Tuesday , October 24 2017
Home / دنیا / امریکہ کی جیٹ انجن ٹکنالوجی کی ہندوستان سے تبادلہ پالیسی میں نرمی

امریکہ کی جیٹ انجن ٹکنالوجی کی ہندوستان سے تبادلہ پالیسی میں نرمی

امریکی وزیردفاع ایشٹن کارٹر اور وزیردفاع ہند منوہر پاریکر کی بات چیت، وزیراعظم ہند کی پالیسی کو بھی تقویت
واشنگٹن ۔ 11 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) ہند ۔ امریکہ کے درمیان ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اعتماد سازی کا سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ تاہم اسے امریکہ کی خارجہ پالیسی سمجھنا چاہئے یا نہیں، اس کا فیصلہ تو سیاسی تجزیہ نگار ہی کرسکتے ہیں البتہ امریکہ نے اب اپنی اسی حکمت عملی کے تحت گیس ٹربائن انجن ٹیکنالوجی کو ہندوستان منتقل کرنے کی اپنی پالیسی پر نظرثانی کی ہے جس کا واضح مطلب یہ ہیکہ اس ٹیکنالوجی کے ذریعہ ضرورت پڑنے پر ہندوستان سے بھی تعاون طلب کیا جاسکے اور اس طرح انتہائی حساس جیٹ طیاروں کے کل پرزوں کے ڈیزائن اور تیاری میں مدد مل سکے۔ امریکی وزیردفاع ایشٹن کارٹر نے ہندوستانی وزیردفاع منوہر پاریکر کو ان کے دورہ امریکہ پر یہ بات بتائی تھی۔ ایشٹن کارٹر اور پاریکر نے اس طرح دونوں ممالک کے لئے جیٹ طیاروں کے کل پرزوں کی تیاری میں باہمی تعاون کیلئے اعتماد سازی کی ابتداء کردی اور اب ایسی امریکی کمپنیاں جو اس شعبہ میں اپنی ہندوستانی ہم منصب کمپنیوں کے ساتھ برسرکار ہیں، انہیں اب ٹیکنالوجی کے تبادلہ کیلئے راضی کیا جائے گا۔ دونوں قائدین کی جانب سے ملاقات اور ٹیکنالوجی کے تبادلہ پر رضامندی کے بعد ایک مشترکہ بیان بھی جاری کیا گیا تھا۔

دونوں قائدین نے اپنی ملاقات کے دوران دفاعی ٹیکنالوجی اور ٹریڈ انی شیٹو DTTI کے موضوعات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا تھا۔ ڈی ٹی ٹی آئی نے اس سلسلہ میں اب تک کی گئی کارروائی پر اپنے اطمینان کا اظہار کیا ہے اور دونوں ممالک نے مستقبل میں بھی جیٹ طیاروں کے کل پرزوں کی تیاری کو بڑے پیمانے پر بڑے پراجکٹس کے ساتھ تیار کرنے پر رضامندی کا اظہار کیا جو انتہائی اعلیٰ درجہ کی ٹیکنالوجی سے مربوط ہوں گے۔ ایرکرافٹ کیریئر ٹیکنالوجی کوآپریشن کے جوائنٹ ورکنگ گروپ (JWGACTC) پر پاریکر اور کارٹر نے ایرکرافٹ لانچ اینڈ ایکوئٹی (ALRE) کے شعبوں میں مشترکہ سرگرمیاں چلانے اور فروری 2016ء میں دوسرے اجلاس کے انعقاد تک ترقی کی رفتار کو جوں کا توں قائم رکھنے کا عہد کیا۔ انہوں نے اس بات پر بھی اطمینان کا اظہار کیا کہ جیٹ انجن ٹیکنالوجی جوائنٹ ورکنگ گروپ (JETJWG) جس کا جاریہ ہفتہ بنگلور میں اجلاس منعقد ہوا تھا، وہاں ’’ٹرمس آف ریفرنس‘‘ کے موضوع پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا تھا اور اس شعبہ میں باہمی تعاون کی ضرورت پر زور دیا گیا تھا۔ اس موقع پر میڈیا کے ساتھ بات چیت کے دوران کارٹر نے بتایا کہ ڈی ٹی ٹی آئی ہند ۔ امریکی دفاعی شراکت داری کا ایک انتہائی اہم جزو ہے جو دراصل صنعت سے صنعت تعلقات کو مضبوط کرنے استعمال کیا جائے گا جس کی شناخت دراصل دفاعی شعبوں میں ترقی اور پیداوار کیلئے معاونت کا بھی حصہ ہوگا۔ ایشٹن کارٹر نے اعتراف کیا کہ پاریکر کے ساتھ جیٹ انجن اور ایرکرافٹ کیریئر ڈیزائن اور اس کی تعمیر کے موضوعات کے علاوہ دیگر زائد پراجکٹس جو دونوں ممالک کے مفاد میں ہیں، کے موضوع بھی زیربحث آئے اور سب سے اہم بات یہ ہیکہ اس کی وجہ سے وزیراعظم ہند مودی کی ’’میک ان انڈیا پالیسی‘‘ کو بھی تقویت حاصل ہوگی۔

TOPPOPULARRECENT