ ’’داعش‘‘ کا اثر کس طرح سے ظاہر ہورہا ہے اور اس کا دائرہ اثر پھیلتا جارہا ہے ۔ اس کے زیر اثر اس پاکستانی جوڑے نے یہ واردات انجام دی ۔ بظاہر اگر عام امریکی یہ سوچے کہ داعش کا اثر بہت سے سارے مسلم نوجوانوں کو مختلف ممالک میں دیکھا جارہا ہے تو یہ کوئی غلط بات نہیں ہوگی  ۔البتہ خود امریکی معاشرہ اپنے تمام اخلاقی انحطاط کے باوجود وسیع النظر سمجھا جاتا ہے ۔ اس لئے ہی ڈونالڈ ٹرمپ کے بیان پر اتنی شدت سے مخالفت کی جارہی ہے اور ایسے آثار نمودار ہورہے ہیں کہ ٹرمپ کے بیان کا کوئی خاص اثر مرتب نہیں ہوگا ۔ جہاں تک ان کے متنازعہ بلکہ لغو اور بے محل بیان کا تعلق کا ذکر ہے ، یہ یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ اس پر عمل امریکہ میں نہیں ہوسکتا ۔ انھیں کسی گوشے سے تائید حاصل نہیں ہوسکتی ۔ ان کے بیان کے بعد جتنی شدت کے ساتھ خاص طور پر امریکی سیاسی حلقوں میں مذمت کی جارہی ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ کی فکر اور سوچ سے امریکی ذہن کبھی اتفاق نہیں کرسکتا ۔ ایوان وائٹ ہاوز کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ٹرمپ کا یہ بیان امریکہ کی اقدار کے منافی ہے ۔ حد یہ ہے کہ یہودی طبقہ کی حمایت کرنے والی تنظیم نے کہا کہ لوگوں کو مذہب اور عقیدہ کی بنیاد پر امریکہ آنے سے نہیں روکا جاسکتا ۔ امریکہ بھی دہشت گردی کا شکار ملک ہے ۔ گذشتہ پیر کے دن صدر بارک اوباما نے کھلے الفاظ میں کہا تھا کہ ’’امریکہ اگر دہشت گردوں کو شکست دینا چاہتا ہے تو اس کو مسلم طبقات کو اپنے ساتھ رکھنا پڑے گا‘‘ ۔ خود ری پبلکن پارٹی کے ایک اور صدارتی امیدوار اور ٹرمپ کے حریف نے تک ان کی اس بیان کی مخالفت کی ہے جس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ ٹرمپ کی بات ری پبلکن پارٹی کی اپنی پالیسی نہیں ہے بلکہ یہ ڈونالڈ ٹرمپ کی ذاتی رائے ہے ۔ ویسے بنیادی طور پر ڈونالڈ ٹرمپ امیگریشن پالیسی میں بنیادی تبدیلی کی بھی پرزور وکالت کرتے ہیں اور اس تعلق سے وہ اپنی پالیسی کا باقاعدہ انتخابی مہم کے دوران بار بار تذکرہ کرچکے ہیں ۔ کیلی فورنیا کے واقعہ سے پہلے بھی پیرس میں ہوئے خون خرابے کے بعد تو انھوں نے مسلمانوں (امریکی) کی مخالفت کو موضوع گفتگو بنالیا ہے ۔ ڈونالڈ ٹرمپ ابھی مقابلہ کررہے ہیں ابھی وائٹ ہاوز ان کی دسترس سے بہت دور ہے ، ان کے لئے امریکی صدارت کا حامل کرنا کافی مشکل کام ہے یعنی ان کے لئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ ’’ہنوز دلی دور است‘‘ یہ تصور بھی امریکی حکومت نہیں کرسکتی کہ امریکی امیگریشن قوانین میں اتنی بڑی تبدیلی لائی جاسکے گی ۔ مذہبی بنیادوں پر کوئی فرد امریکہ میں داخل ہوسکتا ہے یا نہیں ہوسکتا ، ڈونالڈ ٹرمپ کا یہ خیال ان کی حسرت بن کر رہ جائے گا ۔ ساتھ ہی ساتھ اس بات پر نہ صرف امریکہ میں مقیم مسلمانوں بلکہ اقطاع عالم میں بود و باش رکھنے والے سبھی مسلمانوں کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنے عمل سے یہ ثابت کردیں کہ وہ پرامن باشندے ہیں چونکہ دیکھا یہ گیا ہے کہ جس سمت امریکہ کے قدم اٹھتے ہیں ان کے نقش قدم بیشتر یوروپی ممالک چلنے لگتے ہیں ۔ امریکہ میں اگر خدانخواستہ ’’مخالف مسلم‘‘ لابی اپنا تھوڑا سا بھی اثر و رسوخ پیدا کرلے تو یوروپی ممالک اور دیگر مغربی ممالک میں مسلم مخالفت کی لہر چل سکتی ہے ۔ جہاں پر بھی مسلمان آباد ہیں وہ اس سرزمین کی فلاح و بہبود کے لئے جان توڑ محنت کرتے ہیں ۔ خود امریکہ میں بھی وہاں کے مسلمانوں نے ہر شعبہ حیات میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں ۔ حد تو یہ ہے کہ امریکی فوج میں بھی مسلمانوں نے مثبت رول ادا کیا ہے ۔ آج ہزاروں لاکھوں مسلمان امریکہ یوروپ اور آسٹریلیا میں برسوں سے مقیم ہیں ۔ انھوں نے کبھی کوئی پرتشدد کارروائی نہیں کی بلکہ اب تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ جن ممالک سے یہ مسلمان امریکہ آئے تھے ان ممالک کو تقریباً بھول چکے ہیں ۔ دہشت گردی سے بیرونی ممالک مستقل رہائش رکھنے والے مسلمان تو وہاں کی سرزمین کے لئے بڑی سے بڑی قربانی دیتے ہیں ۔ امریکہ کی وسیع المشربی امریکی ethos اسکی اجازت نہیں دیتا کہ وہاں کسی مخصوص مذہب کے ماننے والوں کا داخلہ روک دے ۔ مسلمان اپنی سرزمین سے محبت کرتا ہے ۔ اس کے خمیر میں وفاداری ہے وہ کسی ملک کا باشندہ بن کر خواہ امریکہ ہی کیوں نہ ہو اس ملک کے چھوٹے سے چھوٹے مفاد کا بھی سودا نہیں کرسکتا ۔

TOPPOPULARRECENT