Sunday , October 22 2017
Home / دنیا / امریکہ کا حلیف سعودی عرب ’دہشت گردی کا حقیقی سرپرست‘

امریکہ کا حلیف سعودی عرب ’دہشت گردی کا حقیقی سرپرست‘

اسلامی جمہوریہ ایران عراق اور شام میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں آگے ‘ وزارت خارجہ کے ترجمان کا بیان
تہران۔5جون ( سیاست ڈاٹ کام ) ایران نے آج امریکہ کی ایران کو بلیک لسٹ کرنے کی خبر کو دہشت گردی کی سرکاری سرپرستی قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کردیا ۔ ایران نے الزام لگایا کہ امریکہ کے حلیف ممالک بشمول سعودی عرب حقیقی دہشت گردی کے سرپرست ہے ۔ وزارت خارجہ ایران نے اپنے بیان میں کہا کہ پڑوسی ملک عراق نے دولت اسلامیہ کے جہادی گروپ کے خلاف حکومت کی تائید امریکہ زیر قیادت اتحاد سے کوئی تعلق نہیں رکھتی ۔ شامی حکومت کی تائید بھی جہادیوں اور دیگر باغیوں کے خلاف ہے ‘ جن میں سے بعض کی تائید سعودی عرب کررہا ہے ۔ وزارت خارجہ ایران کے ترجمان حسین جابر انصاری نے سرکاری خبر رساں ادارہ ’’ ارنا ‘‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے وسیع سیاسی اور مالیتی تائید کی طرف سے اپنی آنکھیں بند کرلیں ہیں جو دنیا بھر میں من مانی چلا رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کے اس علاقہ میں حلیف ممالک مختلف طریقوں سے دولت اسلامیہ کی اور دیگر دہشت گرد گروپس کی تائید کرتے ہیں ۔  اسلامی جمہوریہ ایران ان سب کے خلاف جنگ میں سب سے آگے ہے ۔

عراق اور شام میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھی ایران ہی صف اول میں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کی اسرائیل کے لئے تائید حالانکہ فلسطینی سرزمین پر کئی دہائیوں سے اسرائیل نے قبضہ کر رکھا ہے جس کی وجہ سے اسے سرکاری دہشت گردی کا سب سے بڑا سرپرست قرار دیا جاسکتا ہے ۔ اپنی تازہ ترین سالانہ رپورٹ میں جو جمعرات کے دن شائع کی گئی دفتر خارجہ امریکہ نے کہا تھا کہ ایران نے فلسطینی عسکریت پسند گروپس کی غزہ میں گذشتہ سال تائید کی تھی ۔ علاوہ ازیں لبنانی شیعہ گروپ حزب اللہ کی بھی تائید کرتا ہے جس نے شام میں صدر بشارالاسد کی تائید میں اپنے ہزاروں جنگجو تعینات کررکھے ہیں ۔ حسین جابرانصاری نے کہا کہ ایران عراقی شیعہ دہشت گرد گروپس کو اپنی تائید میں بشمول خطیب حزب اللہ میں اضافہ کرچکا ہے ۔ یہ امریکہ کا تیار کی ہوئی غیر ملکی سیاحتی تنظیم ہے ۔ یہ دولت اسلامیہ کے خلاف جنگ کرنے کا ایک حصہ ہے ۔ خطیب حزب اللہ ایران کی حمایت یافتہ عراق میں شیعہ عسکریت پسند تنظیموں میں سے ایک ہے جس نے حکومت کی سنی انتہا پسندوں کے خلاف جنگ میں نمایاں کردار ادا کیا ہے ۔ ایران دولت اسلامیہ کو اکثر سنی انتہا پسندوں کا نام دیتا ہے ۔ بغداد سے موصولہ اطلاع کے بموجب دولت اسلامیہ کا ایک سینئر کمانڈر شمالی شام سے بذریعہ کار گزر رہا تھا تاکہ عسکریت پسندوں کی جنگ میں قیادت کرسکے ‘ جب کہ اس کی گاڑی پر ڈرون حملہ کیا گیا جس کی وجہ سے ابوہیجا التونسی  ایک تونسی مجاہد ہلاک ہوگئے جس کی وجہ سے دولت اسلامیہ کے صفوں میں دہشت گردی کی لہر دوڑ گئی ۔ جن جاسوسوں نے اس ہلاکت کی خبر دی ہے ان کے بموجب اس امریکی زیر قیادت اتحاد کے حملہ میں خود اس کے 38ارکان ہلاک ہوگئے۔

TOPPOPULARRECENT