Tuesday , July 25 2017
Home / دنیا / امریکہ میں ’’مسلمانوں کے گلے کاٹ دو‘‘ والے دھمکی بھرے مکتوب

امریکہ میں ’’مسلمانوں کے گلے کاٹ دو‘‘ والے دھمکی بھرے مکتوب

سلور اسپرنگ میری لینڈ کی دو مساجد کو میل وصول۔ نفرت پر مبنی جرائم اور واقعات میں اضافہ
واشنگٹن ۔ 2 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) امریکہ میں ’’مسلمانوں کے گلے کاٹ دو‘‘ والے دھمکی بھرے مکتوبات کی وصولی کے بعد مقامی مساجد کے ذمہ داروں نے چوکسی اختیار کرلی ہے۔ امریکی ر یاست میری لینڈ میں واقع دو مساجد کو دھمکی آمیز مکتوبات موصول ہوئے ہیں جن میں کہا گیا ہیکہ ’’مسلمانوں کے گلے کاٹ‘‘ دیئے جائیں۔ بظاہر یہ نفرت پر مبنی جرائم کے واقعات کا تسلسل معلوم ہوتا۔ سلور اسپرنگ میری لینڈ میں اسلامک سنٹرس کو پرتشدد اور دھمکی آمیز میل ملے ہیں۔ اسلامک ایجوکیشن سوسائٹی کے صدر کو اپنے میل باکس میں ایک لفافہ دستیاب ہوا جس میں سخت اور توہین آمیز ریمارکس لکھے ہوئے تھے۔ پیر کے دن ملنے والے اس مکتوب میں مسلمانوں کے خلاف شدید نفرت کا اظہار کیا گیا۔ کونسل آف امریکی اسلامک ریلیشنس نے کہا کہ اس مکتوب کی موصولی کے بعد پولیس کو مطلع کیا گیا۔ پولیس کا کہنا ہیکہ یہ واقعہ امکانی طور پر نفرت پر مبنی جرم سے تعلق رکھتا ہے جس کی تحقیقات کی جائے گی۔ امریکی مساجد کو نشانہ بنانے کے واقعات کے درمیان میل باکس میں ملنے والے مکتوبات کے باعث مساجد میں ایک طرح کی بے چینی پیدا ہوئی ہے لیکن اس کے باوجود مساجد میں مصلیوں کی تعداد میں اضافہ ہی دیکھا گیا ہے۔ اسلامک ایجوکیشن سوسائٹی میری لینڈ کے ٹرسٹی طیب محی الدین نے کہا کہ یہ ہمارے لئے دلی تکلیف کا باعث ہے لیکن ہم  ہر چیز کو کنٹرول نہیں  کرسکتے۔ میں نہیں جانتا کہ ان کے ذہنوں میں کیا ہے اور وہ کیا کرنا چاہتے ہیں۔ محی  الدین کو ان کے روزانہ کے میل کے ساتھ ایک تحریری نوٹ بھی ملا ہے اور اس کو پڑھا گیا جس میں لکھا گیا ہیکہ ہر ایک مسلمان کا گلہ کاٹ دینے کیلئے میں 100 ڈالر کی خیرات کرنے کیلئے تیار ہوں۔

اسی طرح کی تحریر والا ایک اور مکتوب مسلم کمیونٹی سنٹر پر بھی دستیاب ہوا جو اس مسجد سے چند کیلو میٹر دور واقع ہے۔ نیویارک ڈیلی نے یہ رپورٹ شائع کی ہے۔ اسی طرح کا پیام انڈکس کارڈ پر بھی آیا ہے۔ پولیس نے کہا کہ لفافہ پر یوروپ سے آنے والے اسٹامپس پائے گئے ہیں۔ سی اے آئی آر کے زینب چودھری نے کہا کہ حقیقت میں میرے اندر بے چینی پیدا ہوئی ہے اور مجھے غصہ بھی آرہا ہے کیونکہ آخر اس طرح کا نوٹ کون چھوڑ سکتا ہے اور اس کا تعلق کس سے ہے۔ مساجد میں ایسے واقعات عین اس وقت سامنے آتے ہیں جب نیویارک کے یہودی کمیونٹی سنٹرس کو بھی بم دھماکوں کی دھمکیوں کی لہر چل پڑی ہے۔ نیویارک کے علاوہ مشی گن ؍ نیوجرسی اور دیگر ریاستوں میں یہودیوں کو دھمکیاں دی گئی ہیں۔ گذشتہ ہفتہ میں ایک یہودی قبرستان میں درجنوں قبروں سے کتبے اکھاڑ پھینک دیئے گئے تھے۔ سینٹ لوٹس اور فیلاڈلفیا میں  یہودی قبرستانوں میں توڑپھوڑ کے واقعہ کے بعد مساجد کو دھمکیاں دی گئی ہیں۔ گذشتہ ہفتہ ہی ایک ہندوستانی کو امریکی شہری نے فائرنگ کرکے ہلاک کردیا تھا جبکہ اس نفرت پر مبنی جرم میں اس حیدرآبادی نوجوان کا ساتھی زخمی اور بیچ بچاؤ کرنے والا امریکی شہری زخمی ہوا تھا۔ 32 سالہ سرینواس کوچیکوٹلہ امریکی ریاست کنساس کے اولیتھ میں واقع جی پی ایس میکر گارمین ہیڈکوارٹرس پر کام کرتے تھے۔ انہیں بحریہ کے ایک آفیسر نے گولی مار کر ہلاک کردیا تھا۔ 51 سالہ بحری آفیسر نے ان ہندوستانیوں پر فائرنگ کرتے ہوئے میرے ملک سے چلے جاؤ کا بھی نعرہ لگایا تھا۔ صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اس طرح کے واقعات اور حملوں کی مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا ہیکہ ہم اس نفرت اور سماج دشمن عناصر کے خلاف متحد ہوکر کھڑے ہیں اور ان واقعات کی مذمت کرتے ہیں۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT