Sunday , September 24 2017
Home / Top Stories / امریکہ میں مسلم ممالک سے آنے والوں کا رجسٹریشن

امریکہ میں مسلم ممالک سے آنے والوں کا رجسٹریشن

ٹرمپ کے ایجنڈہ پر عمل آوری کی تیاری ،میکسیکو دیوار کی تعمیر کیلئے آرکیٹکٹ سے مشورہ

واشنگٹن ۔ ؍ قاہرہ ۔ 18 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) اب جبکہ امریکی نومنتخبہ صدر نے اب تک باقاعدہ طور پر اپنے عہدہ کا نہ حلف لیا ہے اور نہ جائزہ حاصل کیا ہے۔ تاہم انہوں نے اب یہ اشارہ دے دیا ہے اور اعلان بھی کیا ہیکہ اوباما انتظامیہ میں جن مسلم گروپس کا نام دہشت گرد گروپ کی فہرست میں شامل نہیں کیا گیا تھا ان پر امتناع عائد کیا جائے گا۔ 2015ء میں سینیٹر ٹیڈکروز نے جس قانون کو متعارف کیا تھا اس میں اوباما نے معمولی سی ترمیم کی تھی لیکن اب جبکہ ٹرمپ امریکہ کے آئندہ صدر منتخب کئے جاچکے ہیں، انہوں نے واضح طور پر کہا ہیکہ وہ شمالی امریکہ کی اسلامک سوسائٹی اخوان المسلمون (CAIR) کو دہشت گرد تنظیم تصور کریں گے۔ یاد رہیکہ CAIR دراصل وہی گروپ ہے جس کے قائد نے یہ اعلان کرکے کافی بدنامی مول لی تھی کہ اگر ہم باعمل مسلمان ہیں تو ہم ملک کے قانون سے بالاتر ہیں۔ دوسری طرف ٹرمپ کے ایک مشیر نے مصری ٹیلیویژن کو بتایا کہ منتخبہ صدر ان مسلم گروپس کو دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرنے کو ترجیح دیں گے۔ یاد رہیکہ اخوان المسلمون کی داغ بیل 1928ء میں ڈالی گئی تھی۔ تاہم 1970ء میں اس کے مکتب فکر میں تبدیلی واقع ہوگئی اور اسلامی تعلیمات اور اقدار کے فروغ کیلئے بطور ذریعہ استعمال کیا جانے لگا۔ 2004ء میں ایف بی آئی نے اخوان المسلمون کے ایک خفیہ مقام پر جب دھاوے کئے تھے اس میں پائی گئی دستاویزات کی تحریر کچھ اس طرح تھی۔ ’’امریکہ میں کام کرنا اور مغربی تہذیب کا نام و نشان مٹادینا ہمارے لئے سب سے بڑا جہاد ہے۔

ہمیں اللہ کے مذہب (اسلام) کو تمام دیگر مذاہب سے مقدم بنانا ہے۔ جب تک ہم سب میں اس حقیقت کو سمجھنے کی صلاحیت پیدا نہیں ہوتی ہم اس چیلنج کو قبول نہیں کرسکتے اور نہ ہی ہم جہاد کیلئے خود کو مکمل طور پر تیار پاسکتے ہیں۔ یہ ایک مسلمان کی تقدیر ہے جو جہاں بھی رہے اور اپنی آخری سانس تک جہاں بھی رہے، جہاد کرتا رہے۔ تقدیر کا لکھا بہرحال پورا کرتا ہے اس سے کوئی فرار نہیں ہوسکتا۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بھی ضروری ہیکہ یہ گروپ اور CAIR کا نام دہشت گردی کیلئے فنڈنگ معاملہ میں بھی لیا جاچکا ہے اور اسی معاملہ پر امریکہ میں اسے مقدمہ کا سامنا بھی ہے۔ ٹرمپ نے اخوان المسلمون کے خلاف جو کارروائی کرنے کے اشارے دیئے ہیں اس سے ڈیموکریٹس کی جانب سے زبردست احتجاج کیا جاسکتا ہے خاص طور پر ڈیموکریٹ قیادت کے ایک ممکنہ امیدوار منی سوٹا نمائندہ کیتھ ایلسین کی جانب سے احتجاج متوقع ہے کیونکہ وہ کیر اور اسنا دونوں کے زبردست حامی رہے ہیں۔ دوسری طرف ٹرمپ کانگریس کی منظوری کے بغیر میکسیکو کی سرحد پر بلند دیوار تعمیر کرنے کی بھی تیاری کررہی ہے جس کیلئے آرکیٹکٹ نے بھی ٹرمپ کو مشورے دینے شروع کردیئے ہیں جبکہ ٹرمپ کے پالیسی مشیران نے یہ تجویز رکھی ہیکہ مسلم ممالک سے امریکہ آنے والوں کا رجسٹریشن کیا جائے۔

TOPPOPULARRECENT