Thursday , August 24 2017
Home / اداریہ / امریکہ میں نائٹ کلب پر حملہ

امریکہ میں نائٹ کلب پر حملہ

بوئے تھے کانٹے اور تمہیں پھل کی ہے اُمید
آئی ہے فصل پوچھتے ہو خار زار کیوں ؟
امریکہ میں نائٹ کلب پر حملہ
امریکہ میں نفرت کی لہر کو بلند کرنے کے نتائج خون ریزی کے شکل میں نمودار ہورہے ہیں تو یہ تشویشناک صورتحال ہے۔ فلوریڈا کے شہر اورلینڈو میں ہم جنس پرستوں کے کلب کے اندر فائرنگ میں 50 افراد کی ہلاکت اور اتنی ہی تعداد میں افراد زخمی ہوئے۔ تحقیقات کے بعد یہ بتایا گیا کہ افغانستان سے تعلق رکھنے والے ایک خاندان کے امریکی شہری 29 سالہ نوجوان عمر متین صدیقی نے یہ کارروائی کی ہے۔ اس نوجوان کے والد نے واقعہ کے تناظر میں کہا کہ ان کے فرزند نے شہر میامی میں ایک مرد جوڑے کو کھلے عام ہم جنس پرستی کا بدترین مظاہرہ کرتے ہوئے بوس و کنار میں مبتلا پایا تھا اس طرح کے بڑھتے واقعات اور امریکہ میں ہم جنس پرستی کی لعنت کو ناپسند کرنے کا انجام خون ریز واقعہ ہوتا ہے تو اسے امریکہ جیسے آزاد خیال مہذب ملک کو کسی مذہبی دہشت گردی سے مربوط کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے۔ امریکہ میں گن کلچر کی وجہ سے جو حالات پیدا ہورہے ہیں اس میں اورلینڈو فائرنگ واقعہ بھی ایسا ہی ہے۔ مگر جن گروپس نے واقعہ کو دہشت گردی اور داعش سے مربوط کرنے کی کوشش کی ہے تو یہ امریکہ اور دیگر امن پسند ملکوں کے لئے مناسب نہیں ہے۔ تشدد اور فائرنگ جیسے واقعات کو ایک لیبل دینا مشکل امن کی مستقل امن کی کوششوں پرامن بقائے باہم کی فضا کو مکدر کردینے کے مترادف ہوگا۔ حکام نے اورلینڈو حملہ آور کے بارے میں کوئی حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا اور نہ ہی حملہ کے مقاصد کا پتہ چلایا ہے پھر بھی تبصرہ کرنے والوں نے اس واقعہ کو سنسنی خیز بنانے اور ایک مخصوص گروپ سے وابستہ کرنے کی کوشش شروع کی ہے۔ فائرنگ واقعہ کو امریکہ کے 9/11 واقعہ کے بعد سب سے بدترین سانحہ قرار دیا جارہا ہے جبکہ حقیقت میں یہ واقعہ ایسا ہی ہے جیسے ماضی میں رونما ہوئے فائرنگ واقعات میں امریکی اسکول میں فائرنگ واقعہ میں کئی درجن بچے ہلاک ہوئے تھے۔ بندوق کلچر اور نفرت پر مبنی جرائم کو 9/11 سے تعبیر کرنے کی مشیت کے پیچھے بھیانک انجام بھی یاد دلاتا ہے تو پھر اس سے امریکہ کے بشمول کسی بھی ملک کے حق میں بہتر نہیں ہوگا۔ مقامی سطح پر پیش آنے والے واقعے سے کسی بھیانک تباہی کی جانب توجہ دلانا افسوسناک کوشش ہے۔ امریکہ کے صدارتی انتحابات کے عین موقع پر اس طرح کے واقعات کو رونما کرنا یا ہونا اتفاقی بھی ہوسکتا ہے یا منظم سازش بھی ہوسکتی ہے۔ امریکی صدارتی امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ کی مخالف مسلم پالیسی کو کسی بھی زاویے سے مستحکم بنانے کی سازش رچی جاسکتی ہے۔ امریکی صدارتی انتخابات پر پوری دنیا کی نظریں لگی ہوئی ہیں۔ یہ دنیا کا ایسا جمہوری عمل ہے جس میں ریاستوں اور حکومتوں سے لے کر تیسری دنیا کے عام آدمی کی دلچسپی بھی ہے۔ اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ امریکہ اس وقت دنیا کا واحد سوپر پاور ملک ہے اور وہاں جب صدارتی انتخاب جیتنے کی بات آتی ہے تو رائے دہندوں کی رائے کو اپنی طرف مستحکم کرنے کے لئے مخالف مسلم امیدوار کچھ بھی سازش رچا سکتا ہے اور اورلینڈو واقعہ کے حوالے سے امریکہ میں ایک نئی نفرت کی لہر پیدا کرنے کی کوشش بھی کی جاسکتی ہے۔ مگر وہائٹ ہائوز اور اوباما نظم و نسق سرکاری گرفت کو کمزور ہونے نہیں دینا چاہئے۔ مذہبی اقوام میں نفرت پیدا کرنے کی چال کو ناکام بنانے کے لئے امریکی معاشرہ کو اپنے مہذب ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے اورلینڈو فائرنگ واقعہ کو امریکہ کی عام زندگی پر اثرانداز ہونے نہیں دینا چاہئے۔ فائرنگ اور اموات کا یہ سانحہ امریکی صدارتی انتخابات کے نتائج پر اثرانداز ہوجائے تو پھر ڈونالڈ ٹرمپ اور ہیلاری کلنٹن کے درمیان مقابلہ کے توازن میں فرق پیدا ہوگا۔ امریکی صدارتی انتخاب کے تعلق سے عام تاثر یہ ہوتا ہے کہ نیا منتخب صدر امریکہ کی داخلی اور خارجی پالیسیوں پر اثرانداز ہوتا ہے اور ڈونالڈ ٹرمپ اس وقت امریکہ کی داخلی اور خارجی پالیسیوں کو اپنی مرضی سے تبدیل کرنے کے لئے کچھ بھی کرسکتے ہیں تو امریکہ کی پرامن سرزمین کو سیاسی مفاد پرستی کے ذریعہ نفرت سے دوچار کرسکتے ہیں۔ لہٰذا اورلینڈو فائرنگ واقعہ کو صرف ایک جنونی کی کارروائی تصور کرکے شدید مذمت کی جانی چاہئے۔

TOPPOPULARRECENT