Tuesday , October 17 2017
Home / دنیا / امریکہ نے حقانی نیٹ ورک کے عبدالعزیز حقانی کو عالمی دہشت گرد قرار دیدیا

امریکہ نے حقانی نیٹ ورک کے عبدالعزیز حقانی کو عالمی دہشت گرد قرار دیدیا

امریکہ میں عزیز حقانی کے اثاثہ جات ضبط کرلئے جائیں گے
فغانستان میں امریکی، افغان اور ہندوستانی تنصیبات پر حملہ کی منصوبہ بندی اور عمل آوری

واشنگٹن 24 اگسٹ (سیاست ڈاٹ کام) امریکہ نے پاکستان کے انتہائی خطرناک حقانی نیٹ ورک کے ایک اعلیٰ سطحی قائد عبدالعزیز حقانی کو ’’خصوصی عالمی دہشت گرد‘‘ قرار دیا ہے جس کے لئے امریکہ نے افغانستان پر حملہ کی منصوبہ بندی اور اس پر عمل آوری کے لئے عبدالعزیز حقانی کو ذمہ دار قرار دیا ہے۔ امریکہ کی جانب سے ’’خصوصی عالمی دہشت گرد‘‘ کی ایک فہرست تیار کی گئی ہے جس میں عبدالعزیز حقانی کا نام بھی شامل کیا گیا ہے

اور اس طرح حقانی کی شمولیت کے بعد وہ بھی اب امریکی تحدیدات کے دائرہ میں آگیا ہے جس کے تحت کسی بھی امریکی شہری کو اُس سے روابط نہ رکھنے اور ساتھ ہی ساتھ امریکہ میں اس کے جو بھی اثاثہ جات ہیں، ان کی ضبطی عمل میں آئے گی۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ عبدالعزیز حقانی نے القاعدہ سے مربوط حقانی نیٹ ورک کی قیادت اپنے بھائی بدرالدین حقانی کی موت کے بعد سنبھالی تھی جبکہ گزشتہ سال اگسٹ میں امریکہ نے عبدالعزیز حقانی کے محل وقوع کا پتہ بتانے والے کے لئے 5 ملین امریکی ڈالرس انعام کا اعلان کیا تھا۔ عزیز حقانی، حقانی نیٹ ورک کا ایک سینئر رکن اور حقانی نیٹ ورک قائد سراج الدین حقانی کا بھائی ہے۔ عرصہ دراز تک عزیز حقانی اور افغانستان میں آئی ای ڈی حملوں کی منصوبہ بندی اور اُن پر عمل آوری میں ملوث رہا جہاں اُس کا خصوصی نشانہ سرکاری تنصیبات تھیں۔ اپنے بھائی بدرالدین حقانی کی موت کے بعد حقانی نیٹ ورک کے ذریعہ کئے جانے والے تمام حملوں کی ذمہ داری سنبھال لی۔ اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے یہ تفصیلات فراہم کیں۔ یاد رہے کہ 2012 ء میں اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے حقانی نیٹ ورک کو بیرونی دہشت گرد تنظیم قرار دیا تھا۔

حقانی نیٹ ورک ہی وہ تنظیم ہے جس نے افغانستان میں امریکی مفادات کے خلاف اغواء اور حملوں کے متعدد واقعات کی منصوبہ بندی کی تھی۔ امریکی مفادات کے علاوہ اس نیٹ ورک نے افغان حکومت اور شہریوں کو بھی نشانہ بنایا تھا۔ البتہ اس گروپ کو افغانستان میں کئی ہندوستانی تنصیبات کو نقصان پہنچانے کا بھی ذمہ دار قرار دیا گیا جس میں سب سے اہم 2008 ء میں کیا گیا وہ بم دھماکہ ہے جو کابل کے ہندوستانی مشن پر کیا گیا تھا جس میں 58 افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ جاریہ سال جون میں افغانستان کے محکمہ انٹلی جنس ایجنسی نے حقانی نیٹ ورک سے وابستہ شورش پسندوں کے ایک گروپ کو گرفتار کیا تھا جس نے پاکستان سے ایک گیسٹ ہاؤز پر دہشت گرد حملہ کا منصوبہ تیار کیا تھا جس میں یہاں کے 14 افراد بشمول چار ہندوستانی ہلاک ہوگئے تھے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ دہشت گرد حملہ آوروں نے یہ سمجھ کر حملہ کیا تھا کہ اس وقت گیسٹ ہاؤس میں ہندوستانی سفیر موجود ہوں گے لیکن دہشت گردوں کو غلط فہمی ہوئی تھی کیوں کہ اس وقت امر سنہا وہاں موجود نہیں تھے۔ بہرحال اس وقت حقانی نیٹ ورک امریکہ کی آنکھ کا کانٹا بنا ہوا ہے اور ممکن ہے کہ آئندہ کچھ عرصہ میں عبدالعزیز حقانی کے خلاف کوئی ٹھوس امریکی کارروائی حقانی نیٹ ورک کی کمر توڑنے کی کوشش ضرور کی جائے گی۔

TOPPOPULARRECENT