Saturday , September 23 2017
Home / Top Stories / امریکہ نے جو کچھ مجھے دیا ، میں اُسے واپس دینا چاہتا ہوں: ٹرمپ

امریکہ نے جو کچھ مجھے دیا ، میں اُسے واپس دینا چاہتا ہوں: ٹرمپ

میں کوئی سیاست داں نہیں ، پنسلوانیا میں آخری چند ریالیوں سے ٹرمپ کا خطاب
ویلی فورج (یو ایس) ۔ 2 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) ری پبلیکن صدارتی امیدوار نے جب ڈیڑھ سال قبل اپنی انتخابی مہم شروع کی تھی اور جن مدعوں کا احاطہ کیا تھا۔ ان مدعوں کا آج بھی جبکہ رائے دہی کو صرف پانچ دن باقی ہیں، وقتاً فوقتاً تذکرہ کرتے رہتے ہیں۔ اب انہوں نے کہا ہے کہ وہ صدر بننے کی صورت میں ملک سے اوباما کے نقش پا کو بالکل مٹادیں گے اور جتنی بھی ملازمتیں جو حقیقتاً امریکی شہریوں کے لئے ہونی چاہئے تھیں، اور جنہیں بیرونی ممالک کے دیگر لوگوں نے ہتھیا لیا، ان تمام ملازمتوں کو امریکہ واپس لے کر آئیں گے۔ انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ وہ کوئی سیاست داں نہیں ہیں۔ انتخابی میدان میں صرف اس لئے کودے ہیں کہ وہ اس امریکہ کو بہت کچھ دینا چاہتے ہیں جس نے انہیں بہت کچھ دیا ہے۔ پنسلوانیا میں ایک ریالی سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہماری زیادہ تر توجہ ہیلتھ کیر پر مرکوز ہوگی۔ انہوں نے اوباما کیر کو ’’ایک آفت‘‘ سے تعبیر کیا جس پر اگر بروقت قابو نہیں پایا گیا تو وہ امریکہ کو تباہ کرسکتا ہے۔ ٹرمپ نے پُرعزم لہجہ میں کہا کہ صدر بننے کی صورت میں سب سے پہلے وہ کانگریس کو ایک خصوصی اجلاس کا انعقاد کرنے کی ہدایت دیں گے تاکہ (اس وقت تک سابق صدر ہوجانے والے) بارک اوباما کے ہیلتھ کیر پروگرام کو کالعدم کیا جاسکے۔8 نومبر کو جب ہم جیتیں گے اور ایک ری پبلیکن کانگریس کا انتخاب کریں گے تو ہم اس موقف میں ہوں گے کہ فوری اثر کے ساتھ اوباما کیر کو کالعدم قرار دیں لہذا کانگریس کو خصوصی طور پر ایک سیشن کا انعقاد کرنا ناگزیر ہوگا۔

اوباما کیر ایک آفت ہے۔ اوباما نے کہا تھا کہ اگر آپ کو اپنا منصوبہ پسند ہے تو اپنا منصوبہ اپنے پاس رکھیں۔ اگر آپ کو اپنا ڈاکٹر پسند ہے تو اسے رکھ لیجئے جو اس صدی کا سب سے بڑا جھوٹ ثابت ہوگا۔ یہاں تک کہ ہچکچاہٹ کا شکار ڈیموکریٹکس نے بھی اس بیان پر یقین کرلیا اور قانون سازی کردی۔ کسی نے بھی 2,700 صفحات پر مشتمل بِل کو پڑھنے تک کی زحمت گوارہ نہیں کی۔ ٹرمپ کے ساتھ ریالی میں اس وقت ان کے نائب صدارتی امیدوار مائیک پنس اور صدارتی عہدہ کے سابق امیدوار بین کارسن بھی تھے۔ ٹرمپ نے کہا کہ اب امریکہ میں نئی قیادت کا وقت آگیا ہے۔ انہوں نے ایک بار پھر اپنی بات دہرائی اور کہا کہ صدر کی حیثیت سے وہ امریکہ کو وہ سب کچھ دینا چاہتے ہیں جو امریکہ نے انہیں دیا ہے۔ میں نے ایک شاندار زندگی گزاری ہے اور مجھے اپنے ملک سے بے انتہا پیار ہے۔ اسی لئے میں اپنے وطن کے لئے وہی محبت نچھاور کردوں گا جس نے اپنی محبت مجھ پر نچھاور کی اور مجھے اتنا بڑا آدمی بنایا۔ اتنا سنتے ہی وہاں موجود عوام کے ہجوم نے زبردست تالیاں بجائیں

جس میں کوئی سیاسی شخصیت نہیں ہوں ، زندگی میں میرا مقصد ہے ، صرف امریکی عوام کی فلاح و بہبود ۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ امریکی عوام اب اپنے پرانے قائدین سے یہ سنتے سنتے تھک گئے ہیں ، جہاں وہ یہ کہتے ہیں کہ امریکی عوام اپنے خوابوں کی تکمیل کسی اور دن کرلیں اور یہ دن سیاست دانوں کے لئے دس سال کے برابر ہوتا ہے۔ ٹرمپ نے اپنی ڈیموکریٹک حریف ہلاری کلنٹن کو اوباما کیر کو مزید وسعت دینے اور اسے مزید مہنگا کردینے کی کوشش کرنے پر تنقیدوں کا نشانہ بنایا اور کہا کہ محترمہ ہیلتھ کیر پر حکومت کا مکمل کنٹرول چاہتی ہیں۔ اگر ہم نے اب بھی غفلت کی اور اوباما کیر کو کالعدم نہیں کیا تو یہ امریکی ہیلتھ کیر کو ہمیشہ کیلئے برباد کردے گا۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی میدان میں آنے کی چند وجوہات میں سے یہ بھی ایک وجہ ہے کہ 8 نومبر کا الیکشن وہ ہر قیمت پر جیتنا چاہتے ہیں۔ اس موقع پر عوام کے ہجوم نے ٹرمپ، ٹرمپ، امریکہ کو پھر عظیم بناؤ جیسے نعرے لگانے شروع کردیئے۔ 8 نومبر کو تقدیر کس پر مہربان ہوگی۔ یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا تاہم ہلاری کلنٹن کا صدر بننا اس لئے بھی اہمیت کا حامل ہوگا کہ ایک تو موصوفہ تجربہ کار ہیں اور دوسری طرف اگر وہ صدر بن گئیں تو امریکہ کی تاریخ کی پہلی خاتون صدر ہوں گی۔

TOPPOPULARRECENT