Thursday , July 27 2017
Home / دنیا / امریکہ میں 5 سالہ طالب علم کو خاتون ٹیچر کی زدوکوب

امریکہ میں 5 سالہ طالب علم کو خاتون ٹیچر کی زدوکوب

صرف مسلمان ہونے کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا۔ تحقیقات کروانے مسلم سیول حقوق تنظیم کا مطالبہ
واشنگٹن 24 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) امریکہ میں کے جی کے طالب علم ایک 5 سالہ مسلم بچے کو ایک خاتون ٹیچر نے حملہ کا نشانہ بنایا۔ ڈونالڈ ٹرمپ کے امریکی صدر منتخب ہوجانے کے بعد ایسے واقعات میں اضافہ ہوگیا ہے۔ کہا گیا ہے کہ خاتون ٹیچر نے 5 سالہ مسلم لڑکے کا گلا پکڑ لیا اور اسے دھکے لگانے لگیں۔ ملک کی سب سے بڑی مسلم سیول حقوق تنظیم کونسل برائے اسلامی امریکی تعلقات نے ایک خاتون ٹیچر کی جانب سے 5 سالہ مسلم لڑکے پر حملے کے واقعہ کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ کہا گیا ہے کہ یہ واقعہ شمالی کیرولینا کے چارلوٹ مکلین برگ ایلیمنٹری اسکول میں پیش آیا۔ کہا گیا ہے کہ یہاں اس طرح کا واقعہ اسکولی سال کے آغاز میں بھی پیش آیا تھا لیکن یہ تازہ ترین واقعہ گزشتہ ہفتے کا ہے۔ تنظیم کی وکیل انسانی حقوق ماہا سید نے کہاکہ اسکولی سال کے ابتدائی دو ماہ کے دوران اس طالب کو نہ صرف اس کے کلاس کے ساتھیوں نے بلکہ ٹیچر نے بھی مذاق کا نشانہ بنایا تھا۔

انھوں نے مثال دیتے ہوئے کہاکہ ٹیچر نے اس طالب علم کو سب سے الگ کرکے وزنی بستہ دن بھر اس کی پیٹھ پر لادے رکھا۔ اس بستے میں کتابیں، ہیڈ فونس وغیرہ تھے اور اس سلوک کی وجہ سے طالب علم کی پیٹھ میں درد ہوگیا۔ اس ٹیچر نے طالب علم کو کئی موقعوں پر سخت سلوک کا شکار کیا اور اسے ’’خراب مسلم لڑکا‘‘ قرار دیا تھا۔ ماہا سید نے بتایا کہ 16 نومبر کو اس ٹیچر نے طالب علم تک پہونچ کر اس کا گریبان پکڑ لیا اور اسے دھکے دینے لگیں۔ ایک اور ٹیچر نے اس موقع پر مداخلت کی۔ دونوں کو علیحدہ کیا۔ بچے کو تسلی دی جو رو رہا تھا اور صدمہ کا شکار تھا۔ جس ٹیچر نے طالب علم کے ساتھ امتیازی سلوک کیا اس کا نام نیویارک ڈیلی نیوز نے الما سمپسن بتایا ہے۔ اسکول کی ایک ترجمان نے بتایا کہ یہاں محفوظ کلاس رومس پر توجہ دی جاتی ہے۔ امتیاز برتنے سے گریز کیا جاتا ہے۔ ان الزامات کو سنجیدگی سے لیا گیا ہے اور ان کی تحقیقات کی جارہی ہیں۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT