Friday , September 22 2017
Home / دنیا / امریکہ میں نفرت انگیز جرائم سے نمٹنے اسپیشل ٹاسک فورس کا قیام

امریکہ میں نفرت انگیز جرائم سے نمٹنے اسپیشل ٹاسک فورس کا قیام

جرائم کا خاتمہ اٹارنی جنرل جیف شینز کی اولین ترجیح، ’’داخلی دہشت گردی‘‘ سے تعبیر
واشنگٹن ۔ 3 مئی (سیاست ڈاٹ کام) امریکہ میں ہونے والے نفرت انگیز جرائم نے جہاں ایشیائی باشندوں کو پریشان کررکھا ہے وہیں اس کی گونج اب دنیا کے تمام اہم ممالک کے برسراقتدار ایوانوں تک بھی پہنچ گئی ہے۔ امریکہ میں فی الحال ایسا کوئی دن نہیں گزرتا جب ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف یا نفرت انگیز جرائم کے خلاف کوئی احتجاجی مظاہرہ نہ ہوتا ہو۔ شاید یہی وجہ ہیکہ امریکی صدر نے بھی اب ان جرائم کا سخت نوٹ لیتے ہوئے اس کی بیخ کنی کو اولین ترجیحات میں شامل کردیا ہے۔ ہندو اور سکھوں کے خلاف بھی جرائم کا ارتکاب ہوا ہے۔ دریں اثناء جسٹس ڈپارٹمنٹ کے ایک سینئر عہدیدار نے سینیٹ جوڈیشیری کمیٹی کی ایک سماعت کے دوران کمیٹی کو نفرت انگیز جرائم کی تفصیلات بتائی جو دراصل ہندوؤں اور سکھوں کے خلاف کئے گئے تھے۔ یہی نہیں بلکہ حجاب پوش خواتین کو بھی نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری ہے جہاں ان کی تضحیک کی جاتی ہے اور کبھی کبھی حجاب نوچ کر پھینک دیا جاتا ہے۔ دریں اثناء خصوصی کونسل برائے مذہبی امتیاز (سیول رائٹس ڈیویژن) ایریک ٹیرین نے بتایا کہ اٹارنی جنرل جیف شینز نے بھی نفرت انگیز جرائم کے خلاف لڑائی کو اپنی اولین ترجیح بنا لیا ہے۔ نفرت انگیز جرائم بھی  اب رنگ و نسل، مذہب، ذات پات، قومیت، صنفی امتیاز، جنسی میلان کو مدنظر رکھ کر کئے جارہے ہیں۔ مسٹر ٹیرین نے کہا کہ اب نفرت انگیز جرائم کا خاتمہ ہمارا قومی مشن ہونا چاہئے۔ شاید ایسی لئے ٹرمپ انتظامیہ نے ایک خصوصی ٹاسک فورس تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ حالیہ دنوں میں نفرت انگیز جرائم میں اضافہ سے امریکہ کی نیک نامی کو داغدار کردیا ہے۔

ماہ فروری میں شینز نے کرائم ریڈکشن اینڈ پبلک سیفٹی کیلئے ایک خصوصی ٹاسک فورس تشکیل دی تھی۔ اس ٹاسک فورس کی نفرت انگیز جرائم سے متعلق ایک ضمنی کمیٹی ہوگی جو نفرت انگیز جرائم سے نمٹنے کے طریقہ کار کی منصوبہ بندی کرے گی تاکہ تمام امریکیوں کے حقوق کا بہتر تحفظ کیا جاسکے۔ 29 جون کو نفرت انگیز جرائم کی ضمنی کمیٹی ایک اضافی اجلاس کا انعقاد کرے گی جس میں جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کی شناخت، ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی اور سب سے اہم نفرت انگیز جرائم کی روک تھام پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔ اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کنساس سٹی میں جن دو ہندوستانیوں پر حملہ کیا گیا تھا جن میں سے ایک کی موت واقع ہوگئی تھی، اس واقعہ کی تحقیقات ہنوز جاری ہے۔ دوسری طرف سینیئر چک گراسلی جو سینیٹ جوڈیشیری کمیٹی کے صدرنشین بھی ہیں، نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت امریکہ میں نفرت انگیز جرائم کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے ہندو، سکھ اور مسلمانوں کا نام نہیں لیا بلکہ یہ کہا کہ یہودیوں کے خلاف نفرت انگیز جرائم کی شرح سب سے زیادہ ہے۔ 2014ء اور 2015ء کے درمیان جرائم کی شرح 67 فیصد تک ہوچکی ہے۔ ہندوستانی نژاد امریکی ونیتا گپتا نے بھی اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج حال یہ ہیکہ امریکہ میں اکثر لوگ خود کو غیرمحفوظ تصور کرتے ہیں۔ انہیں ایسا لگتا ہیکہ وہ امریکی شہری نہیں بلکہ ’’درانداز‘‘ ہیں۔ ونیتا گپتا سابق اوباما انتظامیہ کے تحت جسٹس ڈپارٹمنٹ میں سیول رائٹس کی سابقہ عہدیدار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سکھوں کو مسلمان سمجھ لیا جاتا ہے اور ان پر حملے ہوتے ہیں حالانکہ سکھوں نے بھی امریکہ کی ترقی میں اہم رول ادا کیا ہے جس کی ایک طویل تاریخ ہے۔ یہی نہیں بلکہ دیگر ایشیائی ممالک سے تعلق رکھنے والوں کو بھی مسلمان سمجھ کر نشانہ بنایا جاتا ہے۔ لہٰذا ہم سب کا یہ فرض ہیکہ نفرت انگیز جرائم پر قابو پانے ہم اپنے اپنے طریقوں سے کام کریں۔ نفرت انگیز جرائم کو امریکہ کی داخلی دہشت گردی سے تعبیر کیا جارہا ہے۔

TOPPOPULARRECENT