Wednesday , August 23 2017
Home / Top Stories / امریکہ نے میرے دورہ پاکستان کیلئے مالی امداد کی تھی : ڈیوڈ ہیڈلی

امریکہ نے میرے دورہ پاکستان کیلئے مالی امداد کی تھی : ڈیوڈ ہیڈلی

ممبئی حملوں سے دو سال قبل لشکر طیبہ کو تقریباً 70 لاکھ روپئے کا عطیہ بھی دینے کا دعویٰ، ویڈیو کانفرنس کے ذریعہ جرح

ممبئی 23 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) پاکستانی امریکی دہشت گرد ڈیوڈ ہیڈلی نے آج کہاکہ امریکہ نے اس کے دورہ پاکستان کے لئے ایک مرتبہ مالی امداد کی تھی اور اس نے دعویٰ کیاکہ اس نے ممبئی حملوں سے دو سال قبل 2006 ء تک لشکر طیبہ کو تقریباً 70 لاکھ روپئے کا ’’عطیہ‘‘ بھی دیا تھا۔ 55 سالہ دہشت گرد ہیڈلی نے جس کا امریکہ سے ویڈیو رابطہ کے ذریعہ جرح کیا گیا ، عدالت سے کہاکہ 1998 ء میں اس کی گرفتاری کے بعد امریکی ڈرگ انفورسمنٹ اتھاریٹی نے میرے دورہ پاکستان کے اخراجات برداشت کئے تھے اور مالی مدد بھی کی گئی تھی۔ اس وقت کے ڈرگ انفورسمنٹ اتھاریٹی کے ساتھ میرا ربط تھا لیکن یہ صحیح نہیں ہے کہ 1988 ء اور 1998 ء کے درمیان میں نے ڈرگ انفورسمنٹ اتھاریٹی کو معلومات فراہم کئے تھے یا اس کی مدد کی تھی۔ ہیڈلی جو 26/11 کیس میں معافی یافتہ گواہ بن گیا ہے اور امریکہ میں 35 سال کی جیل کی سزا کاٹ رہا ہے، ان اطلاعات کو متضاد بتایا ہے کہ اس کو لشکر طیبہ سے رقم حاصل ہوئی تھی۔ میں نے لشکر طیبہ سے رقم ہرگز نہیں لی۔ یہ سراسر احمقانہ بات ہے بلکہ میں نے خود لشکر طیبہ کو فنڈس دیئے تھے۔ میں لشکر طیبہ کو 60 تا 70 لاکھ پاکستانی روپئے عطیہ دیا تھا جب تک میں اس تنظیم سے وابستہ رہا میں نے ہی امداد دی تھی۔ میں نے آخری عطیہ 2006 ء میں دیا تھا۔ ہیڈلی نے عدالت کو بتایا کہ لشکر طیبہ کو یہ رقم کسی خاص کارروائی کے لئے نہیں دی گئی بلکہ عام عطیہ کے طور پر دی گئی تھی۔ یہ عطیہ کی رقم میں نے اپنے نیویارک میں تجارت کے ذریعہ دی تھی اور مجھے جو کچھ آمدنی ملتی اس میں سے میں عطیہ کی رقم نکال دیتا۔ پاکستان میں جائیدادوں کی خریدی اور فروخت سے جو مجھے ملتا تھا اس میں سے رقم نکالی جاتی تھی۔ مجھے یہ یاد نہیں ہے کہ آیا میں نے امریکی حکام کو لشکر طیبہ کو دیئے جانے والے میرے عطیات کی اطلاع دی تھی۔ ڈیوڈ ہیڈلی کے شواہد کے اعتبار پر شک کرتے ہوئے 26/11 حملہ کے سازشی ابو جندال کے وکیل نے آج بحث کی کہ اس دہشت گرد کو ماضی میں دو مرتبہ سزا ہوچکی ہے۔ ممبئی حملوں سے قبل وہ جیل جاچکا ہے

وہ مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے علاوہ امریکی حکومت کے ساتھ کئے گئے معاہدوں میں سودے بازی کی بھی درخواست کی تھی۔ ہیڈلی کو امریکہ میں عدالت نے سزا سنائی ہے۔ ابو جندال کے وکیل عبدالوہاب خاں نے کہاکہ دونوں موقع پر ہیڈلی نے امریکی حکومت کے ساتھ معاہدہ کرتے ہوئے سودے بازی کی ہے جس کے بعد سے کم سے کم سزا ہوئی۔ ہیڈلی نے عدالت سے کہاکہ 1988 ء میں اس کی چار سال سزا ختم ہونے کے بعد وہ 1992 ء سے 1998 ء تک منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث رہا اور اس مدت کے دوران پاکستان کا بھی دورہ کیا۔ استغاثہ کی عدالت میں ویڈیو رابطہ کے ذریعہ کیس کی سماعت کے بعد کارروائی بند کردی گئی تھی۔ آج سے جرح کا دوبارہ آغاز ہوا ہے۔ امریکہ کے نامعلوم مقام سے بیان دیتے ہوئے اس نے عدالت کو بتایا کہ  یہ ممکن نہیں تھا کہ اس کے عطیہ جات کو 26/11 دہشت گرد حملوں کے لئے استعمال کیا گیا ہو۔

TOPPOPULARRECENT